• Sun, 08 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بارش سے متاثرہ میچ میں ہندوستان کی ۴؍ رنوں سے فتح

Updated: November 08, 2026, 11:49 AM IST | Wellington

نیوزی لینڈ کیخلاف ڈکورتھ لوئیس ضابطے کے تحت میچ جیت لیا، سیریز میں دوصفر کی برتری حاصل ،گرنور برار نے ۴؍جبکہ عاقب نبی اور انشول کمبوج نے ۲۔۲؍وکٹیں حاصل کیں۔

In the second match as well, Team India delivered an all-round performance and defeated New Zealand. Photo: PTI
دوسرے میچ میں بھی ٹیم انڈیا نے آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کو ہرادیا۔ تصویر: پی ٹی آئی

تیز گیندباز گُرنور برار (۳۰؍ رن پر ۴؍ وکٹ)، انشول کمبوج، عاقب نبی اور اکشر پٹیل (۲۔۲؍ وکٹ) کی شاندار گیندبازی کے بعد شریاس ایر (۳۰) اور کے ایل راہل (ناٹ آؤٹ ۲۶) کی اہم اننگز کی بدولت ہندوستان نے بارش سے متاثرہ دوسرے یکروزہ میچ میں نیوزی لینڈ کو ڈکورتھ لوئیس  ضابطے کے تحت ۴؍ رنوں سے شکست دے دی۔ اس جیت کے ساتھ ہی ہندوستان نے ۵؍ میچوں کی سیریز میں دوصفرکی مضبوط برتری حاصل کرلی۔ گُرنور برار کو پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔
۱۳۵؍ رنوں کے ہدف کا تعاقب کرنے اتری ہندوستانی ٹیم کو جیکب ڈفی نے ابتدائی جھٹکے دئیے۔ انہوں نے کپتان شبھ من گل (صفر) اور وراٹ کوہلی (۷) کو آؤٹ کیا۔ اس کے بعد شریاس ایرنے روہت شرما کے ساتھ اننگز سنبھالنے کی کوشش کی۔ دونوں نے تیسرے وکٹ کیلئے۲۲؍  رن جوڑے لیکن نویں اوور میں کائل جیمیسن نے روہت شرما (۲۳) کو آؤٹ کرکے اس شراکت داری کا خاتمہ کردیا۔ روہت نے ۲۸؍گیندوں میں ۲؍ چوکے اور ۲؍ چھکے لگائے۔

یہ بھی پڑھئے: جے پال نے چاندی کا تمغہ اور اولمپک کوٹہ حاصل کیا

اکشر پٹیل (۷) چوتھے وکٹ کے طور پر آؤٹ ہوئے۔ ۲۰؍ویں اوور میں جیمیسن نے شریاس ایر کو پویلین بھیج دیا۔ ایر نے ۴۶؍ گیندوں میں ۴؍ چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے ۳۰؍ رن بنائے۔ اس کے بعد نمن دھیر (۱۲) کو سائفرٹ نے باؤنڈری پر کیچ آؤٹ کرایا جبکہ اگلے ہی اوور میں جیمیسن نے انشول کمبوج (ایک) کو آؤٹ کرکے ہندوستان کو ساتواں جھٹکا دیا۔اسی اوور کے بعد بارش شروع ہوگئی۔ اس وقت ہندوستان نے ۷؍ وکٹ پر ۱۱۳؍ رن بنائے تھے اور اسے جیت کیلئے ۲۱؍ اووروں میں مزید ۲۲؍رن درکار تھے۔ کھیل دوبارہ شروع نہیں ہوسکا۔ ڈکورتھ طریقے کے تحت اس وقت پار اسکور ۱۰۹؍رن تھا، اسلئے ہندوستان کو ۴؍ رن سے فاتح قرار دیا گیا۔
اس سے قبل ہندوستانی گیندبازوں نے نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم کو ۴۱؍ اووروں میں ۱۳۴؍ رنوں پر سمیٹ دیا تھا۔ ہندوستان نے ٹاس جیت کر پہلے گیندبازی کا فیصلہ کیا۔ نیوزی لینڈ کی اننگز کا آغاز اچھا نہیں رہا اور عاقب نبی نے پہلے ہی اوور میں ٹم سائفرٹ (صفر) اور پانچویں اوور میں وِل ینگ (۶) کو آؤٹ کردیا۔ ہنری نکولس (۱۱) کو انشول کمبوج نے بولڈ کیا۔ ۲۰؍ویں اوور میں گُرنور برار نے ٹام لیتھم (۷) اور گلین فلپس (صفر) کو پویلین بھیج دیا۔
اس کے بعد کپتان مچل سینٹنر نے ڈیرل مچل کے ساتھ اننگز سنبھالنے کی کوشش کی۔ دونوں نے چھٹے وکٹ کیلئے ۵۹؍ رنوں کی شراکت داری کی۔ ۳۵؍ویں اوور میں اکشر پٹیل نے ڈیرل مچل (۵۵) کو آؤٹ کرکے اس شراکت کو توڑا جبکہ اگلے ہی اوور میں برار نے سینٹنر (۳۱) کو اپنا شکار بنایا۔ڈیرل مچل نے ۱۰۴؍ گیندوں میں ۴؍ چوکے اور ۲؍ چھکے لگا کر ۵۵؍رن بنائے جبکہ سینٹنر نے ۳۸؍ گیندوں میں ایک چوکے اور۲؍ چھکوں کی مدد سے ۳۱؍ رن اسکور کئے۔ ۳۹؍ویں اوور میں اکشر نے کائل جیمیسن (۷) کو بولڈ کیا۔ نیتھن اسمتھ (۳) کو برار نے آؤٹ کیا جبکہ ۴۱؍ویں اوور کی آخری گیند پر کمبوج نے بلیئر ٹکنر (۲) کو بولڈ کرکے نیوزی لینڈ کی اننگز ۱۳۴؍ رنوں پر سمیٹ دی۔

کوہلی نے پونٹنگ کو پیچھے چھوڑ دیا
وراٹ کوہلی نیوزی لینڈ کے خلاف یکروزہ کرکٹ میں سب سے زیادہ رن بنانے والے بلے باز بن گئے ہیں۔ دوسرے ون ڈے میں ۷؍ رنوں کی اننگز کھیلنے کے دوران انہوں نے یہ سنگ میل عبور کیا۔کوہلی نے آسٹریلیا کے سابق کپتان رکی پونٹنگ کو پیچھے چھوڑ دیا، جن کے نام نیوزی لینڈ کے خلاف ۱۹۷۱؍ رن تھے۔کوہلی کے اب ۱۹۷۸؍ رن ہو گئے ہیں۔ اس فہرست میں سچن تینڈولکر ۱۷۵۰؍ رنوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔سری لنکا کے کمار سنگاکارا اور سنت جےسوریہ بالترتیب ۱۶۶۸؍اور ۱۵۱۹؍رنوں کے ساتھ چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں۔ اِس میچ میں کوہلی جیکب ڈفی کی گیند پر ول ینگ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

گرنورنے ۳۱؍سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا
ہندوستانی تیز گیند باز گرنور برار نے میچ میں ۴؍ وکٹیں لے کر تاریخ رقم کر دی۔انہوں نے۱۰؍ اوورز میں ۳۰؍ رن دے کر ۴؍ وکٹیں لیں۔یہ نیوزی لینڈ کی سرزمین پر ون ڈے میں کسی بھی ہندوستانی تیز گیند باز کی دوسری بہترین گیندبازی کی کارکردگی ہے۔اس فہرست میں سرفہرست جواگل سری ناتھ ہیں، جنہوں نے ۲۰۰۳ء میں آکلینڈ میں ۲۳؍ رن دے کر ۴؍ وکٹیں لی تھیں۔ حالانکہ گورنور نے  سری ناتھ کے ۳۱؍سال قبل  ۱۹۹۵ء کے نیپیر کے مظاہرے۵۲؍ رن پر ۴؍ وکٹ کو پیچھے چھوڑ دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK