راجیہ سبھا میں اپوزیشن برہم،مزدوروں کی اموات پر جواب مانگا

Updated: September 17, 2020, 7:27 AM IST | Mumtaz Alam Rizvi | New Delhi

آر جے ڈی کے رکن پروفیسر منوج جھا کا حکومت کے رویے پر اظہارِ افسوس، تجویز پیش کی کہ سبھی اراکین پارلیمان کو مزدوروں سے معافی مانگنی چاہئے۔کانگریس لیڈر آنند شرما کا حکومت سےسوال، جب لاک ڈائون کیا گیا تھا تو مریضوں کی تعداد ۶۰۰؍ تھی اور اب جب لاک ڈائون ختم کیا گیا تو ۵۰؍لاکھ ہو گئی، ایسا کیوں ہوا ؟

Anand Sharma - Pic : PTI
راجیہ سبھا میں حکومت سے سوال کرتے ہوئے کانگریس لیڈر آنند شرما ۔ تصویر : پی ٹی آئی

کورونا کے سبب اچانک کئے گئے لاک ڈائون کے دوران لاکھوں مزدوروں کی نقل مکانی پر کوئی دستاویز نہیں ہے، کہہ کر مودی حکومت اپوزیشن کے نشانے پر ہے ۔ لوک سبھا کے بعد اب یہ معاملہ راجیہ سبھا میں بھی اٹھایا گیا ۔ پارلیمنٹ کے جاری مانسون اجلاس میں بدھ کو راجیہ سبھا میں کورونا وبا پر خصوصی بحث کرائی گئی جس میں حکومت سے اپوزیشن کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آخر حکومت کے پاس نقل مکانی کرنے والے مہاجر مزدوروں کا کوئی دستاویزکیوں نہیں ہے ؟ پیدل چلتے ہوئے ہلاک ہوئے مزدوروں کی تفصیل کیوں نہیں ہے ؟ کتنے مزدوروں کو معاوضہ دیا گیا اس کی تفصیل کیوں نہیں ہے ؟
  خصوصی بحث میں حصہ لیتے ہوئے آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ پروفیسر منوج جھا نے کہا کہ یہ شرمناک ہے کہ مہاجر مزدوروں کے اعداد و شمار حکومت کے پاس نہیں ہیں ،در اصل آپ کے اندر دل نہیں ہے ،دیدار کرنے کی اہلیت نہیں ہے ۔انھوں نے کہا کہ میں ایوان کی طرف سے تجویز پیش  کرتا ہوں کہ سبھی اراکین پارلیمنٹ کو معافی نامہ دینا چاہئے اور مزدوروں سے معافی مانگنی چاہئے کیونکہ واقعی ہم نے مزدوروں کی فکر نہیں کی۔ پروفیسر جھا نے کہا کہ یہ بیان بھی بند کرنا چاہئے کہ دوسرے ممالک کے مقابلہ ہندوستان میں کووڈ ۱۹؍ سے کم لوگوں کی موت ہوئی ہے ؟ انھوں نے کہا کہ جس کا باپ مرگیا ہو، کیا اس سے یہی کہیں گے ؟ انھوں نے کہا کہ یہ کون سا انصاف ہے کہ ایک جماعت کو کورونا کیلئے پھنسا دیا جائے لیکن نمستے ٹرمپ آرگنائزکرنے والی تنظیموں کو چھوڑ دیا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ میں سوال کرتا ہوں کہ آخر یہ اچانک لاک ڈائون کیسے ہوا ؟ یہ  کابینی فیصلہ تھا یا ذاتی ؟ انھوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ پی ایم کیئر فنڈ کا آڈٹ کیا جائے ۔
  راجیہ سبھا میں کانگریس کے ڈپٹی اپوزیشن آنند شرما نے کہا حکومت کو اس بات کا جواب دینا چاہئے کہ اچانک لاک ڈائون کیوں ہوا ؟ اس کیلئے حکومت نے پہلے سے کیا تیاری کی تھی ؟ اس اچانک لاک ڈائون سے کتنا فائدہ ہوا ، اس سے نقصان کتنا ہوا؟ ملک کو جانناچاہئے اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ بتائے۔ انھوں نے کہا کہ جو ریکوری کا ڈیٹا دیا جاتا ہے، اس کی بھی تفصیل بتائی جائے کہ یہ سب کہاں سے آتا ہے ؟ انھوں نے کہا کہ جب لاک ڈائون کیا گیا تو کل مریض ۶۰۰؍ تھے اور اب جب لاک ڈائون ختم کیا گیا تو ۵۰؍لاکھ مریض ہو گئے ؟ یہ کیا ہے ؟ انھوںنے کہا کہ ہمیں اسپتالوں کی معلومات فراہم کرائی جائے۔ انھوں نے کہا کہ کورونا کے سبب پتہ چلا کہ سرکاری اسپتالوں میں آئی سی یو والے بیڈ۳۰؍ فیصد ہیں اور پرائیویٹ اسپتالوں میں ۷۰؍ فیصد ہیں ، ایسا کیوں ہوا ؟ اب اس کو درست کرنے کیلئے حکومت کیا کرنے جا رہی ہے، اس کی تفصیل بیان کی جائے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ وبا اچانک آئی اور اس کیلئے ہندوستان نہیں پوری دنیا تیار نہیں تھی ، اچھے کام کئے گئے ، ہمارے ڈاکٹروں ، نرسوں ، کورونا واریئر نے اچھا کام کیا جس کی ستائش کی جانی چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ اگر لاک ڈائون کرنے سے پہلے صوبائی حکومتوں سے بات چیت کر لی جاتی ہے اور تحصیل سطح پر اس تعلق سے قدم اٹھائے جاتے تو جو پریشانیاں ہوئی ہیں وہ نہ ہوتیں ۔ ریل گاڑی بند کر دی گئی ، بسیں بند کر دی گئیں ، اس کی وجہ سے جو باہر ملکوں میں تصویر گئی کہ لاکھوں مزدور سڑکوں پر نکل آئے، پیدل گھر جا رہے ہیں، یہ کیا تھا ؟ انھوں نے کہا کہ نقل مکانی کے وقت کتنے مزدوروں کی موت ہوئی ، اس کی تفصیل ریاستوں سے لے کر ان کے اہل خانہ کو معاوضہ دیا جائے ،ایک نیشنل ڈیٹا بیس بنایا جائے کہ مہاجر مزدور کہاں کہاں ہیں اور کتنے ہیں ؟انھوں نے کہا کہ اس پر مزید بات ہونی چاہئے۔ 
 اس کے علاوہ کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال نے چین کی جانب سے ہونے والی  جاسوسی کے الزامات کا معاملہ اٹھایا اور اس کی حقیقت معلوم کرنے کا مطالبہ کیا۔ وینوگوپال نے وقفہ صفر کے دوران پوچھا کہ چینی کمپنی کی طرف سے صدر ، وزیر اعظم، کانگریسی صدر ، ممبران پارلیمنٹ  اور وزرائے اعلیٰ کی جاسوسی سے متعلق جو خبریں میڈیا میں آئی ہیں، اس کی حقیقت کیا ہے؟انہوں نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس پر نوٹس لینا چاہئے۔ چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ حکومت کو جاسوسی کی سچائی کی تحقیقات کرنی چاہئے۔اس دوران کانگریس لیڈر ملکارجن کھرگے نے تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے پر زور دیا اور کہا کہ بچوں کو ریاضی اور سائنس کی معیاری تعلیم دی جانی چاہئے تاکہ کمزور طلبہ کی ترقی ہوسکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK