Inquilab Logo Happiest Places to Work

بس اک حسینؓ کا نہیں ملتا کہیں سراغ

Updated: June 29, 2026, 1:12 PM IST | Professor Sarwar Al-Huda | Mumbai

اس مضمون میں خلیل الرحمان اعظمی اور شہریار کے ایک ایک شعر کو بنیاد بنا کر یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہم ہر سال محرم مناتے ہیں مگر اصل جذبہ کہیں پیچھے رہ گیا ہے اور ہم اُس پیغام کو بھولتے جارہے ہیں جو کربلا سے جاری ہوا اور پوری دُنیا میں پھیلا تھا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

بس اک حسینؓ کا نہیں ملتا کہیں سراغ

یوں ہر گلی یہاں کی ہمیں کربلا لگی

(خلیل الرحمٰن اعظمی)

حسینؓ ابن علیؓ کربلا کو جاتے ہیں

مگر یہ لوگ ابھی تک گھروں کے اندر ہیں

( شہریار)

علی گڑھ میں یہ دو شعر الگ الگ وقتوں میں کہے گئے مگر ان دونوں کی روح ایک ہی جگہ بستی ہے۔ وہ متکلم جو کربلا کی راہ کا مسافر بھی ہے، الگ الگ تجربے سے گزرتا ہے۔ یہ دنیا تاریخی اور تہذیبی طور پر بدلتی رہی ہے، اور واقعہ کربلا بھی اس تبدیلی کا کچھ اس طرح گواہ بنا ہے کہ جیسے تاریخی اور تہذیبی طور پر اس کا سفر یوں ہی جاری رہے گا۔ عقیدہ جب وجود میں سرایت کر جائے اور وہ غیر نہ رہے تو  زندگی کا ہر لمحہ اس کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ ایک کیفیت سے دوچار  ہونے کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ تخلیقی طور پر اس واقعے کی گونج اتنی دور تک سنائی دیتی ہے کہ وہ مطالعے کا ایک الگ ہی موضوع ہے، لیکن اسی سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ کربلا کا واقعہ تاریخی ہے مگر وقت نے اسے کتنا تخیلی بنا دیا ہے۔ مرثیہ اور انیس کے مرثیہ کی تخیلاتی دنیا سے  کلیم الدین احمد کو شدید اختلاف تھا۔ مرثیے کی تنقید کلیم الدین کی کتاب میر انیس کے ساتھ ایک اور ہی اسلوب سے دوچار ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے: نت نئے ضابطوں کی ضرب اور غیر سرکاری تنظیمیں

خلیل الرحمٰن اعظمی اور شہر یار کے شعر آج ایک ساتھ یاد آئے اور مرثیے کے ساتھ یاد آئے۔ محرم کی نویں اور دسویں تاریخ ہمارے لئے علمی معاملہ بھی ہے مگر یہ معاملہ ایک دم سے احساس کی طرف اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ مگر کبھی یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ یہ تاریخیں رسمی طور پر ہمارے وجود کا حصہ بننے کے بجائے کسی نئی تحریک کا وسیلہ بن جائیں۔ یہ نئی تحریک شخصی ہوتی ہے اسے اجتماعی بننے میں بہت وقت لگتا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ یہ نئی تحریک شخصی ہی رہ جاتی ہے لہٰذا اصل تو ہماری ذات کا مسئلہ ہے۔ اپنی ذات کی تطہیر اور اپنی ذات کا نوحہ۔ یہ دکھ اس احساس اور احتساب کا بھی ہے کہ ہم اندر سے کتنے ڈھیٹ اور کتنی آلائشوں سے بھرے ہوئے ہیں۔

رقت ایک وقتی عمل ضرور ہے لیکن اس کی دیر پائی کا احساس بھی ضروری ہے۔ رقت جب اندر سے درد مندی کا احساس جگا دے اور وہ زندگی کی قدر بن جائے، تو ایسے میں اندھیرا چھٹنے لگتا ہے۔ رقت اپنے اندر تاریخ کے شور کو چھپائے ہوئے ہے۔ یہ شخصی عمل رفتہ رفتہ تاریخی بن جاتا ہے۔ رقت کو تہذیبی عمل کہتے ہوئے ایک حجاب سا ہوتا ہے۔ کسی عمل کا تاریخی اور تہذیبی بن جانا بعض اوقات اس کی حرکیات اور حرارت کو رسمیات میں تبدیل کر دیتا ہے۔مجھے خوف آنسو اور رقت کی رسمیات سے نہیں بلکہ خوف اس کے رسمیات میں تبدیل ہو جانے سے ہے۔تکرار کے ساتھ کسی متن اور خیال کو اس کی روح کے ساتھ دیکھنا اور محسوس کرنا کتنا مشکل ہے۔بعض اوقات تکرار کی کیفیت احساس کی شدت کو کم کر دیتی ہے۔

مجھے محرم کی نویں اور دسویں تاریخ عام طور پر اپنے وطن لے آتی ہے۔ یہ چھٹیوں کا زمانہ بھی کیا زمانہ ہے کہ جیسے انہی تاریخوں میں پہلے سے گھیرا ہوا ہو۔ شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ان تاریخوں سے ہم یوں بھی گھرے ہوئے ہیں یا ان کے ساتھ ہیں۔ محرم کی یہ تاریخیں رخصت پر ہیں، معلوم نہیں کہ ان تاریخوں کو ہم نے کس قدر محسوس کیا، اور اگر محسوس کیا تو وہ پہلے سے کتنا زیادہ یا مختلف ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’اب اُنہیں ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر‘‘

کوئی متن ایسا بھی ہوتا ہے، جسے صرف احساس نے بنایا ہو۔ اور ہم اس متن کو صرف بطور احساس دیکھ سکیں اور پڑھ سکیں۔ مگر مشکل یہ ہے کہ مرثیہ اظہار کی سطح پر بہت توانا ہے۔ اور اکثر مرثیہ کی خاموشی ہماری اپنی کوتاہی کی وجہ سے شور میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ میں نے کب کہا تھا کہ مرثیے کو ایک خاموش متن کی طرح  دیکھا جائے۔ کلیم الدین احمد کو شکایت اسی شور سے تھی۔ انہوں نے شور کو مقرر کے طور پر دیکھا تھا۔ حسینؓ کا وقت ختم نہیں ہوا۔ لیکن حسینؓ کا سراغ نہ ملنا  جس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے اس کا تعلق ہماری زندگی کی بے حسی اور غفلت سے ہے۔ حسینؓ کے بغیر حسین سے وابستہ دوسری اشیاء کا خیال حسینؓ کا بدل نہیں ہوسکتا۔ یہ اور بات ہے کہ یہاں کی گلی اور زمین کربلا لگی۔ شہریار نے صورتحال کو سیال بنا دیا ہے۔ ایک منظر سا ابھرتا ہے اور نگاہ جھک جاتی ہے۔ نگاہ اٹھتی ہے پھر جھک جاتی ہے۔ غصہ دبا دبا سا ہے۔ 

محرم کی نویں اور دسویں تاریخ گزر چکی ہے لیکن حسینؓ کا خیال ہماری تہذیبی زندگی کا ایک اہم حوالہ ہے۔ یہ خیال واقعہ ہے جو زمانی فاصلے کے ساتھ ساتھ ہماری قربتوں میں اضافہ کرتا ہے۔ حسینؓ ابن علیؓ کو کربلا کی طرف جاتے ہوئے جو دیکھا گیا تھا وہ سفر اب بھی جاری ہے۔ زمین کربلا کی تو کربلا کی زمین ہے دوسری زمینیں کہاں اس کا مقابلہ کر سکتی ہیں؟ پھر بھی فکر اور عمل کے ساتھ کربلا کی زمین دوسری زمینوں کے ساتھ ایک رشتہ قائم کر لیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جمہوریت، اخلاقیات اور ایمانداری

کربلا کی زمین اور مٹی، خون اور آنسو کے ساتھ روشن بھی ہے اور نم بھی۔ کربلا کی مٹی پورے طور پر کہیں اٹھا کر تو نہیں لائی جاسکتی پھر بھی کربلا کی مٹی کو اپنے ساتھ لے کر آنے کی روایت موجود ہے۔ مٹی تو مٹی ہے اس کی اہمیت کا انحصار خون اور آنسو کی فراوانی سے ہے۔ ہماری تہذیبی زندگی میں کربلا سے وابستہ قربانی کی ایک خاص اہمیت ہے۔ پٹنہ سٹی میں شیر شاہی مسجد سے متصل ایک قبرستان ہے جہاں ۲۰۰۳ء میں میرا جانا ہوا تھا۔ وہاں اشرف علی خاں فغاں ابدی نیند سو رہے ہیں۔ ان کی قبر اور کتبے کی تلاش میں یہاں تک آیا تھا۔ معلوم ہوا کہ اس قبرستان کی مٹی کربلا سے لائی گئی تھی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ساری مٹی کربلا کی ہے بلکہ تھوڑی سی مٹی وہاں سے لائی گئی اور اسے قبرستان کی مٹی میں ملا دیا گیا۔ ہماری نگاہ جو اس طرف کو بار بار چلی جاتی ہے تو اس کی وجہ صرف علم اور آگہی نہیں بلکہ حق کی خاطر قربان ہو جانے کا شوق اور جذبہ ہے۔ علمی روایت اپنی جگہ اہم ہے لیکن حسینؓ کے تعلق سے علمی روایت حق گوئی، حق پرستی اور حق کے لئے سر کٹا لینے کی روایت بھی ہے۔ شاید اسی لئے کہا جاتا ہے کہ علمی روایت کا محض ذکر کرنا ایک معنی میں عمل کا کمزور ہو جانا ہے۔ یہ وہاں ہوتا ہے جہاں علمی روایت شعوری یا غیر شعوری طور پر علمی لذت کا وسیلہ بن جاتی ہے۔ واقعہ کربلا  کے تعلق سے علمی گفتگو آخرکار طریقت اور آنسو کے ساتھ عمل کا جوش پیدا کرتی ہے۔

مجھے آج کی شام بلکہ بڑھتی ہوئی رات کا خیال جن دو شعروں سے آیا تھا میں اب بھی ان ہی کے ساتھ ہوں۔

muharram Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK