الیکشن کمیشن نے کہا:ٹیچر اسکول کےبعد یاچھٹی والےدن ایس آئی آر کی ڈیوٹی کریں، طلبہ کا تعلیمی نقصان نہیں ہونا چاہئے۔ تعلیمی تنظیموں نے اسے ناانصافی قرار دیا۔
اساتذہ کو بی ایل او کی ڈیوٹی کے نئےفرمان پربھی اعتراض کیا جارہا ہے۔ تصویر:آئی این این
اسپیشل انٹنسیو ریویژن ( ایس آئی آر) کی ڈیوٹی سے متعلق چیف الیکشن آفیسر مہاراشٹر نے نیا فرمان جاری کیا ہے جس کے مطابق اساتذہ کو تدریسی ذمہ داری نبھانے کے بعد یا چھٹی والے دن ایس آئی آر کی ڈیوٹی کرنی ہوگی ۔ نئی ہدایت کے تحت طلبہ کا تعلیمی نقصان نہیں ہونا چاہئے ۔ اسکول کےاوقات میں بچوں کو پڑھانے کے بعد یا چھٹی والے دن اساتذہ کو بوتھ لیول آفیسر(بی ایل او) کی ڈیوٹی کرنے کیلئے کہا گیا ہے ۔تعلیمی تنظیموں نے طلبہ کی پڑھائی کے بارے میں الیکشن کمیشن کے اقدام کی ستائش کی لیکن ڈیوٹی کے بعد یاچھٹی والے دن بھی بی ایل او کی ڈیوٹی دینے پر اعتراض کیا ہے اور اس ضمن میں کچھ تجاویز پیش کی ہیں ۔واضح رہے کہ آج (منگل ) سے ریاست میں ایس آئی آر مہم کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہو ر ہا ہے ۔
ایس آئی آر کے پیش نظر چیف الیکشن آفیسر نے اساتذہ کو بی ایل او مقرر کرنے کے حوالے سے اہم وضاحت کی ہے ۔ اس تعلق سے چیف الیکشن آفیسر مہاراشٹر نے ۲۷؍جون کو ایک مکتوب جاری کیا ہے جس کے مطابق اساتذہ کو بی ایل او مقرر کرنا مکمل طور پر قانونی ہے ۔اس میں کسی قسم کی قانونی رکاوٹ نہیں ہے ۔ اس ضمن میں الہ آباد اور راجستھان ہائی کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے ، جن میں انتخابی کاموں کیلئے اساتذہ کی خدمات حاصل کرنے کو قانونی قرار دیا گیا ہے ۔
چیف الیکشن آفیسر نے مکتوب میں اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ بی ایل او کی ڈیوٹی دیئے جانے کا یہ مطلب نہیں کہ اساتذہ کوپورے دن کیلئے بی ایل او کی ذمہ داری ادا کرنے کیلئے تدریسی خدمات سے پوری طرح فارغ کر دیا جائے ۔ بی ایل او کی ذمہ داری اسکول کے تمام کاموں، غیر تدریسی ایام یا اسکول کے اوقات کار ختم ہونے کے بعد یاچھٹی والے دن انجام دی جائے تاکہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو ۔ چیف الیکشن آفیسر نے تمام ضلعی الیکشن اور ووٹر رجسٹریشن افسران کو مذکورہ عدالتوں کے احکامات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی ہے جس کے تحت اساتذہ کی بی ایل او کے طور پر تقرری قانونی ہے ۔ اساتذہ کو پورے دن کیلئے بی ایل اوکے طور پر تدریسی ذمہ داریوں سے آزاد نہ کیا جائے ۔ بی ایل او کی ڈیوٹی اسکولی اوقات کے بعد یا چھٹی والے دن انجام دی جائے ۔ طلبہ کی تعلیم پر کسی بھی قسم کا منفی اثر نہ پڑے، اس کا خاص خیال رکھا جائے ۔
اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے جنرل سیکریٹری ساجد نثار کے مطابق’’ پورے دن تدریس، اسکول کے انتظامی امور، مختلف سرکاری ذمہ داریوں اور اس کے بعد بی ایل اوکی خدمات انجام دینے سے اساتذہ پر ذہنی اور جسمانی دباؤ بڑھے گا جس کے نتیجے میں معیارتعلیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ اگرچہ ایس آئی آر کا کام قومی نقطہ نظر سے بہت اہم ہے اس کیلئے حکومت کو پہلے سے موثر منصوبہ بندی کرنی چاہئے تھی ساتھ ہی بی ایل او کے فرائض انجام دینے والے اساتذہ کی جگہ اعزازی بنیاد پر عارضی اساتذہ مقرر کئے جائیں تاکہ طلبہ کی تعلیم کا نقصان نہ ہو لیکن حکومت کی جانب سے اس طرح کاکوئی انتظام نہیں کیا گیا،ایسے میں اساتذہ کیلئے اسکولی ذمہ داریوں کو نبھانے کے بعد بی ایل او کی ڈیوٹی کرنا عملی طور پر دشوارکن ہے۔ پورا دن تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد بی ایل او کے فرائض ادا کرنا اساتذہ پر اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے ۔‘‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ طلبہ کی تعلیم سےمتعلق حکومت کی فکر مندی قابلِ ستائش ہے کہ ان کی پڑھائی کا نقصان نہ ہو لیکن اساتذہ کو اسکولی ڈیوٹی کے بعد بی ایل او کی جو ذمہ داری دی جارہی ہے، وہ ان کے ساتھ ناانصافی ہے ۔‘‘
مذکورہ ادارہ نے اس تعلق سے جو مطالبات کئے ہیں، ان میں کہا گیا ہے کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ طلبہ کی تعلیم کسی بھی صورت متاثر نہ ہو ۔ اساتذہ پربی ایل او کی اضافی ذمہ داریوں کا غیر ضروری بوجھ نہ ڈالا جائے ۔بی ایل او کی ذمہ داری انجام دینے والے اساتذہ کی جگہ اعزازی بنیاد پر عارضی اساتذہ مقرر کئے جائیں۔ اساتذہ کو غیر تدریسی کاموں میں مصروف رکھنے کے بجائے معیارِ تعلیم کیلئے پورا وقت فراہم کیا جائے ، انتخابی اور سروے کے کاموں کیلئے علاحدہ افرادی قوت حاصل کی جائے تاکہ معیارتعلیم متاثر نہ ہو۔