• Fri, 08 December, 2023
  • EPAPER

برسلز میں راہل گاندھی کی یورپی پارلیمنٹ کے اراکین کے ساتھ گول میز کانفرنس

Updated: September 09, 2023, 9:24 AM IST | Brussels

پریس کانفرنس میں کہا کہ ملک کے تمام جمہوری اداروں کومنصوبہ بند طریقے سے نشانہ بنایا جارہا ہے، کشمیر کی دفعہ ۳۷۰؍ پر پوچھے گئے سوال کا دوٹوک جواب دیا

Rahul Gandhi talking to the press. Along with Sam Pitroda. (PTI)
راہل گاندھی پریس سے گفتگو کرتے ہوئے۔ساتھ میں سیم پترودہ ۔(پی ٹی آئی )

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اس وقت یورپ کے ایک ہفتہ کے دورے پر ہیں ۔انہوں نے یورپی ملک بلجیم کی راجدھانی برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کے اراکین (ایم ای پی) کے ساتھ گول میز اجلاس میں شرکت کی۔ یہ اجلاس حالانکہ بند کمرے میں منعقد کیا گیا لیکن اس کی تفصیلات بعد میں راہل گاندھی نے پریس کانفرنس میں پیش کیں۔ اس تعلق سے کانگریس  نے ایکس ہینڈل پر ایک پوسٹ میں کہا  کہ ’’راہل گاندھی نے یورپی پارلیمنٹ میں ایم ای پی کے ساتھ گول میز اجلاس میں حصہ لیا۔ جس میں  ایم ای پی الوینا الماتسا (یورپی یونین-ہندوستان تعلقات پر شیڈو رپورٹر) اور ایم ای پی پیئرے لاراؤٹورے بھی شامل  تھے۔کانگریس نے انڈین اوورسیز کانگریس کے صدر سیم پترودا کے ساتھ پارٹی کے سابق سربراہ کی تصاویر بھی شیئر کیں۔ 
 راہل گاندھی نے برسلز پریس کلب میں بین الاقوامی میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کئی موضوعات پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے ملک کے مخدوش حالات پر بطور خاص گفتگو کی اور کہا کہ اس وقت مودی سرکار ہندوستانی جمہوریت کا گلا گھونٹنے میں مصروف ہے۔ وہاں ملک  کے تمام اہم اور با اختیار جمہوری اداروں کو منصوبہ بند طریقے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جمہوری اقدار کو ختم کیا جارہا ہے اور جو انہیں چیلنج کرنے کی کوشش کرتا ہے اس  کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں۔   راہل نے  جی ٹوینٹی کے تعلق سے کہا کہ اس کا انعقاد ہندوستان میں ہونا بات چیت کے لحاظ سے بہت اہم ہے اور یہ خوشی کی بات ہے کہ ہندوستان اس کی میزبانی کر رہا ہےلیکن سربراہی اجلاس  اور عشائیے میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کو مدعو نہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ملک کے ۶۰؍فیصد عوام کے لیڈروں کو کچھ نہیں سمجھتے ہیں۔ اقلیتوں پر حملے کے سوال پر راہل گاندھی نے کہا کہ صرف اقلیتوں پر ہی نہیں بلکہ دلتوں، قبائلیوں اور پسماندہ افراد پر بھی حملے ہو رہے ہیں۔ کشمیر اور دفعہ ۳۷۰؍ کے سوال پر راہل نے کہا کہ اس تعلق سے کانگریس کا موقف بالکل واضح ہے کہ سبھی کی بات سنی جائے اور اسی کے مطابق فیصلہ ہو۔ جب ان سے روس کے بارے میں پوچھا گیا تو کانگریس  لیڈر نے کہا کہ اس معاملے میں وہ  حکومت کی حمایت کرتے ہیں کیوں کہ ہمیں اپنا ملکی مفاد بھی دیکھنا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK