Updated: April 26, 2026, 6:05 PM IST
| Mumbai
ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) نے ڈجیٹل والیٹ اور پری پیڈ کارڈ (پی پی آئی) کے استعمال کو محفوظ بنانے کے لیے سخت قواعد کا مسودہ جاری کیا ہے۔ اس میں نان بینکنگ کمپنیوں کے لیے کم از کم ۵؍ کروڑ روپے کی نیٹ ورتھ اور ایک الگ ایسکرو اکاؤنٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔
آر بی آئی آفس: تصویر:آئی این این
ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) نے ڈجیٹل والٹ اور پری پیڈ کارڈ (پی پی آئی) کے استعمال کو محفوظ بنانے کے لیے سخت قواعد کا مسودہ جاری کیا ہے۔ اس میں نان بینکنگ کمپنیوں کے لیے کم از کم ۵؍ کروڑ روپے کی نیٹ ورتھ اور ایک الگ ایسکرو اکاؤنٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ آر بی آئی نے عام لوگوں کو بڑی راحت دینے اور فریب دہی سے بچانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ آج کل ہر کوئی ڈجیٹل والیٹ اور پری پیڈ کارڈ استعمال کر رہا ہے، ایسے میں صارفین کی حفاظت، ان کے پیسے کی سیکوریٹی اور نظام کو شفاف بنانے کے لیے نئے اور سخت قواعد کا مسودہ تیار کیا گیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد ڈجیٹل لین دین کو مزید محفوظ بنانا ہے۔
اس نئی اسکیم کے تحت، آر بی آئی نے پری پیڈ پیمنٹ انسٹرومنٹس (پی پی آئی) یعنی ڈجیٹل والیٹس کے لیے ایک ماسٹر ہدایت جاری کی ہے۔ اس کے مطابق، جو بینک ڈیبٹ کارڈ جاری کرتے ہیں وہ اب ’’ڈپارٹمنٹ آف پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹمز‘‘ (ڈی پی ایس ایس) کو اطلاع دے کر براہِ راست ڈجیٹل والیٹ یا پری پیڈ کارڈ جاری کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ، جو کمپنیاں بینک نہیں ہیں انہیں والیٹ سروس شروع کرنے کے لیے کم از کم ۵؍ کروڑ روپے کی نیٹ ورتھ دکھانی ہوگی اور اپنے آڈیٹر سے اس کا سرٹیفکیٹ دینا ہوگا۔ مرکزی بینک نے اس تجویز پر ۲۲؍ مئی ۲۰۲۶ء تک عوام سے مشورے طلب کیے ہیں۔
نان بینکنگ کمپنیوں کے لیے نئے قواعد کیا ہیں؟
اس نئے مسودے میں نان بینکنگ کمپنیوں کے لیے قواعد کافی سخت کر دیے گئے ہیں۔ ان کمپنیوں کو اجازت ملنے کے تیسرے سال کے اختتام تک اپنی نیٹ ورتھ بڑھا کر ۱۵؍ کروڑ روپے کرنی ہوگی۔ اس کے ساتھ یہ بھی لازمی کیا گیا ہے کہ وہ صارفین کے والٹ میں جمع رقم کو ایک الگ ’’روپیہ ایسکرو اکاؤنٹ‘‘ میں محفوظ رکھیں۔ یہ اکاؤنٹ ہندوستان کے کسی بھی منظور شدہ کمرشیل بینک میں ہونا چاہیے تاکہ لوگوں کا پیسہ مکمل طور پر محفوظ رہے۔
یہ بھی پڑھئے:خاتون ڈاکٹر نے ہنگامی حالات میں حاملہ کی سرراہ ڈیلیوری کروائی
والیٹ میں رقم رکھنے کی حد کیا ہوگی؟
آر بی آئی نے صارفین کی سہولت اور سیکوریٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے رقم رکھنے کی حد بھی مقرر کی ہے۔ نئے ضوابط کے مطابق، عام استعمال کے ڈجیٹل والیٹ میں زیادہ سے زیادہ ۲؍ لاکھ روپے تک رکھے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ماہانہ صرف۱۰؍ہزار روپے تک نقد جمع کرنے کی اجازت ہوگی۔ غیر ملکی کرنسی سے متعلق والیٹ کے لیے ماہانہ ۵؍لاکھ روپے نکالنے کی حد مقرر کی گئی ہے۔ جبکہ سفر یا ٹرانزٹ کے لیے استعمال ہونے والے والیٹ میں زیادہ سے زیادہ ۳؍ ہزار روپے رکھے جا سکیں گے۔
یہ بھی پڑھئے:نیتن یاہو اور ڈونالڈ ٹرمپ کی ٹیلی فون پر گفتگو
لین دین ناکام ہونے پر رقم کی واپسی کا کیا اصول ہے؟
آر بی آئی نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ لین دین ناکام ہونے کی صورت میں صارفین کو نقصان نہ ہو۔ مسودے میں واضح کیا گیا ہے کہ والیٹ کمپنیاں ابتدا میں ہی صارفین کو تمام چارجز، قواعد اور مدت کے بارے میں سادہ زبان (ہندی، انگریزی اور مقامی زبان) میں مکمل معلومات فراہم کریں۔ سب سے بڑی راحت یہ ہے کہ اگر کوئی لین دین ناکام ہو جائے، منسوخ ہو جائے یا رقم کٹ جائے تو وہ رقم فوری طور پر صارف کے والیٹ میں واپس آنی چاہیے۔ چاہے اس سے والٹ کی مقررہ حد ہی کیوں نہ تجاوز ہو جائے، کمپنی کو ہر صورت فوری ریفنڈ دینا ہوگا۔