Updated: June 14, 2026, 10:13 PM IST
| İstanbul
ترکی کی ایک عدالت نے نیٹ فلکس کو ایک ریاضی کے استاد کا ویڈیو بغیر اجازت اشتہار میں استعمال کرنے پر چار ملین ترک لیرے سے زائد معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ ڈجیٹل مواد، تصویر کے حقوق اور تجارتی مقاصد کیلئے وائرل ویڈیوز کے استعمال سے متعلق اہم قانونی بحث کو اجاگر کرتا ہے۔
جیت کے بعد مصطفیٰ غولر نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
ایک ترک عدالت نے نیٹ فلکس پلیٹ فارم کو ریاضی کے ایک استاد کو چار ملین ترک لیرے سے زیادہ کا مالی معاوضہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ رقم تقریبا۹۰؍ ہزار امریکی ڈالر(تقریباً ۸۵؍ لاکھ ۵۹؍ ہزار روپے) کے برابر ہے۔ یہ فیصلہ ان کی اجازت کے بغیر ایک اشتہاری مہم میں ان کی محض تین سیکنڈ کی مختصر ویڈیو کلپ استعمال کرنے پر کیا گیا ہے۔ ترک میڈیا کے مطابق عدالت نے معروف پلیٹ فارم کو ترک استاد مصطفیٰ غولر کے حقوق کی خلاف ورزی کا مجرم قرار دیا ہے کیونکہ ان کی پیشگی معلومات یا رضامندی کے بغیر ایک تشہیری اشتہار میں ان کی وہ جھلک استعمال کی گئی تھی جس میں وہ کلاس کے اندر جوش و خروش کی حالت میں ریاضی کا سبق سمجھاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فلوٹیلا کا لیک جنیوا پرجی سیون سربراہی اجلاس کے خلاف مظاہرہ
کیس کی تفصیلات اس وقت سامنے آئیں جب استاد کو بعد میں اپنے ایک طالب علم کے ذریعے اشتہار میں اپنی تصویر کے استعمال کا پتہ چلا۔ اس نے انہیں عدالت سے رجوع کرنے اور کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کرنے پر مجبور کیا اور یہ مقدمہ تقریباً تین سال تک چلتا رہا۔ عدالتی سماعتوں کے دوران نیٹ فلکس نے اپنا دفاع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس کلپ کا استعمال مزاحیہ سیاق و سباق میں کیا گیا تھا لیکن عدالت نے اس عذر کو مسترد کر دیا اور اس بات پر زور دیا کہ مواد کو ایک بامعاوضہ تجارتی اشتہار میں شامل کرنا تجارتی مقاصد کیلئے غیر مجاز استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: وزن کم کرنے والے انجکشن کے استعمال میں اضافہ، گروسری پر خرچ کم: سروے
عدالت نے استاد کو تقریباً ۲؍ ملین ترک لیرے کا بنیادی معاوضہ دینے کا فیصلہ سنایا جس میں قانونی چارہ جوئی کے طویل عرصے کی وجہ سے بننے والے سود کو بھی شامل کیا گیا جس سے کل رقم۴؍ ملین ترک لیرے سے زیادہ ہو گئی۔ فیصلہ آنے کے بعد استاد مصطفیٰ غولر نے اس فیصلے پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور میڈیا کے ساتھ کئی انٹرویوز میں نظر آئے جہاں انہوں نے اشتہار میں استعمال ہونے والی جھلک کو دوبارہ دہرا کر دکھایا۔ بعد میں یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر ہونے والا مواد بن گئی اور اس کیس کے ساتھ وسیع پیمانے پر عوامی ردعمل دیکھا گیا جس نے تجارتی اشتہارات میں مالکان کی اجازت کے بغیر ڈجیٹل مواد کے استعمال پر بحث کو دوبارہ چھیڑ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنوبی لبنان پر اسرائیل کی بمباری، میئر سمیت ۴؍ جاں بحق
اس کیس نے عالمی کمپنیوں کی جانب سے اپنی اشتہاری مہمات میں انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی مختصر ویڈیوز پر بڑھتے ہوئے انحصار کے معاملے کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔ خاص طور پر ان ویڈیوز پر جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کے استعمال کے حقوق یا ان کے مالکان کی رضامندی کی تصدیق کئے بغیر شیئر کی جاتی ہیں۔ ترکی میں تصویر کے حقوق اور ڈجیٹل مواد کے کیسز اب زیادہ عام ہو گئے ہیں کیونکہ افراد کو ان کی تصاویر یا ویڈیوز کی اجازت کے بغیر اشتہارات میں استعمال کئے جانے سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے قوانین سخت کر د یئے گئے ہیں۔