• Fri, 02 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

راہل گاندھی بالا گھاٹ پہنچے، بیماریوں سے جان گنوانے والے بچوں کے وا لدین سے ملاقات

Updated: October 02, 2026, 12:35 PM IST | Inquilab News Network | Balaghat

مدھیہ پردیش حکومت پر شدید تنقید، بیماریوںسے نپٹنےمیں ناکام قراردیا۔

Rahul Gandhi speaking with the families of the deceased tribal children. Photo: PTI
راہل گاندھی متوفی قبائلی بچوں کے اہل خانہ سے گفتگو کے دوران۔ تصویر: پی ٹی آئی

کانگریس کے سینئر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی جمعرات کو بالاگھاٹ پہنچے۔ انہوں نے برسا ڈیولپمنٹ بلاک کے میٹ پرائمری گورنمنٹ اسکول میں بچوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے تقریباً۱۵؍ منٹ گزارے۔ اس دوران انہوں نے بچو ں کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ انہیں فراہم کئے مڈ ڈے میل کے بارے میں معلومات لی۔ اس کے بعد راہل گاندھی نے جگلا گاؤں کا دورہ کیا جہاں انہوں نے بیماری سے جان گنوانے وا لے بیگا قبائلی بچوں کے والدین سےملاقات کی۔ راہل گاندھی تقریباً۳؍ بجے جگلا پہنچے۔ ان کی آمد سے پہلے ہی گاؤں کے باشندے اور کانگریس کارکنان بڑی تعداد جمع ہو چکے تھے ۔واضح رہےکہ خسرہ ، ملیریا اور انیمیا جیسی مختلف بیماریوں، ناقص تغذیہ اور صحت کی سہولیات تک رسائی کے فقدان کےسبب ان بچوںکی موت ہوگئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: فلائی دبئی کی پرواز کوہائی جیکنگ سے بچانے والے اسمیت مچھار ہیرو قرار

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش میںہر پانچواں شہری قبائلی ہے اوریہاںحکومت بیماریوںسے نپٹنےمیں ناکام ہے۔ جگلا گاؤں میں بیماریوں سے اب تک ۵؍ بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔ راہل گاندھی نے متوفی بچوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور علاقے میں صحت کی سہولیات کےبارے میں دریافت کیا۔ قبائلی کانگریس کے قومی صدر وکرانت بھوریا نے بھی راہل گاندھی کو بیگا علاقے کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ اہل خانہ سے ملاقات کے بعد راہول گاندھی نے کہا کہ وہ اس معاملے کو لوک سبھا میں اٹھائیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ قبائلی بچے غذائی قلت اور ملیریا جیسی بیماریوں کی وجہ سے مرتے ہیں لیکن حکومت نے انہیں نظر انداز کیا۔ راہل گاندھی نے منریگا اور دیگر اسکیموںسے متعلق سے بھی حکومت کو نشانہ بنایا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK