Updated: July 02, 2026, 6:04 PM IST
| Pune
گزشتہ دنوں کیتن اگروال کے قتل کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سے اب تک لوہا گڑھا قلعہ پر سیاحوں کی آمد میں ۲۵ سے ۵۰ فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ یہاں واقع قتل کا مقام، جسے اب سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر ”سیا پوائنٹ“ کہا جا رہا ہے، بہت سے سیاحوں کیلئے توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔
لوہا گڑھ قلعہ۔ تصویر: آئی این این
پونے کے قریب واقع لوہا گڑھ قلعہ پر آنے والے سیاحوں کی تعداد میں حالیہ دنوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ کچھ دنوں قبل اسی تاریخی مقام پر پونے کے تاجر کیتن اگروال کو ان کی گرل گرینڈ سیا گوئل اور اس کے بوائے فرینڈ چیتن چودھری نے گہری کھائی میں دھکیل دیا تھا۔
گزشتہ دنوں کیتن اگروال کے قتل کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سے اب تک یہاں سیاحوں کی آمد میں ۲۵ سے ۵۰ فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ایک اہلکار نے بتایا کہ چھٹیوں کے دنوں میں آنے والے سیاحوں کی تعداد پہلے تقریباً ایک ہزار ہوا کرتی تھی، اب بڑھ کر ۱۵۰۰ ہو گئی ہے، جبکہ عام دنوں میں یہ تعداد ۴۰۰ سے بڑھ کر ۶۰۰ سے تجاوز کرگئی ہے۔ مقامی باشندوں کا دعویٰ ہے کہ اب عام دنوں میں بھی بڑی تعداد میں سیاح قلعہ کا رخ کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کیتن اگروال قتل معاملہ: ’ہوڈی‘ سے پولیس کو قتل کا سراغ لگا
سوشل میڈیا پر ”سیا پوائنٹ“ وائرل
قلعہ پر واقع قتل کا مقام، جسے اب سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر ”سیا پوائنٹ“ (Siya Point) کہا جا رہا ہے، بہت سے سیاحوں کیلئے توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سیاح سیکوریٹی اہلکاروں، گائیڈز اور ساتھی ٹریکرز سے اس کیس سے جڑی اصل جگہ کی نشان دہی کرنے کیلئے کہہ رہے ہیں۔ وہ قلعہ جو کبھی بنیادی طور پر اپنے خوبصورت مناظر اور ٹریکنگ کے راستوں کیلئے جانا جاتا تھا، اب تجسس پر مبنی مہم جوئی کا مرکز بن گیا ہے۔
’لوہا گڑھ وساپور وکاس منچ‘ کے ممبر سچن ٹیکاواڑے نے اس رجحان کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات پریشان کن ہے کہ تاریخی اہمیت کی حامل ایک یادگار اب ایک قتل سے منسوب ہوگئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے میمز اور لطیفے قلعے کے تشخص کو مزید نقصان پہنچا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جیل میں ۶؍ سال مکمل ہونے پر ’دی گارجین‘ میں عمرخالد کے انٹرویو کی اشاعت
واضح رہے کہ چھترپتی شیواجی مہاراج سے منسوب اور یونیسکو (UNESCO) سے تسلیم شدہ لوہا گڑھ قلعہ پونے شہر سے تقریباً ۵۰ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اس قلعہ کو دسویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ قلعہ روایتی طور پر مہاراشٹر کے مصروف ترین تاریخی مقامات میں سے ایک ہے، جہاں ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں۔ ہفتے کے آخر میں عام طور پر روزانہ ۴۰۰۰ سے ۵۰۰۰ کے درمیان لوگ یہاں آتے ہیں۔ لوناولہ دیہی پولیس نے جاری قتل کی تفتیش کے حصے کے طور پر منگل کے روز قلعے کو زائرین کیلئے بند کر دیا ہے۔ پولیس نے وہاں موجود سیاحوں کو باہر نکال کر کیس سے جڑے تفتیشی طریقۂ کار کو انجام دیا۔