Inquilab Logo Happiest Places to Work

رائے گڑھ ضلع پریشد کے صدر کا فرمان، بلا اجازت میڈیا سے بات نہ کی جائے

Updated: July 28, 2026, 11:18 AM IST | Raigad

افسران اور عہدیداران کیلئے جاری کئے گئے حکم نامے میںعائد کی گئی شرائط سے ضلع پریشد میں خود مہایوتی اراکین بھی سخت ناراض۔

Raigad Zilla Parishad building (file photo)
رائے گڑھ ضلع پریشد کی عمارت( فائل فوٹو)

رائے گڑھ ضلع پریشد کے صدر نے ایک تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے کہ ضلع پریشد کا کوئی بھی افسر یا عہدیدار بغیر ان کی اجازت کے میڈیا سے بات نہ کرے۔ ضلع پریشد کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے اس حکم کو باضابطہ طور پر تمام عہدیداروں کے نام جاری بھی کر دیا ہے۔ اس پر رائے گڑھ ضلع پریشد کے اراکین سخت ناراض ہیں اور اسے آمریت قرار دے رہے ہیں۔ 

اطلاع کے مطابق رائے گڑھ ضلع پریشد کے صدر منگیش واکڑیکر نے ایک تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ضلع پریشد کی پالیسی سے متعلق فیصلوں اور اہم پروجیکٹوں کے علاوہ حساس موضوعات پر کوئی بھی افسر یا عہدیدار براہ راست میڈیا سے گفتگو نہ کرے۔ میڈیا کو معلومات فراہم کرنے سے پہلے ضلع پریشد کے صدر سے اجازت لینی ضروری ہوگی ورنہ عوام میں غلط پیغام جانے اور ابہام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کی  وجہ سے ضلع پریشد کے وقار کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس حکم نامے کو رائے گڑھ ضلع پریشد کی سی ای او نیہا بھوسلے نے سرکیولر کی شکل میں تمام افسران اور عہدیداران کیلئے جاری بھی کر دیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسکولوں کے پاس اناج کا ذخیرہ ختم ، مڈڈے میل کی کھچڑی خطرےمیں

کہا جا رہا ہے کہ یہ معاملہ انتظامی امور سے نہیں بلکہ سیاسی دائو پیچ سے متعلق ہے۔ اس حکم نامے سے مہایوتی کے اندر جاری چپقلش سامنے آنے کا امکان ہے۔ دراصل گزشتہ دنوں بہبودی ٔ خواتین واطفال اسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرمین رسیکا کینی نے اپنے ہی محکمے میں ہونے والی بدعنوانی پر سوالات اٹھائے تھے۔  ان کے الزامات کے سبب ضلع بھر میں ا س محکمے کے تعلق سے تبصرے ہوئے تھے۔ بعد میں محکمہ برائے بہبودیٔ خواتین و اطفال کی سربراہ نرملا کوچک نے پریس کانفرنس کے ذریعے ان الزامات کے جواب دیئے تھے اور انہیں بے بنیاد قرار دیا تھا۔ یہ بات اسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرمین رسیکا کینی نے ضلع پریشد کے صدر  منگیش واکڑیکر کے گوش گزار کی۔ ساتھ ہی بی جے پی کے کئی اراکین اس بات پر ناراض ہوئے کہ اس معاملے کی معلومات پہلے ضلع پریشد کے صدر کو نہیں دی گئی وار براہ راست میڈیا کے سامنے الزام تراشیاں کی گئیں۔ 

اب یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اس حکم نامے کا مقصد کیا ہے؟ کیا اس کے ذریعے ضلع پریشد کے صدر معلومات فراہم کرنے کے حق پر پابندی عائد کر رہے ہیں؟ اطلاع کے مطابق سی ای او نے جو سرکیولر جاری کیا ہے وہ صرف ضلع پریشد کے عہدیداروں یا افسران ہی کو نہیں بھیجا گیا بلکہ تعلقہ سطح کے عہدیداروں تک بھی اسے پہنچایا گیا جس کی وجہ سے اور بھی سوالات اٹھنے لگے۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ضلع پریشدر صدر نے حکم نامہ جاری کرنے سے پہلے اراکین اور افسران کو اعتما د میں لیا تھا؟ کیا اس کی معلومات انہیں دی گئی تھی؟ میڈیا کو معلومات فراہم کرنے سے روک کر کون سا راز چھپایا جا رہا ہے؟

یہ بھی پڑھئے: چندر پور: ایم آئی ایم کارپوریٹر اظہر شیخ پر قاتلانہ حملہ، کانگریس پر حملہ

اس کی وجہ سے بی جے پی اور شیوسینا (شندے) کے درمیان جاری کھینچ تان کے اجاگر ہونے کا بھی امکان ہے۔ اس پورے معاملے پر صفائی دیتے ہوئے خود ضلع پریشد صدر منگیشکر واکڑیکر نے کہا ہے کہ یہ حکم نامہ ضلع پریشد کے عہدیداروں ( جو انتخابی عمل کے بعد منتخب ہوتے ہیں) کیلئے ہے نہ کہ افسران کیلئے ۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ ضلع پریشد کی کسی بھی طرح کی بدنامی نہ ہو۔ انہوں نے کہاکہ اس مکتوب کو غلط طریقے سے مشہور کیا گیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK