Inquilab Logo Happiest Places to Work

ماہرین کے مطابق ڈالر کے مقابلے روپیہ ۱۰۰؍ کے پار جا سکتا ہے

Updated: May 22, 2026, 12:59 PM IST | New Delhi

روپیہ۱۰۰؍ کے پار جائے گا یا نہیں، یہ تیل کی قیمتوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری ہی طے کریں گی۔ فی الحال تمام ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آنے والے مہینے معیشت کیلئے چیلنج سے بھرپور ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

روپیہ اس وقت شدید دباؤ میں ہے اور مسلسل کم ترین سطح کو چھو رہا ہے۔ ۱۹؍ مئی۲۰۲۶ء کو روپیہ ڈالر کے مقابلے میں ۹۶ء۵۲؍ کی سطح تک پہنچ گیا، جو اب تک کی سب سے کمزور سطح ہے۔ ۲۰۲۶ء کے آغاز میں روپیہ ڈالر کے مقابلے تقریباً۸۹؍ فی ڈالر تھا، لیکن اب تک اس میں۶؍ سے ۷؍فیصد کی گراوٹ آ چکی ہے۔

اس گراوٹ کے پیچھے کئی عالمی اور گھریلو وجوہات ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے خام تیل کی قیمتوں کو ۱۰۵؍ سے ۱۰۷؍ ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچا دیا ہے۔ ہندوستان اپنی ضرورت کا۸۵؍ فیصد تیل درآمد کرتا ہے، ایسے میں تیل کی بڑھتی قیمتوں نے درآمدی بل میں اضافہ کر دیا ہے اور ڈالر کی مانگ بڑھ گئی ہے۔ دوسری جانب غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کار(ایف آئی آئی) ہندوستانی بازاروں سے سرمایہ نکال رہے ہیں۔ ۲۰۲۶ء میں اب تک ۲ء۶۵؍ لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ نکاسی ہو چکی ہے۔

ایسے میں ہر کسی کے ذہن میں ایک ہی سوال ہے: کیا روپیہ۱۰۰؍ کے پار جائے گا؟ اس موضوع پر مختلف ماہرین نے اپنی رائے دی ہے۔ آئیے جانتے ہیں۵؍ ماہرین کی رائے، جن میں۲؍ ماہرین کا خیال ہے کہ روپے کی قدر گھٹ کر ۱۰۰؍ کے پارہوجائے گی جبکہ ۲؍اس کے خلاف اور ایک غیر جانبدار رائے رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اِمپورٹ کم کرنے کیلئے ٹیکس میں اضافہ کی تیاری

یہ ماہرین مانتے ہیں کہ روپیہ۱۰۰؍ کے پار جا سکتا ہے

اقوام متحدہ کے سابق مشیر اور ماہرِ معاشیات  سنتوش مہروترا  نے اے این آئی سےبات چیت میں کہا کہ ’’گزشتہ تین مہینوں میں روپیہ۹۰؍ سے نیچے آ کر تقریباً۹۶؍ فی ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اس کا مہنگائی پر بھی اثر پڑے گا۔‘‘ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے مزید کہا کہ’’اگر موجودہ دباؤ برقرار رہا تو اگلی سہ ماہی میں روپیہ بہت آسانی سے۱۰۰؍روپے فی ڈالر کی سطح کو چھو سکتا ہے۔‘‘

زرمبادلہ کے ماہر این کے ڈےبھی روپے کے۱۰۰؍ کے پار جانے کے امکان کو مسترد نہیں کرتے۔ انہوں نے اے این آئی  سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’۱۱؍ مئی کے بعد جس رفتار سے روپیہ گرا ہے، اس نے بازار کو حیران کر دیا ہے، اس کے باوجود ریگولیٹر اور نارتھ بلاک دونوں خاموش ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا’’چونکہ ابھی کوئی نچلی سطح نظر نہیں آ رہی، اسلئے استحکام کے مقام کا اندازہ لگانا صرف قیاس آرائی ہے۔۱۰۰؍ کی نفسیاتی سطح کی طرف پھسلن اب ممکن نظر آتی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: صرف پانچ ریاستیں ہندوستان کی جی ڈی پی میں تقریباً۵۰؍ فیصد حصہ ڈالتی ہیں

انہیں لگتا ہے کہ روپیہ ۱۰۰؍ کےپار نہیں جائے گا

فائنانس اینالسٹ اور ایف ایکس اسٹریٹجسٹ دھیرج نِم کا ماننا ہے کہ آربی آئی روپے کو جلد۱۰۰؍کی سطح تک نہیں جانے دے گا۔ انہوں نے ایک ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا،’’ہمیں نہیں لگتا کہ آربی آئی فی الحال روپے کو۱۰۰؍ کی سطح تک جانے دے گا۔‘‘ اے این زی ریسرچ کو امید ہے کہ سال کے آخر تک روپیہ۹۷ء۵؍ فی ڈالر کی سطح پر رہے گا، جو موجودہ سطح سے کمزور تو ہوگا لیکن۱۰۰؍ کے ہندسے سے دور رہے گا۔ ایشیا میںایف ایکس  اور ای ایم میکرو اسٹریٹیجی کے سربراہ (بارکلیز) میتول کوٹیچا نے بزنس اسٹینڈرڈ کو بتایا،’’یہ ہمارا اندازہ نہیں ہے کہ روپیہ۱۰۰؍ روپے فی ڈالر تک پہنچے گا۔‘‘تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ روپے کی قدر میں کمی کی رفتار ان کے اندازوں سے کہیں زیادہ تیز اور حیران کن رہی ہے۔ ان کے مطابق،’’ہم پہلے ہی ان لیول کو عبور کر چکے ہیں جنہیں پہلے مندی کا تخمینہ سمجھا جاتا تھا۔‘‘اس کے باوجود انہوں نے واضح کیا کہ۱۰۰؍ کا ہندسہ ان کے سرکاری تخمینے میں شامل نہیں ہے۔ کوٹک مہندرا ایسیٹ مینجمنٹ کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر نیلیش شاہ  روپے کے۱۰۰؍ کے پار جانے کے معاملے پر متوازن نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔انہوں نے اے این آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا،’’ایک دن ہم روپے کو تین ہندسوں میں جاتے دیکھیں گے؟ اس کا امکان کافی زیادہ ہے۔‘‘ تاہم ان کا زور اس بات پر ہے کہ یہ گراوٹ کس انداز میں ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا،“اگر یہ منظم انداز میں ہونے والی قدر میں کمی ہے تو یہ یقینی بناتی ہے کہ ہماری معیشت مسابقتی بنی رہے۔‘‘ان کے مطابق،“غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں روپیہ گرتا رہتا ہے، اور اگر یہ بغیر کسی بڑے جھٹکے اور منظم انداز میں ہو تو یہ تشویش کی بات نہیں بلکہ معیشت کو مسابقتی رکھنے کیلئے ضروری توازن ہے۔‘‘روپیہ۱۰۰؍ کے پار جائے گا یا نہیں، یہ کافی حد تک تیل کی قیمتوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے رجحان پر منحصر کرے گا۔ اگر مغربی ایشیا میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو روپیہ دوبارہ۹۲؍ سے ۹۳؍ کی سطح تک واپس آ سکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK