دوحہ میں آج مذاکرات کاامکان،ایران کی خلیجی ممالک کو نئے سیکوریٹی اتحاد کی پیشکش ، مسقط میں ایرانی وعمانی مشترکہ کمیٹی کا اجلاس، آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام پر گفتگو۔
ایران اور عمان کی مشترکہ کمیٹی کی ہرمز کے معاملے پر مسقط میں اہم میٹنگ- تصویر:آئی این این
امریکہ اور ایران نے تازہ جھڑپوں کے بعدایک دوسرے پر حملے بند کرنے اور جنگ بندی کے لئے بات چیت کے عمل کیلئے آمادگی ظاہر کی ہے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے روکنے پر اتفاق کرلیا ہے۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع کے حل کیلئے منگل کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ملاقات کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
خیال رہے کہ امریکہ ایران کے درمیان جنگ بندی کو ابھی صرف ۱۱؍ دن ہوئے ہیں، مگر یہ غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو گئی ہے۔ دونوں جانب سے دوبارہ حملے کیے گئے، جبکہ صدر ٹرمپ نے جنگ دوبارہ شروع کرنے اور کام مکمل کرنے کی دھمکی بھی دی۔ دوبارہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو)، خصوصاً آبنائے ہرمز سے متعلق شقوں کی دونوں ممالک نے مختلف تشریحات کیں۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار نے ایکسیوس کو بتایا کہ ہم نے تمام عسکری کارروائیاں روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک دوسرے امریکی عہدیدار نے بتایا کہ فی الحال دونوں ممالک اپنی کارروائیاں روک دیں گے اور بحری جہاز آزادانہ طور پر آمدورفت کر سکیں گے، جبکہ تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری رہیں گے۔ دونوں امریکی عہدیداروں اور اس معاملے سے باخبر ایک تیسرے ذرائع نے منگل کو ہونے والی مجوزہ ملاقات کی تصدیق کی۔ مفاہمت کی یادداشت کے تحت ایران نے وعدہ کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کرے گا۔ اس کے بدلے میں امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دی۔
دوسری جانب ایران نے خلیجی خطے کے لیے نئے علاقائی سیکورٹی نظام کی تشکیل کی تجویز دیتے ہوئے خطے کے ممالک کو مشترکہ اتحاد کی پیشکش کر دی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراقی قومی سلامتی کے مشیر قاسم العبودی سے ملاقات کے بعد کہا کہ حالیہ واقعات نے واضح کر دیا ہے کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی کی ذمہ داری خود سنبھالنی چاہیے اور مستقبل کے سیکورٹی انتظامات بھی باہمی مشاورت سے طے کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران خلیج فارس کے ممالک کے ساتھ مل کر ایسا علاقائی سیکورٹی فریم ورک قائم کرنے کے لیے تیار ہے جس میں صرف دفاعی تعاون ہی نہیں بلکہ اقتصادی شراکت داری بھی شامل ہو۔عباس عراقچی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے کے امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ بیرونی فوجی طاقتوں کو علاقائی سیکوریٹی معاملات سے دور رکھا جائے جبکہ علاقائی ممالک باہمی اعتماد اور تعاون کے ذریعے اپنے مستقبل کا تعین کریں۔ دریں اثناءعمان کے دارالحکومت مسقط میں آبنائے ہرمز کے مستقبل میں انتظامی امور سے متعلق ایران اورعمان کی مشترکہ کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے۔ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ مسقط کے دورے پر عمان کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عبدالعزیز الہنائی کے ساتھ آبنائے ہرمز مشترکہ کمیٹی کے پہلے اجلاس میں شرکت کی۔جس میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر ۵؍ اور ساحلی ریاستوں کے خود مختار حقوق کے تناظر میں آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے۔ٹروتھ پوسٹ میں ٹرمپ نے جلی حرفوں میں لکھا ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے، یہ ملاقات کل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوگی۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ گیس کی قیمتیں تیزی سے نیچے آرہی ہیں، خام تیل کی قیمتیں بھی نیچے آرہی ہیں۔