افزائش نسل کا موسم اپنے معمول کے وقت سے پہلے ہی شروع ہو گیا ہے، کسی بڑی ماحولیاتی تبدیلی کا اشارہ، انڈوں کی حفاظت کیلئے باڑ لگا دی گئی۔
EPAPER
Updated: October 18, 2026, 10:10 AM IST | Siraj Shaikh | Murud Janjira
افزائش نسل کا موسم اپنے معمول کے وقت سے پہلے ہی شروع ہو گیا ہے، کسی بڑی ماحولیاتی تبدیلی کا اشارہ، انڈوں کی حفاظت کیلئے باڑ لگا دی گئی۔
کوکن کے ساحل پر سمندری کچھوؤں کے گھونسلے بنانے کا سیزن اس سال توقع سے دو سے تین ماہ پہلے شروع ہو گیا ہے اور اس موسم کا پہلا گھونسلہ ماہ اکتوبر میں ہی رتناگیری ضلع کے گوہاگر کے ساحل پر پایا گیا۔ کچھوؤں کی افزائش نسل کا موسم، جو عام طور پر نومبر اور مارچ کے درمیان شروع ہوتا ہے، گزشتہ چند سال میں بنیادی طور پر جنوری اور مارچ کے درمیان دیکھا گیا تھا۔ تاہم امسال اکتوبر میں پہلا گھونسلہ ملنے کے بعد ماہرین ماحولیات اور محققین اب اس بات پر توجہ دے رہے ہیں کہ آیا یہ سمندری ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کا اشارہ ہے؟
اس ضمن میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق ہر سال، بڑی تعداد میں مادہ کچھوے، خاص طور پر ’اولیو رِڈلے‘ کی نسل کے، تین ساحلی اضلاع، رائے گڑھ، رتناگیری اور سندھو درگ میں اپنے انڈے دینے آتی ہیں۔ محکمہ جنگلات کے مینگروز سیل کے ریکارڈ کے مطابق، افزائش نسل کا عمل، رائے گڑھ کے ۴؍، سندھو درگ میں تقریباً ۲۰؍ اور رتناگیری ضلع میں تقریباً ۳۰؍ ساحلوں پر ہوتا ہے۔ بتا دیں کہ گوہاگر کا ۶؍ کلومیٹر لمبا ساحل سمندر ہے جہاں پورے مہاراشٹر میں گھونسلوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس تاریخی ساحل پر اس سیزن کا پہلا گھونسلہ ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں گزشتہ سال۱۴۵؍ گھونسلے ریکارڈ کیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’بچوں کو انٹرنیٹ سے دور نہیں رکھا جا سکتا، یہ ان کا بنیادی حق ہے‘‘
اس ضمن میں محکمہ جنگلات کے مینگرو سیل کے جنوبی کوکن کےافسرکنچن پوار نے بتایا کہ چونکہ یہ گھونسلہ ساحل پر جوار کی لکیر سے محفوظ فاصلے پر پایا گیا ہے اس لئے کچھوؤں کے انڈوں کی حفاظت بے حد ضروری ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈوں کو ان کی اصل جگہ سے ہٹائے بغیر قدرتی طور پر بنے ہوئے گھونسلے کے گرد ایک مضبوط جال کی باڑ لگا دی گئی ہے تاکہ انڈوں کا قدرتی مسکن لومڑیوں، کتوں اور دیگر آوارہ جانوروں سے محفوظ ر ہ سکے۔ گوہاگر کے ساحل پر فوری طور پر جال کی باڑ لگا کر گھونسلے کو محفوظ کر لیا گیا ہے۔ یہ اس سال کی سمندری کچھوؤں کے تحفظ کی مہم کا باقاعدہ اور حوصلہ افزا آغاز ہے۔