Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایودھیا جانے والے کانگریس لیڈران مختلف شہروں میں نظربند

Updated: July 01, 2026, 10:51 AM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow

کانگریس کے ریاستی سربراہ اجے رائے،امیٹھی کے ایم پی کشوری لال شرما اور ایم ایل سی دیپک سنگھ کو ایودھیا میں ہی نظر بند کیا گیا ہے، الگ الگ شہروں میں کانگریس کااحتجاج۔

Congress workers protest to allow Congress leaders to go to Ayodhya. Photo: INN
کانگریس لیڈروں کو ایودھیا جانے دینے کیلئے کانگریس کارکنوں کا احتجاج۔ تصویر: آئی این این

رام مندر میںچڑھاوے کی چوری کے معاملے پر جاری سیاسی ہنگامہ آرائی کے درمیان اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے کی قیادت میں رام مندر کے درشن کے لئے ایودھیا جانے والے کانگریسی وفد کو مندر تک پہنچنے سے روک دیا گیا جبکہ ریاست کے مختلف شہروں میں کئی کانگریسی  لیڈروں کو نظر بند  اور حراست میں لینے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔اس اقدام کے خلاف ایودھیا اور بنارس سمیت مختلف مقامات پر کانگریس کارکنوں نے احتجاج کیا۔

کانگریس ذرائع کے مطابق اجے رائے، امیٹھی کے رکن پارلیمان کشوری لال شرما، سیتاپور کے رکن پارلیمان راکیش راٹھور، پریاگ راج کےایم پی اجول رمن سنگھ اور بارہ بنکی کے رکن پارلیمان تنوج پنیا منگل کو رام مندر میں درشن کیلئے ایودھیا پہنچنے والے تھے، لیکن پولیس نے مختلف مقامات پر انہیں روک دیا۔اجے رائے نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے انہیں پیر کی رات ایودھیا کے ایک ہوٹل سے منتقل کرکے کمار گنج میں واقع سرکاری گیسٹ ہاؤس میں نظر بند کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت انہیں رام مندر میں درشن سے روک کر یہ ثابت کر رہی ہے کہ وہ عوام کے مذہبی حقوق سے خوفزدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک انہیں رام مندر میں درشن کی اجازت نہیں دی جاتی، وہ ایودھیا نہیں چھوڑیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: سچن اہیر نے بھی اُدھو کا ساتھ چھوڑا، کونسل میں ڈپٹی چیئر مین بنیں گے

کانگریس نے الزام لگایا کہ ریاست بھر میں پارٹی  لیڈروں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں۔ کانگریس کے سابق ایم ایل سی دیپک سنگھ کو ان کی رہائش گاہ پر نظر بند رکھا گیا جبکہ  الہ آباد میں رکن پارلیمان اجول رمن سنگھ کو بھی پولیس نے گھر سے باہر نکلنے نہیں دیا۔  دوسری طرف امیٹھی کے رکن پارلیمان کشوری لال شرما اور دیپک سنگھ کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ پولیس کو چکمہ دے کر وہ ایودھیا پہنچ گئے، تاہم بعد میں پولیس نے ان کے ہوٹل کا گھیراؤ کر لیا اور انہیں وہیں نظر بند کردیا ۔ کشوری لال شرما نے الزام لگایا کہ چندے کی چوری کو تو نہیں روکا گیا، لیکن انہیں رام مندر کے درشن سے ضرور روک دیا گیا۔ آخر یہ کیسی سناتن روایت ہے کہ ہندوؤں کو ہی مندر میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے؟

یوگی حکومت کی ان کارروائیوں کے خلاف ایودھیا کے کمار گنج میں واقع آچاریہ نریندر دیو یونیورسٹی کے مرکزی دروازے پر کانگریس کارکنوں نے دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ پارٹی لیڈروں کو  فوری طور پررام مندر میں جانے کی اجازت دی جائے۔ پولیس نے احتجاج کے دوران یوتھ کانگریس کے ریاستی نائب صدر شرد شکلا سمیت تقریباً دو درجن کارکنوں کو حراست میں لے کر پولیس لائن منتقل کر دیا۔اسی طرح بنارس کے بڑا گاؤں علاقے میں بھی کانگریس کارکنوں نے اجے رائے کی نظر بندی اور مقامی شہری مسائل کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے نالوں، پینے کے پانی، بجلی، سڑکوں، آبی جماؤ اور گئوشالاؤں کی خراب صورتحال پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھئے: ناگپور: کسان بیل کے ساتھ خود ہل جوتنے پر مجبور

دریں اثنااجے رائے کی اہلیہ رینا رائے نے ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا کہ ان کے شوہر کو پولیس تحویل میں لے گئی ہے اور اہل خانہ کو ان کی موجودہ جگہ کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی، جس کے باعث خاندان شدید تشویش میں مبتلا ہے۔  یوگی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے شوہر کی آواز دبانے کیلئے حکومت کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔

رام مندر چڑھاوا چوری پر ایس آئی ٹی کی رپورٹ کو عام کر نے کا مطالبہ

نئی دہلی (ایجنسی):کانگریس نے  رام مندر میں چڑھاوا چوری کے معاملے میں بڑے اور ذمہ دار لوگوں کو بچانے کا الزام لگاتے ہوئےمودی حکومت اور مندر ٹرسٹ سے اس معاملے کی جانچ کیلئے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی کی رپورٹ عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔کانگریس ترجمان سپریہ شرینیت نے منگل کو پارٹی ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس کے میں کہا کہ اتنے اہم معاملے پر وزیر اعظم  مودی خامو ش ہیں۔  انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے عقیدت مندوں کی عقیدت کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں۴۰؍ دنوں کے اندر۷۰؍ چوریوں کا پتہ چلا ہے لیکن اپنے لیڈروں کو بچانے کیلئے اسے عام نہیں کیا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK