Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملک ایل پی جی سپلائی کے بحران سے دوچار؟

Updated: May 22, 2026, 12:52 PM IST | New Delhi

نکئی ایشیا کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمزکی بندش کے سبب ہندوستان کو روزانہ چار لاکھ بیرل گیس کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔

A gas company employee carries a cylinder in Allahabad. Photo: INN
الٰہ آباد میں ایک گیس کمپنی کا ملازم سلنڈر لے جاتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

امریکہ ایران جنگ اور عالمی چیلنجز کے درمیان ہندوستان کو مبینہ طور پر روزانہ۴؍ لاکھ بیرل ایل پی جی سپلائی کی کمی کا سامنا ہے۔ نِکئی ایشیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اپریل میں ہندوستان کی ایل پی جی درآمدات ۳؍لاکھ ۷۷؍ہزار۶۲۰؍ بیرل یومیہ رہیں، جبکہ فروری میں یہ۸؍لاکھ ۵۱؍ہزار ۸۷۰؍بیرل یومیہ تھیں۔ اس رپورٹ میں اعداد و شمار کےلئے ’Kpler‘ کے ڈیٹا کا حوالہ دیا گیا ہے۔

تازہ رپورٹ میں بیان کیے گئے حالات سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایل پی جی سلنڈروں کا بحران مزید بڑھ سکتا ہے۔ ایسے میںحکومت ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دنیا کی ٹاپ ۱۰۰؍ کمپنیوں میں ہندوستان کی ایک بھی کمپنی نہیں

واضح رہے کہ فروری کے دوران آبنائے ہرمز مکمل طور پر فعال تھی، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ نہیں کیا تھا۔ اس تنازع کے جواب میں تہران نے جلد ہی آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔جس کے سبب ایندھن ٹینکروں کے اس اہم آبی راستے سے آنا جانا بند ہوگیا ہے۔اس وجہ سے دنیا کی ضرورت کا ۴۰؍فیصد گیس اور تیل کی سپلائی متاثر ہوگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اپریل میں گھریلو پیداوار بڑھ کر۵؍لاکھ ۳۰؍ہزاربیرل یومیہ ہو گئی، جو تقریباً مکمل پیداواری صلاحیت کے برابر ہے۔دعویٰ کیا گیا ہے کہ مرکزی حکومت ایل پی جی سپلائی کی کمی کو کم کرنے کے لیے سرگرم ہو گئی ہے۔ مارچ کے آغاز میں حکومت نے۱۴ء۲؍ کلوگرام والے گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کی قیمت میں۶۰؍ روپے کا اضافہ بھی کیا تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق تیل کمپنیوں کو۱۴ء۲؍ کلوگرام کے ایک ایل پی جی سلنڈر پر۶۷۴؍ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

اس کے علاوہ حکومت نے اُن گھروں سے اپیل کی ہے جن کے پاس پائپ کے ذریعے قدرتی گیس(پی این جی) کا کنکشن موجود ہے کہ وہ اپنے ایل پی جی کنکشن سرینڈر کر دیں۔ حکومت نے ایسے گھروں کو اپنا ایل پی جی کنکشن ختم کرنے کے لیے تین ماہ کی مہلت دی ہے۔ حکومت نے ’’ایک گھر، ایک کنکشن‘‘ کا اصول بھی نافذ کیا ہے۔ اس کے تحت ایک ہی گھر کے لئے پی این جی  اور سبسڈی والی گھریلو ایل پی جی دونوں رکھنا غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اِمپورٹ کم کرنے کیلئے ٹیکس میں اضافہ کی تیاری

واضح رہے کہ ہندوستان  اپنی کل ایل پی جی ضرورت کا تقریباً دو تہائی حصہ درآمد کرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات(یواے ای)،قطر، سعودی عربیہ  ہندوستان کی ایل پی جی درآمدات کا تقریباً۸۰؍ فیصد حصہ فراہم کرتے ہیں۔ ہندوستان نے اپنے ایل پی جی خریداری ذرائع میں تنوع لانے کی کوشش بھی کی ہے اور ایران، آسٹریلیا ، ارجنٹائنا اور چلی سے بھی ایل پی جی خریدی ہے۔رپورٹ کے مطابق ان ممالک نے اپریل میں روزانہ۴۳؍ہزار بیرل ایل پی جی سپلائی کی، جبکہ فروری میں یہ تعداد صفر تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آسٹریلیا سے ہندوستان تک سپلائی پہنچنے میں تقریباً۲۰؍ دن لگتے ہیں، جبکہ ارجنٹائنا اور امریکہ سے سپلائی آنے میں۳۵؍ سے۴۵؍ دن لگ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK