Updated: January 04, 2026, 4:22 PM IST
| Thiruvananthapuram
قطر کے ایک عرب شخص نے ۴۶؍ سال پرانی خاندانی دوستی کے باعث مملکت سے دور کیرالا (ہندوستان) کا سفر طے کیا تاکہ اس خاندان سے ملاقات کر سکے جس کے ساتھ اس نے زندگی بھر کا گہرا رشتہ قائم کیا ہے۔ محبت، احترام اور وفاداری کی اس داستان کو ڈاکٹر الون پانڈن نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جو دنیا بھر میں تعریف اور جذباتی ردِعمل کا باعث بنی ہے۔
ایک عرب شخص نے قطر سے کیرالا تک کا طویل سفر کیا تاکہ اس خاندان سے ملاقات کر سکے جس کے ساتھ اس کا رشتہ ۴۶؍ سال پرانا ہے۔ یہ رشتہ عام تعلقات سے کہیں بڑھ کر ہے، یہ احترام، لگاؤ اور وفاداری پر مبنی دوستی ہے جو سرحدوں اور وقت کی حدوں کو توڑ کر زندہ ہے۔ ڈاکٹر الون پانڈن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اس دل کو چھو لینے والی ملاقات کا ویڈیو اور تصاویر شیئر کیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں خاندان کتنی خوشی گرمجوشی سے ایک دوسرے سے مل رہے ہیں۔
یہ دوستی کس طرح شروع ہوئی؟
اس ویڈیو اور پوسٹس کے مطابق، یہ دوستی اس وقت شروع ہوئی جب عرب مہمان نے کیرالا میں ایک خاندان کے ساتھ کام یا ملازمت کے دوران تعلق قائم کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، وہ صرف ایک کام کا رشتہ نہیں رہا بلکہ ایک گہری انسان دوستی، اعتماد اور باہمی کشش میں بدل گیا۔ یہ روایت اس بات کی علامت ہے کہ اگر تعلقات احترام اور محبت پر مبنی ہوں، تو وہ نہ صرف زندگی بھر قائم رہ سکتے ہیں بلکہ فاصلے، نسل اور ثقافت کی دیواریں بھی عبور کر سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جذباتی ردِعمل
سوشل میڈیا صارفین نے اس داستان کو بہت پذیرائی دی ہے، خاص طور پر اس میں انسانیت، دوستی اور حکایتی رشتوں کے پیغامات کو سراہا جا رہا ہے۔ کئی لوگوں نے تبصرہ کیا ہے کہ ایسا حقیقی رشتہ شاذ و نادر ہی ملتا ہے اور اس طرح کے لمحات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ محبت کا رشتہ سرحدوں سے بالا تر ہوتا ہے۔
یہ کہانی اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ دنیا آج جہاں ڈجیٹل کنیکٹیویٹی اور سوشل میڈیا کے ذریعے جڑی ہوئی ہے، وہاں یہ رشتے نہ صرف جذباتی طور پر مضبوط ہوں گے بلکہ ثقافتی تبادلے اور باہمی احترام کا بہترین ثبوت بھی ہیں۔ مختلف قومیت کے لوگوں کے درمیان ایسے تعلقات کو دیکھ کر دنیا بھر کے صارفین نے تعریف کے جذبات کا اظہار کیا ہے، جس سے عالمی بھائی چارے کا پیغام بھی ملتا ہے۔