• Sun, 08 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

راجستھان: متوفی قرار دئیے گئے۲؍لاکھ ووٹرز ندہ نکلے

Updated: November 08, 2026, 11:12 AM IST | New Delhi

ریاستی الیکشن کمیشن نے پنچایتی انتخابات میںایسے ۸؍لاکھ ۷۵؍ہزار افراد میں سے ایک لاکھ ۸۰؍ہزار کے زندہ ہونے کی تصدیق کی۔

Pawan Khera has criticized the government. Photo: INN
پون کھیڑا نےحکومت پرتنقید کی ہے ۔تصویر: آئی این این

ملک میں ایس آئی آر کے عمل کے دوران الیکشن کمیشن آف انڈیا نے کس طرح سے ووٹروں کے غلط طریقہ سے بڑے پیمانے پر نام حذف کئے اور لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم کیا، اس کی ایک مثال اس وقت سامنے آئی جب راجستھان میں مردہ قرار دیئے گئے ۸؍لاکھ ۷۵؍ہزار افراد میں سے ایک لاکھ ۸۲؍ہزار زندہ پائے گئے ۔

یہ بھی پڑھئے: ناگپور: چوکیدار کی اسامی کیلئے گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ امیدوار بھی میدان میں!

’دی رپورٹرس کلیکٹیو ‘ کے مطابق راجستھان ریاستی الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے دوران مردہ پائے گئے ان لوگوں کو زندہ پایا اور انہیں جاری پنچایت انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق دے دیا گیا ۔ راجستھان میں ایس آئی آر کے دوران ۳۲؍لاکھ ۳۱؍ ہزارووٹرس کے نام کاٹے گئے۔ریاست میں ایس آئی آر ۲۵؍اکتوبر سے ۲۶؍فروری تک کیا گیا۔ اسی درمیان راجستھان ریاستی  الیکشن کمیشن نے بھی دسمبر ۲۰۲۵ء سے پنچایت انتخابات کے لیے ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کا اعلان کیا۔یہ دونوں الگ الگ ادارے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹر فہرستوں کی نگرانی کرتا ہے، جبکہ ریاستی الیکشن کمیشن پنچایت اور بلدیاتی انتخابات کے لیے یہ ذمہ داری نبھاتا ہے۔ ان دونوں اداروں کی جانب سے تیار کردہ ووٹرلسٹ مختلف ہیں۔پنچایت کی ووٹر فہرست پر نظرثانی کا عمل آزادانہ طور پر، لیکن الیکشن کمیشن آف انڈیا کی فہرست پر نظرثانی کے عمل کے ساتھ ساتھ انجام دیا گیا۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کا یہ عمل۲۱؍فروری ۲۰۲۶ء کو مکمل ہوا، اور اس کے چار دن بعد ریاستی الیکشن کمیشن نے بھی اپنا کام مکمل کر لیا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کے ایک لاکھ ۸۲؍ہزار افراد پنچایت انتخابات میں تو ووٹ ڈال سکیں گے، لیکن پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالنے اور اپنے نمائندوں کو منتخب کرنے کے اہل نہیں ہوں گے۔ مثال کے طور پر، اجمیر کے کشن گڑھ اسمبلی حلقے سے تعلق رکھنے والی۲۶؍ سالہ شالو ڈولیا کو الیکشن کمیشن آف انڈیا نے مردہ کی فہرست میں رکھالیکن شالولو ڈولیا زندہ ہیں۔’دی رپورٹرس کلیکٹیو ‘ نے اپنی رپورٹ میں اس کی بھی وضاحت کی ہے کہ اس نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور ریاستی الیکشن کمیشن کی ووٹرلسٹ میں فرق کے تعلق سےزمین سطح پر جانچ نہیں کی۔ایس آئی آر سے وابستہ ایک افسر نے اس بات کی تردید کی کہ الیکشن کمیشن کے ذریعہ مردہ قراردئے گئے لوگ ریاستی الیکشن کمیشن کی لسٹ میں زندہ پائے گئے ہیں۔
کانگریس نے اس رپورٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ الیکشن کمیشن پوری طرح سے بے نقاب ہوچکا ہے۔پارٹی کے لیڈر پون کھیڑا نے کہا کہ راجستھان میں گیانیش گپتا کے ’ایس آئی آر‘کے ذریعے جن ووٹروں کو مردہ قرار دیا گیا تھا، ان میں سے کم از کم دو لاکھ ووٹروں کے زندہ ہونے کی تصدیق خود ریاستی الیکشن کمیشن نے پنچایت انتخابات کے دوران کی ۔کسی بھی فعال جمہوریت میں، صرف اسی ایک واقعہ کی بنیاد پر ایک وسیع تحقیقات ہونی چاہیے تھیں اور ذمہ دار عہدیداروں جن میں سرفہرست چیف الیکشن کمشنر ہیں، ان کا احتساب ہونا چاہیے تھا،لیکن یہ مودی کا ہندوستان ہے جہاں جمہوریت کو اسی چیف الیکشن کمشنر نے یرغمال بنا رکھا ہے۔انہیں اصولی طور پر، سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے تھا۔سوشل میڈیا پر اس انکشاف کے بارے میں  الیکشن کمیشن آف انڈیا اور گیانیش کمار کے خلاف کئی طرح کے ردعمل کا اظہارکیا جارہاہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK