Updated: October 04, 2026, 9:08 PM IST
| New Delhi
ہندوستان میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ پر مبنی خدمات اور تیزی سے بڑھتی ڈجیٹل معیشت کے باعث ڈیٹا سینٹر کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی کے ساتھ ملک کی مختلف ریاستوں کے درمیان ان مراکز میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لیے مسابقت بھی تیز ہوگئی ہے۔
ڈیٹا سینٹر۔ تصویر:آئی این این
ہندوستان میں مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ پر مبنی خدمات اور تیزی سے بڑھتی ڈجیٹل معیشت کے باعث ڈیٹا سینٹر کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی کے ساتھ ملک کی مختلف ریاستوں کے درمیان ان مراکز میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری حاصل کرنے کے لیے مسابقت بھی تیز ہوگئی ہے۔ ریاستی حکومتیں سرمایہ کاروں کو زمین، بجلی، مالی مراعات اور سرکاری منظوریوں کے عمل کو تیز کرنے جیسے اقدامات کی پیشکش کر رہی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بڑے منصوبوں کو اپنی ریاست کی جانب راغب کیا جاسکے۔
یہ بھی پڑھئے:مانچسٹر یونائیٹڈ نے ۲۵۰؍ویں میچ کو یادگار بنا دیا، لیورپول کو شکست
اعداد و شمار کے مطابق تلنگانہ، مہاراشٹر، اتر پردیش اور گجرات اس دوڑ میں نمایاں مقام حاصل کر رہے ہیں۔ ایس اینڈ پی گلوبل کے ڈیٹا سینٹر پالیسی کشش اشاریے میں تلنگانہ مجموعی طور پر سب سے زیادہ پرکشش ریاست قرار پائی، جبکہ مہاراشٹر، اتر پردیش اور گجرات بھی سرمایہ کاروں کے لیے مضبوط مراعات کے باعث نمایاں ہیں۔ ان ریاستوں کی کشش میں بجلی کی مسابقتی قیمتیں، زمین کی دستیابی، سرمایہ جاتی معاونت، آسان سرکاری منظوری اور کاروباری سہولت کاری اہم عوامل ہیں۔
ڈیٹا سینٹر کے لیے مسلسل اور قابل اعتماد بجلی بنیادی ضرورت ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت سے متعلق جدید حسابی نظام عام ڈیٹا سینٹر کے مقابلے میں کہیں زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے ریاستیں بجلی کے نرخوں میں رعایت، قابل تجدید توانائی تک رسائی اور مخصوص بجلی فراہمی کے انتظامات کے ذریعے سرمایہ کاروں کو متوجہ کر رہی ہیں۔ گجرات نے بجلی سے متعلق مراعات میں خاص طور پر مضبوط پالیسی اختیار کی ہے۔ اس کی نئی پالیسی کے تحت بنیادی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والی کم از کم ۵۱؍ فیصد بجلی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
بڑے ڈیٹا سینٹر کے قیام کے لیے وسیع زمین اور مستقبل میں توسیع کی گنجائش درکار ہوتی ہے۔ مرکزی حکومت کی حالیہ مشاورت میں بھی ایسی زمین کی نشاندہی اور مخصوص زمین کے ذخائر تیار کرنے پر زور دیا گیا ہے جہاں بجلی اور بنیادی سہولتیں پہلے سے دستیاب ہوں۔ اس کا مقصد سرمایہ کاروں کو زمین حاصل کرنے اور بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے میں لگنے والا وقت کم کرنا ہے۔ گجرات نے ۲۰۲۶ء سے ۲۰۲۹ء کے لیے اپنی نئی ڈیٹا سینٹر پالیسی متعارف کرائی ہے، جس کا مقصد تقریباً ۶؍ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری حاصل کرنا اور ۵ء۷؍ گیگاواٹ گنجائش پیدا کرنا ہے۔ ریاست نے محصولاتی رعایتوں، بجلی سے متعلق امداد، زمین کی خرید یا لیز پر محصولاتی چھوٹ، تعمیراتی ضوابط میں نرمی اور دیگر مالی مراعات کا اعلان کیا ہے۔ گجرات خاص طور پر دھولیرا علاقے کو بڑے ڈیٹا سینٹر کے لیے تیار کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سِنگیتَم شری نواس راؤ کے انتقال پر جنوبی ہند کی فلم انڈسٹری سوگوار
اتر پردیش نے بھی اپنی نئی ڈیٹا سینٹر پالیسی منظور کی ہے۔ ریاست کا ہدف ۲؍لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری حاصل کرنا اور ۲؍گیگاواٹ سے زائد گنجائش تیار کرنا ہے۔ نئی پالیسی میں مصنوعی ذہانت سے متعلق حسابی نظام اور ایسے مراکز کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جو مستقبل کی زیادہ بجلی اور حسابی صلاحیت کی ضروریات پوری کرسکیں۔ آندھرا پردیش وشاکھاپٹنم کو مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیٹا سینٹر کے بڑے مرکز کے طور پر ترقی دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ریاست نے ۲۰۳۰ءتک ۶؍گیگاواٹ سے زیادہ گنجائش کا ہدف رکھا ہے اور۶؍ لاکھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبوں کی منصوبہ بندی یا تیاری کا ذکر کیا ہے۔ دوسری جانب ادیشہ بھی اس شعبے میں داخل ہوچکا ہے اور ریاست میں پہلے مصنوعی ذہانت مرکز کے قیام کے منصوبے سامنے آئے ہیں۔
سرمایہ کاروں کے لیے صرف زمین اور بجلی کافی نہیں، بلکہ منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے سرکاری اجازتوں کا تیز حصول بھی انتہائی اہم ہے۔ مرکزی حکومت نے حالیہ مشاورت میں یک دریچہ منظوری کے نظام، تعمیراتی ضوابط میں مناسب تبدیلی اور منصوبوں کی تکمیل کا وقت کم کرنے پر زور دیا ہے۔ قومی تعمیراتی ضابطے ۲۰۲۶ء میں بھی ڈیٹا سینٹر کو الگ زمرے میں تسلیم کرتے ہوئے ان کے لیے مخصوص حفاظتی اور کارکردگی سے متعلق تقاضے شامل کیے گئے ہیں۔