بنگلورمیں راکیش ٹکیت پر حملہ، پہلے مائک سے مارنےکی کوشش ہوئی پھرسیاہی پھینکی گئی

Updated: May 31, 2022, 10:53 AM IST | Agency | Benglaru

حامیوں اور مخالفین میں ٹکراؤ،کسان لیڈر نے ریاست کی بی جےپی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا، راشٹریہ لوک دل نے خاطیوں کے خلاف فوری کارروائی کی مانگ کی

Rakesh Tikaits condition can be seen after the ink is thrown in the picture..Picture:INN
تصویر میں سیاہی پھینکے جانے کے بعد راکیش ٹکیت کی حالت دیکھی جاسکتی ہے۔ تصویر: آئی این این

 پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران بنگلور میں شر پسند عناصر نے کسان لیڈر راکیش ٹکیت پر پہلے مائک سے حملہ کرنے کی کوشش کی اور پھر ان کے چہرے پر سیاہی پھینک دی۔ اپنے لیڈر کے تحفظ کیلئے وہاں موجود کارکن فوری طور پر سرگرم ہوگئے اور انہوں نے مخالفین کو روکنے کی کوشش کی جس کے دوران  آزادانہ طور پر ایک دوسرے پر کرسیاں چلیں۔  راکیش ٹکیت نے اپنے اوپر حملے کیلئے کرناٹک کی بی جےپی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا جس نے سیکوریٹی فراہم نہیں کی۔ دوسری طرف جینت چودھری کی پارٹی  آر ایل ڈی   نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے خاطیوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔  راکیش ٹکیت ایک اسٹنگ آپریشن  کے تعلق سے پریس کانفرنس کررہے تھے جس میں   ایک کسان لیڈر رشوت مانگتے ہوئے کیمرے میں قید ہوگیاہے۔ حملے کے تعلق سے ٹکیت نے کہا کہ ’’ہم پریس کانفرنس کررہے تھے تبھی کچھ لوگ آئے اور انہوں  نے سامنے رکھے مائک سے حملہ کرنا شروع کردیا۔ یہ کرناٹک حکومت اور پولیس کی ناکامی ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’یہ ایک سازش تھی جس کی جانچ ہونی چاہئے۔‘‘ راشٹریہ لوک دل نے ٹکیت پر حملے کو ’’شرمناک‘‘ قرار دیتے ہوئےکرناٹک حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ خاطیوں کے خلاف فوری کارروائی کرے۔ راکیش ٹکیت یہ حملہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے قبل ہوا۔ پہلے ایک شخص نے ان کو مائک سے مارنے کی کوشش کی اور پھر دوسرے شخص نے ان پر سیاہی پھینک دی۔ کسان لیڈر کے حامیوں نے فوری طور پر اس شخص کو نہ صرف  پکڑ لیا بلکہ اس کی اچھی خاصی پٹائی بھی کردی۔   ٹکیتمقامی چینل کے اسٹنگ آپریشن کی ویڈیو پر صفائی دینے  والے تھے مگر وہ   میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے اس سے پہلے ہی ان پر حملہ ہوگیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK