نااہلی کےنوٹس کو راجیہ سبھا کے چیئرمین کے ذریعہ نظر انداز کئے جانے پر سنجے سنگھ برہم، ایوان بالا میں ’آپ‘ کے صرف ۳؍ ایم پی رہ گئے، این ڈی اے کے ۱۴۸؍ ہوگئے
EPAPER
Updated: April 28, 2026, 12:09 AM IST | Hamidullah Siddiqui | New Delhi
نااہلی کےنوٹس کو راجیہ سبھا کے چیئرمین کے ذریعہ نظر انداز کئے جانے پر سنجے سنگھ برہم، ایوان بالا میں ’آپ‘ کے صرف ۳؍ ایم پی رہ گئے، این ڈی اے کے ۱۴۸؍ ہوگئے
راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے راگھو چڈھا اوران کے ساتھیوں کے خلاف عام آدمی پارٹی کےنااہلی کے نوٹس کو نظرانداز کرتے ہوئے پیر کو بی جےپی میں اُن کے انضمام کو منظوری دیدی۔ اس پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے اس کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجونے ایکس پر اعلان کیا کہ ’’راجیہ سبھا کے معزز چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے ’آپ‘ کے۷؍اراکین کے بی جے پی میں انضمام کو قبول کر لیا ہے۔ اب وہ بی جے پی پارلیمانی پارٹی کے رکن ہیں۔‘‘
دل بدلی کو چیئر مین رادھا کرشنن کی منظوری ملتے ہی راجیہ سبھا کے ریکارڈ میں راگھو چڈھا، اشوک متل، سندیپ پاٹھک، ہربھجن سنگھ، راجندر گپتا، وکرم جیت ساہنی اور سواتی مالیوال بی جے پی کے اراکین پارلیمان بن گئے ہیں۔ اس طرح ۲۴۵؍ رکنی راجیہ سبھا میں بی جےپی کے اراکین کی تعداد ۱۱۳؍ اور این ڈی اے کے اراکین کی مجموعی تعداد ۱۴۸؍ ہوگئی ہے۔ این ڈی اے ایوان بالا میں اکثریت سے محض ۱۰؍ عددپیچھے رہ گیا ہے۔ دوسری طرف راجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کے اراکین کی تعداد ۱۰؍ سے گھٹ کر ۳؍ ہوگئی ہے۔ گزشتہ روز ہی عام آدمی پارٹی نےراجیہ سبھا کے چیئرمین کو درخواست دیکر مطالبہ کیا تھا کہ منحرف ہونے والے ساتوں اراکین کی رکنیت منسوخ کی جائے کیونکہ انہوں نے دل بدل قانون کی خلاف وزری کی۔نوٹس میں آئین کے ۱۰؍ شیڈول کا حوالہ دیا گیا تھا۔
سنجے سنگھ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ ان ۷؍ اراکین پارلیمان نے بی جے پی میں انضمام کو تسلیم کرنے کیلئے خط دیا تھاجسے چیئر نے قبول کر لیاگیا۔‘‘انہوں نے الزام لگایا کہ ’’آپ‘‘ کے اعتراضات، جن میں آئین کی دسویں شیڈول کے تحت ان کی نااہلی کا مطالبہ بھی شامل تھا، پر غور نہیں کیا گیا۔ سنجے سنگھ نے راجیہ سبھا کے سیکریٹری جنرل کو لکھے گئے اپنے خط میں کہاکہ’’یہ میرے علم میں لایا گیا ہے کہ راجیہ سبھا سیکریٹریٹ کے سرکاری ریکارڈ، دستاویزات اور اشاعتوں میں درج’آپ‘ کی پارٹی پوزیشن کو یکطرفہ طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے پارٹی یا ایوان میں اس کےلیڈر کو اس کی پیشگی اطلاع دی گئی نہ ان کی منظوری حاصل کی گئی۔‘‘ سنجے سنگھ نے کہاکہ’’چیئرمین نے ان ۷؍ اراکین پارلیمان کی طرف سے جمع کرائے گئے خط کا نوٹس لیا اور ان کے انضمام کو قبول کر لیا۔ ہمارے اٹھائے گئے اعتراضات اور آئین کی دسویں شیڈول کے تحت نااہلی کی درخواست پر سرے سے غور ہی نہیں کیا ۔‘‘انہوں نے کہا کہ پارٹی کو امید تھی کہ چیئرمین آئین اور جمہوریت کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے ان ۷؍اراکین کو نااہل قرار دیں گے۔ اس کے ساتھ ہی ہار نہ مانتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ ’’ہم عدالت سے رجوع کریں گے۔ اس طرح کسی پارٹی کو توڑنا غلط ہے۔‘‘
سنجےسنگھ نے اتوار کو راجیہ سبھا کے چیئرمین کو باغی اراکین کی نااہلی کیلئے جو عرضی دی ہے اس میں آئین کے دسویں شیڈول کے پیراگراف۴؍ کےتحت انضمام کو چیلنج کیا گیا ہے اور اس کے پیراگراف۲(۱)(الف)کے تحت اراکین پارلیمنٹ کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس ذیلی پیراگراف کی شق (الف) مزید وضاحت کرتی ہے کہ ایسی نااہلی اس وقت ہوتی ہے جب رکن نے رضاکارانہ طور پر اس سیاسی جماعت کی رکنیت ترک کردی ہو جس سے وہ منتخب ہوا ہو۔ دسویں شیڈول کے مطابق، اراکین پارلیمنٹ کی نااہلی اس صورت میں نہیں ہو سکتی جب کوئی اصل سیاسی جماعت کسی دوسری سیاسی جماعت میں ضم ہو جائے اور اس انضمام میں دو تہائی اراکین شامل ہوں۔