• Fri, 02 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’دی جے پور ڈائیلاگ‘ نے گاندھی جی کے قتل کا جشن منانے والا ویڈیو پوسٹ کیا

Updated: October 02, 2026, 10:03 PM IST | New Delhi

گاندھی جینتی کے موقع پر مہاتما گاندھی کے قتل کی منظرکشی اور ان کے قاتل نتھورام گوڈسے کی تعریف پر مبنی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ ’دی جے پور ڈائیلاگ‘ کی جانب سے شیئر کی گئی اس ویڈیو اور گاندھی جی سے متعلق دیگر پوسٹس پر سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

Screenshot of the controversial post. Photo: X
متنازع پوسٹ کا عکس۔ تصویر: ایکس

گاندھی جینتی کے موقع پر جمعہ کو ہندوتوا پروپیگنڈا پیج ’دی جے پور ڈائیلاگ‘ نے ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں مجاہدِ آزادی مہاتما گاندھی کے قتل کا منظر دکھایا گیا ہے اور اس کا اختتام ان کے قاتل نتھورام ونایک گوڈسے کی تعریف اور جشن پر ہوتا ہے۔ ویڈیو کے آخری حصے میں ایک ویڈیو گیم پر مبنی مشہور وائرل میم (Meme) کا گرافک دکھایا گیا ہے جس پر لکھا ہے، 
‘‘Mission Passed 
Respect + 99‘‘
ایک اور پوسٹ میں گاندھی جی پر ان دعوؤں کو لے کر تنقید کی گئی ہے کہ انہوں نے ہندوستان کو مجبور کیا تھا کہ وہ پاکستان کو ۵۵؍ کروڑ روپے دے۔ اس پوسٹ میں لکھا گیا ہے، ’’ہم انہیں بابائے قوم (فادر آف دی نیشن) کہتے ہیں۔ کتنی شرم کی بات ہے!‘‘ واضح رہے کہ مہاتما گاندھی کو ۳۰؍ جنوری ۱۹۴۸ء کو نتھورام گوڈسے نے قتل کر دیا تھا، جو ایک ہندو قوم پرست تھا اور ماضی میں راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آرایس ایس) سے وابستہ رہنے کے ساتھ ہندو مہاسبھا کا رکن بھی تھا۔

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: خشک سالی سے متاثر کسان اپنے پیاسے جانور بیچنے پر مجبور

اس سے قبل اگست میں، جے پور ڈائیلاگس اور اس کے بانی سنجے دکشت کے خلاف ایک ۱۵؍ سالہ لڑکی کی ذاتی معلومات آن لائن وائرل کرنے کے الزام میں سائبر کرائم کی شکایت درج کرائی گئی تھی۔ یہ لڑکی دہلی کے جنتر منتر پر نییٹ مظاہرے کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ طور پر قابلِ اعتراض زبان استعمال کرنے کے بعد ہندوتوا مہم کا نشانہ بنی تھی۔ جے پور ڈائیلاگس سابق آئی اے ایس افسر سنجے دکشت کا قائم کردہ ایک ہندوتوا نظریات سے منسلک ڈجیٹل پلیٹ فارم ہے، جس پر سوشل میڈیا پوسٹس اور ویڈیوز کے ذریعے بار بار مسلم مخالف اور اسلامو فوبک مواد کو فروغ دینے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK