انہوں نے بطور اداکار پیارے لال سنتوشی کی فلم ’ہم ایک ہیں ‘ سے اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا، یہ ایک ایسی فلم تھی جس میں رحمان کےساتھ ہی دیوآنند اور گرودت کو بھی پہلی بار موقع دیا گیا تھا۔
EPAPER
Updated: August 16, 2026, 2:04 PM IST | Anis Amrohvi | Mumbai
انہوں نے بطور اداکار پیارے لال سنتوشی کی فلم ’ہم ایک ہیں ‘ سے اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا، یہ ایک ایسی فلم تھی جس میں رحمان کےساتھ ہی دیوآنند اور گرودت کو بھی پہلی بار موقع دیا گیا تھا۔
ہندوستانی فلموں میں جہاں ہیرو کا بہت اعلیٰ قسم کا کردار ہوتا ہے اور وہ تمام برائیوں سے پاک ہوتا ہے، وہیں ایک کردار بُرے آدمی کا ہوتا ہے، جس میں وہ تمام برائیاں ہوتی ہیں جن کے سہارے وہ فلم کے آخر تک ہیرو پر طرح طرح کی آفتیں توڑتا رہتا ہے اور فلم کے اختتام میں وہ اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ کہانیوں میں ایک کردار ایسا بھی ہوتا ہے جو بُرا تو نہیں ہوتا مگر انجانے میں ہی کچھ غلط حرکتیں کر بیٹھتا ہے، یا ویلن جیسا دکھائی دیتا ہے، مگر غلط فہمیاں دُور ہوتے ہی وہ ہیرو اور ہیروئین کیلئے بے مثال قربانی پیش کرتا ہے اور دونوں کے راستے سے ہٹ جاتا ہے۔ اس طرح فلم کے اختتام تک وہ ہیرو کے مقابلے میں زیادہ داد وصول کر لیتا ہے اور خود ہیرو بن جاتا ہے۔
اپنے زمانے کے مشہور اداکار رحمان نے بھی کئی فلموں میں اسی طرح کے کردار ادا کئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان فلموں میں ہیرو کے مقابلہ میں وہ زیادہ پسند کئے گئے۔ رحمان نے سب سے پہلے پیارے لال سنتوشی کی فلم ’ہم ایک ہیں ‘ میں کام کیا تھا۔ یہ فلم ایسی تھی کہ اس میں کئی نئے چہروں کو پہلی بار چانس دیا گیا تھا۔ ان میں رحمان کے علاوہ دیوآنند اور گرودت کے نام قابل ذکر ہیں۔ یہ تینوں ہی نام ایسے ہیں کہ جنہوں نے آگے چل کر بہت نام کمایا۔
اسفلم میں رحمان کی اداکارانہ صلاحیتوں کو سراہا تو گیا تھا مگر ہیرو کے طور پر انہیں زیادہ کامیابی نہیں ملی۔ اس کے برعکس دیوآنند ہیرو کے طور پر زیادہ کامیاب ہوتے چلے گئے۔ انہوں نے بطور ہیرو کامیابی کی انتہائی منزلوں کو چھونے کے ساتھ ہی فلم میکنگ میں بھی کئی اچھی فلموں کی تخلیق کی ہے۔ اسی طرح گرودت نے بھی اپنی قابلیت اور فنکارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے فلم انڈسٹری میں اپنا ایک یادگار مقام چھوڑا ہے۔ رہی بات رحمان کی تو انہوں نے پہلی فلم ہی سے عوام کی پسندیدگی اور مقبولیت حاصل کر لی تھی اور آخر تک وہ فلم بینوں کے پسندیدہ اداکار کی حیثیت سے اپنی روایت کو برقرار رکھے رہے۔
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب رحمان کا خاندان غیرمنقسم ہندوستان کے صوبہ پنجاب کے بین الاقوامی شہرت یافتہ شہر لاہور میں مسکن تھا۔ حالانکہ اس خاندان کا تعلق ایرانی نسل سے تھا اور وہاں شاہی خاندان میں ان کی قریبی رشتہ داریاں بھی تھیں۔ لاہور میں ہی ۲۳؍جون ۱۹۲۳ء کو سعیداللہ رحمان کا جنم ہوا۔ کالج تک کی تعلیم انہوں نے جبل پور کے رابن سن کالج سے حاصل کی اور جلد ہی انڈین ایئرفورس میں پائلٹ کے طور پر ملازمت حاصل کر لی لیکن اس ملازمت سے وہ جلدی ہی اُکتا گئے اور ۱۹۴۴ء میں ممبئی آکر پربھات اسٹوڈیو میں ہدایتکار وِشرام بیڈیکر کے ساتھ ان کے تیسرے اسسٹنٹ کے طور پر وابستہ ہو گئے۔ فلم کا نام تھا ’لاکھا رانی‘۔ انہوں نے بطور ایک پائلٹ دوسری جنگ عظیم میں بھی حصہ لیا تھا۔ ان کی شخصیت بہت پُرکشش اور متاثرکن تھی۔ وہ شطرنج کے ایک بہترین کھلاڑی بھی تھے اور ایک بار مہاراشٹرا اسٹیٹ کی چمپئن شپ بھی جیت چکے تھے۔
رحمان فلم انڈسٹری میں اپنے ۳۶؍ سالہ کریئر کے دوران اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کے بل بوتے پرعوام کے دلوں پر راج کرتے رہے۔ ان کی آواز میں جادو تھا جسے کہیں بھی سُن کر یہ بات آسانی سے کہی جا سکتی تھی کہ وہ رحمان کی آواز ہے۔ اسی طرح ان کے مکالمے ادا کرنے کا بھی اپنا ہی ایک الگ انداز تھا، جو اُن کا اپنا تھا۔ انہوں نے بطور ہیرو چند ہی فلموں میں کام کیا جن میں ’شاہجہاں (۱۹۴۶ء)، تحفہ (۱۹۴۷ء)، پیار کی جیت (۱۹۴۸ء)، بڑی بہن (۱۹۴۹ء)، مغرور (۱۹۵۰ء)، پردیس (۱۹۵۰ء)، پیار کی منزل(۱۹۵۰ء)، شادی کی رات (۱۹۵۰ء)، فریادی (۱۹۵۳ء) اورگوہر‘ (۱۹۵۳ء) جیسی فلموں کے نام قابل ذکر ہیں۔
فلم ’گوہر‘ میں اُن کی ہیروئن بینا رائے نے بھی بہترین اداکاری کی ہے۔ بطور ہیرو یہ فلم رحمان کی آخری فلم تھی۔ نرگس، ثریا، نمی، نگار سلطانہ، منور سلطانہ، نلنی جیونت اور مدھوبالا کے ساتھ وہ ہیرو کے کرداروں میں آئے ضرور تھے مگر کبھی ہیروز کی صف اوّل میں نہ آسکے اور جلد ہی سائڈ رول کرنے شروع کر دیئے۔
فلم ’گوہر‘ (۱۹۵۳ء) کے بعد رحمان کافی دنوں تک اسکرین سے غائب رہے۔ اُس زمانے میں گرودت اور رحمان پربھات فلم کمپنی میں ایک ساتھ ملازم تھے۔ گرودت اس وقت ڈانس ڈائریکٹر اور معاون ہدایتکار ہوا کرتے تھے۔ رحمان سے اُن کی بڑی دوستی تھی۔ تب گرودت اکثر کہا کرتے تھے کہ کبھی وقت نے ساتھ دیا اور میں فلمساز یا ہدایتکار بنا تو اپنے دوستوں کو ضرور کام دیا کروں گا۔ لوگ ان کی بات سن کر ہنس دیا کرتے تھے لیکن یہ وعدہ گرودت نے زندگی بھر نبھایا۔ گرودت جب فلم ’چودھویں کا چاند‘ (۱۹۶۰ء) بنا رہے تھے، تب سب سے پہلے انہوں نے رحمان سے پوچھا کہ کیا تم میری فلم میں کام کروگے؟ بھلا رحمان اپنے دوست کو انکار کیسے کر سکتے تھے؟ اس طرح رحمان کے فلمی کریئر کا دوسرا دَور فلم ’چودھویں کا چاند‘ سے پھر شروع ہو گیا۔ بطور سائیڈ ہیرو یہی ان کی پہلی فلم تھی۔ ان کی آخری فلم ’آہستہ آہستہ‘ ۱۹۸۱ء میں ریلیز ہوئی تھی جس میں انہوں نے ڈاکٹر صدیقی کا کردار ادا کیا تھا۔ ہیرو اور سائیڈ ہیرو کے مقابلے میں رحمان نے کریکٹر ایکٹر کے بطور زیادہ مقبولیت اور شہرت حاصل کی۔
یہ بھی پڑھئے: ایک کہانی پر ۴؍مختلف زبانوں میں فلم بنائی گئی، چاروں سپر ہٹ ثابت ہوئیں
فلم ’’چودھویں کا چاند، یہ راستے ہیں پیار کے، گنگا کی لہریں، پیاسا، غزل، بہاروں کی منزل، کیسے کہوں، شہنائی، صاحب بی بی اور غلام، سگائی، دلہن ایک رات کی، وقت، جانور، دل دیا درد لیا، دادی ماں، چھوٹا بھائی، دل نے پھر یاد کیا، پالکی، میرا منا، آبرو، ابھیلاشا، جواری، تاج محل، میرے ہمدم میرے دوست، گومتی کے کنارے، شکار، نورجہاں، پائل کی جھنکار، انتقام اورآہستہ آہستہ‘ وغیرہ میں انہوں نے یادگار کردار ادا کئے ہیں۔
مقبولیت کے لحاظ سے بطور ایک ہیرو رحمان کبھی دلیپ کمار، راج کپور یا دیوآنند کی سطح تک تو نہیں پہنچ سکے مگر فلم ’پیاسا‘ (۱۹۵۷ء) میں انہوں نے جو کردار ادا کیا ہے، اس لحاظ سے بطور کریکٹر ایکٹر وہ اشوک کمار، موتی لال، بلراج ساہنی اور پران جیسے اداکاروں کی صف میں ضرور شامل ہو گئے۔ فلم ’یہ راستے ہیں پیار کے‘ (۱۹۶۳ء) میں انہوں نے اداکاری میں اشوک کمار اور موتی لال سے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ فلم ’انتقام‘ (۱۹۶۹ء) میں اشوک کمار کا زبردست سامنا کیا اور فلم ’وقت‘ (۱۹۶۵ء) میں سنیل دت، راج کمار، ششی کپور اور بلراج ساہنی جیسے مقبول ساتھی اداکاروں کے درمیان چنائے سیٹھ کے کردار میں اپنی الگ ہی شناخت بنائی۔ فلم’پالکی‘ اور ’بہاروں کی منزل‘ میں اپنی اداکارانہ صلاحیتوں سے انہوں نے ہیرو راجندر کمار اور دھرمیندر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
اسی طرح گرودت کی یادگار فلم ’چودھویں کا چاند‘ میں رحمان نے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں سے ایک منفی کردار کو اس خوبی سے پیش کیا کہ لوگ ہیرو کے ساتھ ہی رحمان کو بھی یاد رکھنے پر مجبور ہیں۔ ’پالکی‘ (۱۹۶۷ء) میں رحمان نے نواب صاحب کے کردار کو اس خوبی سے پیش کیا ہے کہ فلم بینوں کی ساری ہمدردیاں اپنے دامن میں بھر لی ہیں۔ ’صاحب بیوی اور غلام‘ (۱۹۶۲ء) میں بھی رحمان نے ایک یادگار کردار ادا کیا ہے۔
بہت زیادہ شراب اور سگریٹ نوشی کی وجہ سے ۱۹۷۷ء میں رحمان کویکے بعد دیگرے تین بار ہارٹ اٹیک آئے۔ اسی دوران پتہ چلا کہ انہیں گلے کا کینسر بھی ہے۔ کافی دنوں تک اپنی مہلک بیماریوں سے لڑتے رہنے کے بعد آخرکار فطرت کے آگے انسان ہار گیا اور ۵؍نومبر۱۹۸۴ء کو انہوں نے آخری سانس لی۔