جھارکھنڈ کے کئی علاقوں میںگزشتہ ۱۵؍ دنوں میں۳۰؍ افراد بجلی کی زد میںآکر لقمہ اجل بن گئے ،ارونا چل اورآسام میں بھی تباہی ، پل اور سڑکیں بہہ گئیں۔
ملک میںمانسون کی آمد کےساتھ ہی متعدد ریاستوں میںبارش سے دشوار کن حالات بھی پیدا ہوگئے ہیں۔جھارکھنڈ، ارونا چل پردیش اور آسام میں بارش سے سیلابی کیفیت ہےجس کے نتیجے میںانفراسٹرکچر اورانسانی آبادیاں شدید متاثر ہوئی ہیں ۔ جھارکھنڈ میں مانسون کے ساتھ آسمان سے گر رہی آفت اموات کا سبب بنی ہے۔ریاست میں۱۲؍ جون سے اب تک آسمانی بجلی گرنے سے۳۰؍ سے زیادہ افراد کی موت ہو چکی ہے اور۳۵؍ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ اتوار کے روز رانچی ضلع کے سوناہاٹو میں واچ ٹاور کا معائنہ کر رہے فاریسٹ گارڈ روشن سریواستوبجلی کی زد میں آکرلقمہ اجل بن گئے جبکہ یگر فاریسٹ اہلکار زخمی ہو گئے۔ لوہردگا میں۳؍سالہ بچی، رانچی کے بیڑو میں ایک کسان، سلی میں ایک نابالغ اور گڑھوا ضلع کے رنکا میں آم چننے گئے۲؍بچوں کی بھی بجلی گرنے سے موت ہو گئی ۔ اطلاعات کے مطابق ۲۴؍سے۲۶؍ جون کے درمیان ریاست کے کئی اضلاع میں بجلی نے تباہی مچائی ۔ اس دوران چترا، پلاموں، جامتاڑا، کوڈرما، دیوگھر اور لوہردگا سمیت مختلف اضلاع میں۱۲؍ لوگوں کی موت ہوئی اور تقریباً۱۸؍ زخمی ہوئے۔ لوہردگامیں۲؍ الگ الگ واقعات میں۲؍ خواتین کی موت اور۸؍افراد شدید زخمی ہو گئے۔ اس کے علاوہ۲۱؍ سے ۲۳؍ جون کے درمیان مغربی سنگھ بھوم کے ٹوکلو میں فٹ بال میچ کے دوران میدان پر بجلی گرنے سے۲؍ کھلاڑیوں کی موت ہو گئی تھی۔ کھونٹی ضلع کے کرّا میں کرکٹ کھیل رہے نوجوانوں پر بجلی گرنے سے ایک کھلاڑی کی موت ہو گئی اور۱۱؍ دیگر زخمی ہو گئے۔ اس سے قبل۱۷؍ اور۱۹؍ جون کے درمیان ہزاری باغ، رام گڑھ، پلاموں، لوہردگا، گوڈا اور مغربی سنگھ بھوم میں۸؍ لوگوں کی موت درج کی گئی تھی۔ مانسون کی آمد کے پہلے۲۴؍ گھنٹوں کے اندر رانچی، گڑھوا، چترا، گریڈیہہ، جامتاڑا اور سرائے کیلا-کھرساواں میں۸؍ لوگوں کی جان چلی گئی تھی ۔ ماہرین موسمیات کے مطابق جھارکھنڈ کی جغرافیائی ساخت اسے بجلی کے لیے انتہائی خطرناک بناتی ہے۔ سطح مرتفع کا علاقہ، گھنے جنگلات، اونچے درخت، معدنی دولت اور مانسون کے موسم میں گرم اور ٹھنڈی ہواؤں کے ٹکرانے سے فضا میں تیزی سے برقی توانائی پیدا ہوتی ہے، جس سے آسمانی بجلی گرنے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں۔ رانچی، گملا، پلاموں، بوکارو اور مشرقی سنگھ بھوم ریاست کے بڑے ’لائٹننگ ہاٹ اسپاٹ‘ مانے جاتے ہیں۔
آسام اور اروناچل میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ
شمال مشرق کی۲؍ ریاستوں آسام اور اروناچل پردیش میں اس وقت سیلاب نے کافی تباہی مچا رکھی ہے۔مسلسل بارش کے سبب آنے والے سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ سے اروناچل پردیش کے کئی علاقے پانی میں ڈوب چکے ہیں۔کئی مقامات پر سڑکیں اور پل بہہ گئے جس سے مقامی لوگوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی رہائشی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ اروناچل اور آسام کے کئی اضلاع سیلاب اور بارش سے متاثر ہوئے ہیں۔ آئندہ۲۴؍ گھنٹے میں مزید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ یعنی حالات بد سے بدتر ہو سکتے ہیں۔
اروناچل میں۲۰۰؍ ملی لیٹرسے زائد بارش کاامکان
محکمۂ موسمیات نے کہا ہے کہ آئندہ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران اروناچل کے کچھ حصوں میں۲۰۰؍ملی لیٹر سے زائد بارش ہونے کا امکان ہے۔ اس کے مدنظر حکومت نے الرٹ جاری کر لوگوں سے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔ اروناچل کا پانیور ضلع سیلاب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ بارش اور سیلاب کے باعث اب تک۳؍لوگوں کی موت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ۲؍ دیگر لاپتہ ہیں ۔ یہاںگزشتہ دنوں۳۵؍سال کی ایک خاتون کی لاش برآمد کی گئی تھی جبکہ سنیچر کو ایک دیگر خاتون کی لاش ملی تھی۔ اتوار کو تلاشی مہم کو۵؍دن ہو گئے۔ این ڈی آر ایف کی ٹیم امداد کام میں مصروف ہیں۔ اروناچل پردیش کے۱۰؍اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں ۔ دوسری جانب آسام کی صورتحال بھی خراب ہے۔ یہاں کے۶؍اضلاع سیلاب کی زد میں ہیں۔ ریاست میں مسلسل شدید بارش کی اس پہلی لہر سے۲۲؍ ہزارسے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ دھیماجی، نلباڑی، ڈبروگڑھ، چرانگ، لکھیم پور اور کوکراجھار اضلاع میں مجموعی طور پر۲۲۱۲۴؍ افرادلوگ سیلاب کی زد میں آئے ہیں۔