Inquilab Logo Happiest Places to Work

رام مندرچندہ چوری :ملزمین کیخلاف بلڈوزر ایکشن کی تیاری، وکلاء کا بھی احتجاج

Updated: July 02, 2026, 10:34 PM IST | Ayodhya

مندر ٹرسٹ کے سابق ملازم لوکش مشرا کو ایودھیا ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے نوٹس، اس کی جائیدادوںکو مسمار کرنے پر غور،فیض آبا دبار ایسوسی ایشن کے وکیلوںکاملزموں کے خلاف احتجاجی مارچ ، ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ

Ram Mandir Trust General Secretary Champat Rai and Trustee Anil Mishra are the key accused.
رام مندر ٹرسٹ کےجنرل سیکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹی انیل مشراکلیدی ملزم ہیں

ایودھیا میں رام مندر کے نذرانہ چوری کے معاملے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ فیض آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر کالیکا پرساد مشرا کی قیادت میں جمعرات کو سیکڑوں وکلاء نے شہر میں احتجاجی مارچ نکالا اور بعد ازاں پولیس سپرنٹنڈنٹ (شہر) کے دفتر پہنچ کر شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے، ٹرسٹی انل مشرا اور گوپال راؤ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے تحریری درخواست پیش کی۔ وکلا نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی جانچ مرکزی تفتیشی ادارے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے بھی کرائی جائے۔ اس دوران انتظامیہ اب ملزموںکےخلاف بلڈوزر ایکشن کی بھی تیاری کررہا ہے۔کچھ ذرائع کے مطابق رام مندر ٹرسٹ  کے سابق ملازم لوکش مشرا کو ایودھیا  ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے نوٹس دیاگیا ہے اوران کی جائیدادوںکے خلاف بلڈوزر کارروائی پر غور کیاجارہا ہےجن کے بار ے میںشبہ ہے کہ یہ جائیدادیںچڑھاوا چوری سے ملنے والی ر قم کے ذریعے بنائی گئیں۔ایک خبر یہ بھی ہےکہ چمپت رائے اور انل مشرا کو ٹرسٹ وجہ بتاؤنوٹس بھی جاری کرے گا جس کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی کی جائےگی ۔
 اس دوران ملزمین کے خلاف احتجاجی مارچ کے دوران وکلا نے الزام لگایا کہ رام مندر نذرانہ چوری معاملے میں جن افراد کے خلاف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، ان کے خلاف اب تک کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ مظاہرین نے اتر پردیش پولیس پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ افراد کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ان کے خلاف قانونی کارروائی آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔
پولیس بھی ذمہ دار 
 فیض آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر کالیکا پرساد مشرا نے کہا کہ رام مندر جیسے انتہائی محفوظ مقام پر اگر اتنے بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں تو اس کی ذمہ داری صرف متعلقہ افراد پر ہی نہیں بلکہ پولیس پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملے میں بڑی مالی رقم شامل ہونے کے سبب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ(ای ڈی) کو بھی فوری طور پر متحرک ہونا چاہئے تاکہ مالی بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ جانچ ممکن ہو سکے۔انہوں نے اس معاملے کی مرکزی تفتیشی ادارے سے مکمل جانچ کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس ایف آئی آر درج نہیں کرتی تو  دیگر قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔کالیکا پرساد مشرا نے یہ بھی کہا کہ جن افراد پر الزامات عائد کئے جا رہے ہیں، انہیں پولیس کی جانب سے تحفظ حاصل ہے، اسی لیے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے میں رکاوٹ پیش آ رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وکیلوں کی جانب سے دی گئی یہ شکایت پہلے سے درج مقدمے سے الگ ہے اور اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق اس بار مخصوص افراد کے خلاف نئی ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
آزادانہ جانچ کی جائے
 بار ایسوسی ایشن کے صدر نے پہلے درج مقدمے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پولیس نے مختلف مقامات سے برآمد ہونے والی نقد رقم کو جس انداز میں ریکارڈ کیا ہے، اس پر شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق متعدد مقامات سے برآمد ہونے والی رقم کو ایک ہی اندراج میں دکھایا گیا، جس کی آزادانہ جانچ ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ شکایت میں چمپت رائے، انل مشرا اور ٹرسٹ کے دیگر ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور جانچ کے دوران مزید افراد کے نام بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
۶؍ جولائی کو ٹرسٹ کی میٹنگ 
 رام مندر چندہ چوری  معاملے  میں جاری تحقیقات کے درمیان سبھی کی نظریں شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کی۶؍ جولائی کو ہونے والی میٹنگ پر لگی ہوئی ہیں۔ ٹرسٹ ذرائع کے مطابق اجلاس میں جنرل سیکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹی ڈاکٹر انیل مشرا کو شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا۔ دونوںسے تحریری اور زبانی وضاحت طلب کی جائے گی اور انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے گا۔ اس کے بعد ٹرسٹ اپنے ضابطوں اور قائم شدہ طریقہ کار کے مطابق مزید کارروائیوں کا فیصلہ کرے گا۔ٹرسٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرسٹ کے بائی لاز کے تحت کسی اہلکار کے خلاف وضاحت کے بغیر کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ پہلے شوکاز نوٹس جاری کیا جاتا ہے، اس کے بعد اہلکار کے جواب کی سماعت اور ریکارڈنگ ہوتی ہے۔ ٹرسٹ جواب پر غور کرنے کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کرتا ہے۔ اگر میٹنگ میں کسی اہلکار کا استعفیٰ قبول کرنے یا انہیں عہدے سے ہٹانے کی تجویز پیش کی جاتی ہے، تو ٹرسٹ کے بائی لاز کے مطابق، اکثریتی ووٹ سے فیصلہ کیا جائے گا۔

ram mandir Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK