Updated: October 21, 2026, 5:07 PM IST
| New York
ٹیکنالوجی کی تاریخ سے تعلق رکھنے والا ایک نایاب اور مکمل طور پر فعال ایپل وَن کمپیوٹر نیلامی میں تقریباً ۹ء۱۰؍ کروڑ روپے میں فروخت ہوا ہے۔ ایپل کے شریک بانی اسٹیو ووزنیاک کے دستخط والے اس تاریخی کمپیوٹر کے ساتھ کمپنی کے دوسرے شریک بانی اسٹیو جابز کا ۱۹۷۸ء میں لکھا گیا ایک نایاب خط بھی شامل تھا۔
ایپل کمپیوٹر۔ تصویر:آئی این این
ٹیکنالوجی کی تاریخ سے تعلق رکھنے والا ایک نایاب اور مکمل طور پر فعال ایپل وَن کمپیوٹر نیلامی میں تقریباً ۹ء۱۰؍ کروڑ روپے میں فروخت ہوا ہے۔ ایپل کے شریک بانی اسٹیو ووزنیاک کے دستخط والے اس تاریخی کمپیوٹر کے ساتھ کمپنی کے دوسرے شریک بانی اسٹیو جابز کا ۱۹۷۸ء میں لکھا گیا ایک نایاب خط بھی شامل تھا۔ ’ہیٹ فیلڈ‘ (Hatfield) کے نام سے مشہور اس کمپیوٹر کی نیلامی میں دو خریداروں کے درمیان تقریباً ۲۸؍ منٹ تک مقابلہ جاری رہا اور بالآخر یہ۴۸ء۱۱؍ لاکھ امریکی ڈالر میں فروخت ہوا۔ نیلام گھر بونہامز کے مطابق، یہ کسی تجارتی طور پر فروخت ہونے والے ایپل وَن کمپیوٹر کی نیلامی میں ایک ریکارڈ قیمت ہے۔
یہ بھی پڑھئے:شکتی سامنت: استاد سے ہدایتکار تک کا شاندار سفر
اس کمپیوٹر کی اہمیت صرف اس کی نایابی اور کام کرنے کی صلاحیت تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ساتھ موجود تاریخی دستاویزات بھی اسے غیر معمولی بناتی ہیں۔ اسٹیو جابز نے ۱۸؍جنوری ۱۹۷۸ء کو کمپیوٹر کے اصل مالک فریڈ ہیٹ فیلڈ کے نام ایک خط لکھا تھا۔ اس خط میں انہوں نے ایپل وَن کمپیوٹر کے بدلے نئے ایپل۲؍ کمپیوٹر کا مدربورڈ حاصل کرنے کی پیشکش کی تھی، جس کے لیے اضافی ۴۰۰؍ ڈالر ادا کرنے تھے۔ تاہم، ہیٹ فیلڈ نے اپنا پرانا کمپیوٹر اپنے پاس ہی رکھا، جس کی وجہ سے آج یہ تاریخی نمونہ محفوظ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ریاستی حکومت کا خواتین کی۷؍ اسکیموں میں کٹوتی کرنے کا فیصلہ
ایپل وَن کمپیوٹر کا مدربورڈ اسٹیو ووزنیاک کے دستخط سے مزین ہے۔ ووزنیاک نے ۱۹۷۶ء میں اس کمپیوٹر کو تیار کیا تھا، جبکہ اسٹیو جابز نے اس کی تشہیر اور کاروباری فروخت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس کمپیوٹر کے ساتھ اصل ہدایت نامہ، ہارڈویئر کے دیگر اجزا اور ’ایپل وَن اونرز کلب‘ میں شمولیت کی ٹائپ شدہ دعوت بھی نیلام کی گئی۔ ان اشیا نے اس کی تاریخی اور جمع کرنے والوں کے لیے اہمیت میں مزید اضافہ کیا۔نیلام گھر کے ریکارڈ کے مطابق، ہیٹ فیلڈ ایپل وَن کمپیوٹر کو سرکاری ایپل وَن رجسٹری میں ۴۸؍ویں نمبر پر درج کیا گیا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، دنیا میں اس کمپیوٹر کے ۷۵؍ سے بھی کم تصدیق شدہ نمونے موجود ہیں، جبکہ فعال حالت میں محفوظ کمپیوٹرز کی تعداد اس سے بھی کم ہے۔ یہی نایابی، تاریخی اہمیت اور اسٹیو جابز و اسٹیو ووزنیاک سے براہ راست تعلق اسے ٹیکنالوجی کے شوقین افراد اور نوادرات جمع کرنے والوں کے لیے غیر معمولی بناتا ہے۔
ایپل کی ابتدا ۱۹۷۰ء کی دہائی میں ہوئی، جب اسٹیو جابز اور اسٹیو ووزنیاک نے ذاتی کمپیوٹر بنانے کے منصوبے پر کام شروع کیا۔ دونوں نے محدود وسائل کے ساتھ جابز کے والدین کے گھر کے گیراج میں کمپیوٹر تیار کرنے کا کام آگے بڑھایا۔ ایپل وَن کمپنی کی پہلی مصنوعات میں شامل تھا اور اس نے ذاتی کمپیوٹرز کو عام صارفین تک پہنچانے کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔تقریباً پانچ دہائیوں بعد اس کمپیوٹر کی ریکارڈ قیمت پر فروخت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی کی تاریخ سے وابستہ نایاب اشیا کی اہمیت وقت گزرنے کے ساتھ بڑھ سکتی ہے۔ ایپل کی بنیاد کے ۵۰؍ سال مکمل ہونے کے موقع پر ہونے والی اس نیلامی نے کمپنی کے ابتدائی دور سے تعلق رکھنے والے اس تاریخی کمپیوٹر کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔