وزیر مملکت برائے داخلہ نے زور دیا کہ ‘پولیس’ اور ‘عوامی نظم و نسق’ ریاستی فہرست میں آتے ہیں جس سے بنیادی ذمہ داری ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر عائد ہوتی ہے۔
EPAPER
Updated: August 20, 2025, 2:59 PM IST | New Delhi
وزیر مملکت برائے داخلہ نے زور دیا کہ ‘پولیس’ اور ‘عوامی نظم و نسق’ ریاستی فہرست میں آتے ہیں جس سے بنیادی ذمہ داری ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر عائد ہوتی ہے۔
مرکزی حکومت نے منگل کو لوک سبھا کو بتایا کہ ۲۰۲۰ء سے ۲۰۲۲ء کے درمیان ملک میں خواتین کے خلاف جرائم کے ۴۵ء۱۲ لاکھ سے زائد مقدمات درج کئے گئے۔ ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ جون مالیا کی جانب سے ملک اور خاص طور پر مغربی بنگال کے جنگل محل جیسے قبائلی اور دیہی علاقوں میں جنسی تشدد کے واقعات میں اضافے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں، ، وزیر مملکت برائے داخلہ بنڈی سنجے کمار نے رپورٹ شدہ جرائم میں اضافے کو تسلیم کیا۔
نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این سی آر بی) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کمار نے بتایا کہ ۲۰۲۰ء میں ۳ لاکھ ۷۱ ہزار ۵۰۳ مقدمات درج کئے گئے۔ یہ تعداد ۲۰۲۱ء میں بڑھ کر ۴ لاکھ ۲۸ ہزار ۲۷۸ ہوگئی اور ۲۰۲۲ء میں مزید بڑھ کر ۴ لاکھ ۴۵ ہزار ۲۵۶ معاملات تک پہنچ گئی۔ تاہم، وزیر نے اس اضافے کی وجہ صرف حقیقی واقعات کو ہی نہیں، بلکہ خواتین کے حقوق کے بارے میں زیادہ بیداری، پولیس اسٹیشنوں تک بہتر رسائی، افسران کیلئے صنفی حساسیت کی تربیت اور غلط کام کرنے والے افسران کیلئے سخت احتسابی اقدامات کو بھی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ’ووٹ چوری‘ معاملے کی گونج
مرکز کا کردار اور نیا قانونی فریم ورک
کمار نے ایوان کو یاد دلایا کہ ‘پولیس’ اور ‘عوامی نظم و نسق’ ریاستی فہرست میں آتے ہیں جس سے بنیادی ذمہ داری ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ مرکز مجرمانہ قوانین میں ترمیم، فنڈز کی فراہمی، تربیت، ٹیکنالوجی اور ایڈوائزری جاری کر کے اپنی جانب سے کوشش کرتا ہے۔ بھارتیہ نیائے سنہتا، بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا اور بھارتیہ ساکشیا ادھینییم، ان تین نئے مجرمانہ قوانین کے تحت ہونے والی اصلاحات کو اجاگر کرتے ہوئے، انہوں نے زور دیا کہ یہ فریم ورک متاثرین پر مرکوز ہے۔
ان قوانین کی اہم دفعات میں آن لائن رپورٹنگ، زیرو ایف آئی آر کا قبول کیا جانا، خواتین اور کمزور طبقوں کو پولیس اسٹیشنوں میں پیش ہونے سے چھوٹ، متاثرین کو معاوضہ اور سخت تحقیقات اور ٹرائل کی ٹائم لائنز شامل ہیں۔ ٹائم لائنز کو بہتر بناتے ہوئے ابتدائی تفتیش کیلئے ۱۴ دن، تحقیقات کیلئے ۹۰ دن، الزامات طے کرنے کیلئے ۶۰ دن اور فیصلے کے اعلان کیلئے ۴۵ دن کی ٹائم لائز متعین کی گئی ہیں۔ اس طرح کے مقدمات میں تاخیر سے بچنے کیلئے عدالتوں کو زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ سماعت ملتوی کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: چیف الیکشن کمشنر کیخلاف تحریک مواخذہ کی تیاری
مجوزہ اپراجیتا بل کے متعلق کمار نے کہا کہ متعلقہ وزارتوں نے بل کا جائزہ لے لیا ہے اور ریاستی حکومتوں کو اگلے اقدامات سے پہلے اپنے خیالات اور وضاحتیں پیش کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔ حکومت نے زور دیا کہ ان اقدامات کا مقصد انصاف کی تیز تر فراہمی کو یقینی بنانا اور خواتین کے خلاف جرائم کے متاثرین کیلئے ایک مضبوط معاون نظام بنانا ہے۔