آر ایس ایس کو ’’بنچ آف جوکرس‘‘ قرار دیا، کہا: استعفیٰ دینے تک مودی اور امیت شاہ چین سے سونہیں سکیں گے۔
EPAPER
Updated: August 15, 2026, 11:03 AM IST | Agency | New Delhi
آر ایس ایس کو ’’بنچ آف جوکرس‘‘ قرار دیا، کہا: استعفیٰ دینے تک مودی اور امیت شاہ چین سے سونہیں سکیں گے۔
ملک کی ترقی کیلئے اتحاد و ہم آہنگی اورآزادی ٔ اظہار رائے پر مبنی کانگریس کے نظریہ کو پیش کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے پارٹی کی موجودہ جدو جہد کے حوالے سے پرعزم لہجے میں کہا کہ ’’مودی اور امیت شاہ اس وقت تک چین کی نیندسونہیں سکیں گے، جب تک کہ استعفیٰ نہ دیدیں۔‘‘ دہلی میں اپنی پارٹی کے سول سوسائٹی پلیٹ فارم ’’رچناتمک کانگریس‘‘ کی قومی کانفرنس میںاپنی تاریخی تقریر میں راہل گاندھی نےآر ایس ایس کے نظریہ ساز گولوالکر کی کتاب’’بنچ آف تھاٹس‘‘ کا نام لئے بغیر برسراقتدار طبقہ کو ’’بنچ آف جوکرس‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’ان سے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: آج یوم آزادی پر شہر میں مختلف تقریبات
راہل گاندھی کی تقریر میں’جین زی ‘ کے بے باک اور طنزیہ انداز کی جھلک واضح طو رپر محسوس ہورہی تھی۔ طنز، حاضر جوابی، مزاح اور برجستگی کے ساتھ، راہل گاندھی کی شخصیت کا ایک ایسا پہلو دیکھنے کو ملا جو کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ ماولنکر ہال میں کارکنوں، فنکاروں اور مرکز میں سیاسی تبدیلی کے خواہش افراد سے خطاب میں راہل گاندھی نے کہا کہ نیٹ پرچہ لیک کے خلاف احتجاج اور دیگر تحریکیں جائز اظہارِ رائے ہیں، جو نریندر مودی حکومت کے ’’عوامی نظم و ضبط ‘‘کے تصور سے متصادم ہیں۔ راہل نے کہاکہ ’’ان (حکومت) کا کام اور ان کا سیاسی فلسفہ ہندوستان پر ایک ایسا نظم مسلط کرنا ہے جو ان کے اور کچھ دوسرے لوگوں کے مفاد میں ہو۔ ہمارا کام ہندوستان کو اپنے اظہار کا موقع دینا اور اس نظم کو توڑنا ہے۔‘‘
رچناتمک کانگریس کے چیئرمین سندیپ دکشت کو بطور کردار استعمال کرتے ہوئے راہل نے اپنی تقریر کے دوران اچانک ڈرامائی کے انداز میں اداکاری بھی کی اور یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ لوگ احکامات کیسے دیتے، لیتے اور ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ ایک موقع پر راہل نے دکشت کو گلے لگا کر مودی کی خارجہ پالیسی کا بھی مذاق اڑایا۔راہل گاندھی نےمودی حکومت کے خلاف جدوجہد کے تعلق سے کہاکہ ’’ہمارا کام بہت آسان ہے...ہم انہیں پاگل کر دیںگے۔میں آپ کو بتا رہا ہوں، نریندر مودی رات کو نہیں سوتے۔ اس کی ایک واضح وجہ ہے اور بہت سی خفیہ وجوہات بھی ہیں۔ آپ نے امیت شاہ کو دیکھا؟ پہلے انہیں کیا کہا جاتا تھا؟ چانکیہ۔‘‘ اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ’’ وہ۲۰؍ دن تک پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل بھی نہیں ہو سکے۔ کیوں؟ کیونکہ پہلی بار انہیں ہندوستان کے اظہار رائے کا سامنا ہو رہا ہے۔‘‘
تقریر میں راہل گاندھی کی ۴؍ اہم باتیں
اظہار رائے کی آزادی
راہل گاندھی نے کانگریس اور بی جے پی-آر ایس ایس کے فرق کو واضح کیا اور کہا کہ وہ اختلافِ رائے کو دبا کر ’’نظم و ضبط‘‘ برقرار رکھنا چاہتی ہیںجبکہ کانگریس ایسے ہندوستان کی نمائندگی کرتی ہے جہاں ہر شخص کو ’’اپنے نظریہ کے اظہار کی آزادی‘‘ ہو۔
یہ بھی پڑھئے: انڈونیشیا میں ۷ء۷؍ شدت کا زلزلہ، ۲؍ افراد ہلاک، متعدد عمارتیں منہدم
مودی اور امیت شاہ کا استعفیٰ
راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ پی ایم مودی رات کو سو نہیں پاتے۔ امیت شاہ کو کبھی چانکیہ اور سردار پٹیل جیسے ناموں سے جوڑا جاتا تھا، لیکن اب وہ پارلیمنٹ میں داخل ہونے تک کے قابل نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں کو استعفیٰ تک چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔
آر ایس ایس’’ بنچ آف جوکرس‘‘
موجودہ برسراقتدار طبقہ سے ڈرنے والوں کو غیرت دلاتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’اگر آپ برطانوی حکومت سے لڑ رہے ہوتے اور ڈرتے تو سمجھ میں آتا مگر آج آپ ان مسخروں اور جوکروں سے لڑ رہے ہیں، جنہیں ہماری تاریخ کا کوئی علم نہیں ، آپ ان سے کیسے ڈر سکتے ہیں؟‘‘
آج کے ہندوستان کو سمجھنے پر زور
سنگھ پریوار کے دیومالائی کہانیوں پر زور کی کاٹ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ۳؍ ہزار سال پرانے ہندوستان کے ذریعہ تم آج کے ہندوستان کو نہیں سمجھ سکتے، آج کے ہندوستان کو سمجھنے کیلئے آپ کو اس کے خیالات کو سمجھنا ہوگا۔
مودی کی پریس کانفرنس پر کیا کہا؟
راہل گاندھی نےکہا کہ’’میں پہلے سمجھتا تھا کہ اس کے پیچھے کوئی مارکیٹنگ حکمت عملی یا کچھ اور بات ہوگی۔ پھر میں ایک مرتبہ ۵؍ منٹ کے لیے ان (وزیراعظم مودی) کے ساتھ ایک کمرے میں بیٹھا اور مجھے سمجھ میں آگیا کہ یہ آدمی میڈیا کا سامنا کرہی نہیں سکتا۔‘‘