راہل گاندھی نے بی جے پی کو ملک کیلئےخطرناک بتایا، کہامودی اصلاحات کا خمیازہ ملک بھگت رہا ہے

Updated: June 22, 2022, 9:32 AM IST | new Delhi

مرکز کی نئی فوجی بھرتی اسکیم اگنی پتھ کے خلاف ملک بھر میں کئے جانےوالے احتجاج کے درمیان حکومت نوجوانوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ اسکیم ان کیلئے سودمند ثابت ہوگی تاہم نوجوانوں کے غصے میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے

Youth Congress Demonstration in Support of Rahul Gandhi, Congress Opposes ED Action Nationwide
راہل گاندھی کی حمایت میںیوتھ کانگریس کا مظاہرہ، کانگریس نے ای ڈی کی کارروائی کی ملک گیر مخالفت کی ہے

: مرکز کی نئی فوجی بھرتی اسکیم اگنی پتھ کے خلاف ملک بھر میں کئے جانےوالے احتجاج کے درمیان حکومت نوجوانوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ اسکیم ان کیلئے سودمند ثابت ہوگی تاہم نوجوانوں کے غصے میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔اسی درمیان راہل گاندھی نے بی جے پی کو ملک کیلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی پر سخت تنقید کی۔  انہوں نےکہا کہ ان کی اصلاحات سے کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ اس کا خمیازہ پورا ملک برداشت کر  رہا ہے۔
 کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے حکومت کے   مختلف منصوبوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’وزیر اعظم صاحب!آپ کی’ اصلاحات‘ کے نتائج ملک کے عوام ہر روز برداشت کر رہے ہیں۔ نوٹ بندی، غلط جی ایس ٹی، سی اے اے، ریکارڈ مہنگائی، ریکارڈ بے روزگاری، سیاہ زرعی قوانین اور اب اگنی پتھ کے ذریعے حملہ۔‘‘ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ بی جے پی کے اچھے یعنی بہتر کا مطلب ملک کیلئے مہلک اور نقصان دہ ہے۔
 خیال رہے کہ راہل گاندھی نے اپنے ٹویٹ میں حکومت کے جن فیصلوں اور منصوبوں کا ذکر کیا ہے ان کو متعارف کراتے وقت حکومت نے خود ہی اپنی پیٹھ تھپتھپائی تھی لیکن ہر بار ایسا دیکھا گیا ہے کہ جن کیلئے ان منصوبوں کااعلان کیا گیا، انہوں نے ہی اس کی مخالفت کی اور اسے اپنے خلاف بتایا۔  مثلاً نوٹ بندی کے وقت وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ اس سےمعیشت کو کافی فائدہ ہوگا جس کا براہ راست فائدہ عوام کو ہوگا لیکن اس فیصلے سے عوام کو جن مشکلات سے گزرنا پڑا اس کی تاریخ گواہ ہے۔اسی طرح حکومت نے جی ایس ٹی کے بھی بہت سارے فائدے شمار کروائے تھے اور کہا تھا کہ اس کی وجہ سے تاجروں کو کافی فائدہ پہنچے گا تاہم اس کے سبب چھوٹے کاروباریوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا اور بڑے پیمانے پر چھوٹی صنعتیں ڈوب گئیں۔ سی اے اے یعنی شہریت ترمیمی قانون نافذ کرتے ہوئے حکومت نے کہا تھا کہ اس سے پڑوسی ممالک میں ظلم و ستم کا شکار اقلیتوں کو فائدہ ملے گا لیکن اس میں مسلمانوں کو شامل نہ کئے جانے کے سبب ملک بھر میں اس کے خلاف پرزور احتجاج کیا گیا۔زرعی قوانین کی بات کریں تو اس فیصلے کو نافذ کرتے ہوئے حکومت نے بہت سارے فائدے گنوائے تھے اور دعویٰ کیا تھا کہ اس کی وجہ سے کسانوں کی زندگی بہتر ہوجائے گی لیکن اس کی مخالفت کسانوں ہی کی جانب سے ہوئی اور پُرزور انداز میں ہوئی۔ احتجاج کی شدت بڑھی تو حکومت کو  کسانوںکے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہونا پڑا۔ عین یہی اگنی پتھ اسکیم کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ نوجوان کی اس سخت مخالفت کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK