بہار کی تمام ۵؍ سیٹوں پراین ڈی اے کا قبضہ، تیجسوی یادوکا بی جے پی پر طاقت کے استعمال کا ا لزام، ہریانہ میںکانگریس رکن اسمبلی کاووٹ باطل کردیا گیا
EPAPER
Updated: March 16, 2026, 11:53 PM IST | New Delhi
بہار کی تمام ۵؍ سیٹوں پراین ڈی اے کا قبضہ، تیجسوی یادوکا بی جے پی پر طاقت کے استعمال کا ا لزام، ہریانہ میںکانگریس رکن اسمبلی کاووٹ باطل کردیا گیا
ہریانہ، بہار اور ادیشہ میں راجیہ سبھا کی۱۱؍ سیٹوں کیلئے پیر کو انتخابات ہوئے۔ تین ریاستوں میں کل۱۴؍امیدوار میدان میں ہیں۔ بہار کی تمام ۵؍ اور ادیشہ کی ۴؍ سیٹوں کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ این ڈی اے یا این ڈی اے کے حمایت یافتہ امیدواروں نے دونوں ریاستوں میں ۹؍ میں سے ۸؍ سیٹیں جیتی ہیں۔شام۵؍بجے سے ہریانہ کی دو سیٹوں پر گنتی روک دی گئی تھی۔ بی جے پی نے کانگریس کے دو ایم ایل اے کے ووٹ افشاں ہونے کی شکایت کی تھی۔ معاملہ الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا گیا ہے۔خبر لکھے جانے تک فیصلے اور اجازت ملنے کے بعد گنتی دوبارہ شروع ہونی تھی۔ ذرائع کے مطابق کانگریس کے ایک ایم ایل اے کا ووٹ باطل کر دیا گیا ہے۔ دوسرے ایم ایل اے کے ووٹ کی جانچ کی جا رہی ہے ۔ الیکشن کمیشن نے وزیر انل وج کے ووٹ پر کانگریس کے اعتراض کو مسترد کر دیا ہے۔بی جے پی امیدوار سنجے بھاٹیا کی ہریانہ کی دو میں سے ایک سیٹ پر جیت یقینی سمجھی جارہی ہے۔ دوسری سیٹ کے لیے مقابلہ کانگریس کے امیدوار کرم ویر بدھ اور بی جے پی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ستیش ناندل کے درمیان ہے۔
بہار سے تمام۵؍ نشستوں پر بی جے پی کی جیت
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور بی جےپی کے قومی صدر نتن نبین سمیت قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے پانچوں امیدواروں نے پیر کو راجیہ سبھا انتخابات میں کامیابی حاصل کی جبکہ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے امیدوار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسمبلی احاطے میں مکمل ہوئے ووٹنگ اور ووٹوں کی گنتی کے بعد این ڈی اے کے تمام پانچ امیدوار فاتح قرار دیے گئے۔ اس دوران این ڈی اے کے تمام۲۰۲؍ اراکین اسمبلی نے ووٹنگ میں حصہ لیا جبکہ مہاگٹھ بندھن کے ۴؍ اراکین غیر حاضر رہے، جن میں کانگریس کے تین اور آر جے ڈی کا ایک رکن شامل ہے۔ کل۲۳۹؍اراکین اسمبلی نے اس بار اپنا ووٹ ڈالا۔
ووٹنگ کیلئے نہ پہنچنے والے کانگریس کے تین اراکین میں والمیکی نگر کے سورندر پرساد، فاربس گنج سے منوج وشواس اور منیہاری کے منوہر سنگھ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آر جے ڈی کے رکن فیصل رحمٰن نے بھی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ بہار میں مکمل ہوئے راجیہ سبھا انتخابات میں کل ۶؍ امیدوار میدان میں تھے، جن میں بی جے پی اور جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے دو دو، راشٹریہ لوک مورچہ اور آر جے ڈی کے ایک ایک امیدوار شامل تھے۔ اس انتخاب میں بی جے پی نے اپنے قومی صدر نتن نبین اور شیویش رام، جے ڈی یو نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور رام ناتھ ٹھاکر، جبکہ راشٹریہ لوک مورچہ نے اپنے قومی صدر اُپندر کشواہا کو میدان میں اتارا تھا۔ اپوزیشن کی طرف سے مہاگٹھ بندھن کے امیدوار امریندر دھاری سنگھ میدان میں تھے، لیکن انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ قابل ذکر ہے کہ بہار سے راجیہ سبھا کی پانچ نشستیں۹؍اپریل کو خالی ہو رہی ہیں، جن میں جے ڈی یو کے رام ناتھ ٹھاکر اور ہری ونش نارائن سنگھ، آر جے ڈی کے امریندر دھاری سنگھ اور پریم چند گپتا اور راشٹریہ لوک مورچہ کے صدر اُپندر کشواہا کے نام شامل ہیں۔
ہریانہ راجیہ سبھا انتخابات میں بے ضابطگیوں کا الزام
کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے نے ہریانہ سے ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات کے سلسلے میں انتخابی عمل میں مداخلت کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے۔ خط میںکانگریس صدر نے کہا ہے کہ انتخابات کی منصفانہ اور شفافیت کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جنہیں فوری طور پر روکا جانا چاہئے۔
اس دوران بہار اسمبلی سے نکلتے ہی اپوزیشن لیڈر اور آر جے ڈی سربراہ تیجسوی یادو نے بی جے پی پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے بی جے پی پر راجیہ سبھا انتخابات اور اسمبلی سے متعلق دیگر حالیہ واقعات میں پیسے کی طاقت اور ہیرا پھیری کا استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ان کے ایم ایل اے نے انہیں دھوکہ نہ دیا ہوتا تو ان کی جیت یقینی تھی۔ اسمبلی سے باہر نکلنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے تیجسوی نے کہا’’سب جانتے ہیں کہ ایجنسیاں کہاں ہیں، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ہمارے پاس کتنی بھی ہیں، ہم بی جے پی سے لڑیں گے اور اپنی آخری سانس تک لڑتے رہیں گے۔