Inquilab Logo Happiest Places to Work

باغیو ں نے ممتا بنرجی کو چیئرمین کے عہدہ سے ہٹا دیا

Updated: June 23, 2026, 8:22 AM IST | Kolkata

پارٹی پر کنٹرول کی جنگ میں باغیوں نے اروپ رائے کو نیا چیئرمین بنایا ، جنرل سیکریٹری کے عہدے سے ابھیشیک بنرجی بھی معطل

Leader of Opposition in West Bengal Assembly Rathore Banerjee addressing the media after the meeting.
میٹنگ کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے مغربی بنگال اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر رتوبرتا بنرجی

مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ممتا بنرجی اب تک اپنے سب سے بڑے سیاسی بحران کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان کی پارٹی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) میں اندرونی کشمکش بدستور گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ تازہ صورتحال یہ ہے کہ باغیوں نے پارٹی چیئرمین کے عہدے سے خود ممتا بنرجی کو اور پارٹی جنرل سیکریٹری کے عہدے سے ابھیشیک بنرجی کو ہٹا دیا ہے۔
باغیوں نے خود کو اصلی ٹی ایم سی قرار دیا
 انتخابی نتائج ظاہر ہونے کے بعد سب سے پہلے، ٹی ایم سی کے ۵۸؍ایم ایل ایز نے اپنا ایک الگ گروپ بنالیا تھا۔ اس کے بعد لوک سبھا کے۲۰؍ اراکین پارلیمان نے بھی پارٹی سے ناطہ توڑ لیا۔ اب ٹی ایم سی کے اسی۵۸؍ باغی ایم ایل ایز جنہوں نے الگ گروپ بنایا ہے، نے ممتا کے خلاف ایک اور بڑا قدم اٹھایا ہے۔ ایم ایل اے رتوبرتا بنرجی کےگروپ نے ممتا بنرجی کی قیادت کو مسترد کرتے ہوئے باغیوں میں شامل سینئر لیڈر اروپ رائے کو نیا چیئرمین قرار دیا ہے۔ اسی طرح ابھیشیک بنرجی کو بھی جنرل سیکریٹری کے عہدے سے معطل کر دیا گیا ہے۔ رتوبرتا بنرجی کے گروپ نے اسے اصلی ٹی ایم سی قرار دیا ہے۔ اس پیش رفت نے ممتا بنرجی اور ان کے بھتیجے ابھیشیک بنرجی کی قیادت کیلئے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔
میٹنگ میں ۵۸؍ ایم ایل ایز کے ساتھ ۷۰؍ کارپوریٹر بھی شامل
  رپورٹ کے مطابق، اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ٹی ایم سی کے اندر شروع ہونے والا اندرونی تنازع اب پوری طرح سے پارٹی پر کنٹرول کی جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اسی سلسلے کے تحت ٹی ایم سی کے باغی ایم ایل ایز نے پیر کو کولکاتا کے نیو ٹاؤن کے ایک ہوٹل میں ایک ہنگامی میٹنگ کی۔اس میٹنگ میں ۵۸؍ ایم ایل ایز کے ساتھ ہی میونسپل کارپوریشن کے۷۰؍ کونسلروں نے بھی شرکت کی۔
فرہاد حکیم باغی گروپ کی ورکنگ کمیٹی کے نائب صدر
 اطلاعات کے مطابق ٹی ایم سی کےاس باغی گروپ نے۳۰؍ رکنی ورکنگ کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اپوزیشن لیڈر رتوبرتا بنرجی، سندیپن اور جاوید خان جنرل سیکریٹری کے طور پر کام کریں گے۔ کولکاتا کے سابق میئر فرہاد حکیم، اروپ بسواس اور رتھین گھوش کو نائب صدر مقرر کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ ممتا بنرجی کے ذریعہ پارٹی سے نکالے جانے کے بعدر توبرتا بنرجی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں پارٹی ایم ایل ایز کی ایک بڑی تعداد کی حمایت حاصل ہے۔ اس کے بعد باغی گروپ نے ایک علاحدہ قانون ساز گروپ کے طور پر اپنا دعویٰ قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر کے سامنے پیش کیا تھا اور تجویز پیش کی تھی کہ رتوبرتا بنرجی کو اپوزیشن کا لیڈر مقرر کیا جائے۔ اس کے بعد انہیں اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تسلیم کیا گیا۔
ممتا بنرجی کے پاس صرف ۲۲؍ ایم ایل ایز
 اس تنازع کے مرکز میں ابھیشیک بنرجی کا کردار سب سے زیادہ زیر بحث ہے۔ پارٹی کے اندر آوازوں کی ایک قابل ذکر تعداد تنظیم میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر سوال اٹھا رہی ہے۔ کئی رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بغاوت نہ صرف ممتا بنرجی بلکہ ابھیشیک بنرجی کی قیادت کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔فی الحال یہ معاملہ عدالت اور اسمبلی دونوں سطحوں تک پہنچ چکا ہے۔صورتحال یہ ہے کہ ٹی ایم سی کے کل ۲۸؍ لوک سبھا اراکین پارلیمان میں سے۲۰؍ الگ ہو چکے ہیں۔ ممتا کے پاس اب لوک سبھا میں صرف۸؍ ایم پی رہ گئے ہیں۔ اسی طرح راجیہ سبھا کے۱۳؍ میں سے دو اراکین کے استعفیٰ کے بعد ۱۱؍  اراکین باقی رہ گئے ہیں جبکہ اسمبلی انتخابات میں ٹی ایم سی نے۸۰؍ سیٹیں جیتی تھیں جن میں سے ۵۸؍ ایم ایل ایز نے الگ گروپ بنا لیا ہے،لہٰذا ممتا کے پاس صرف۲۲؍ ایم ایل ایز رہ گئے ہیں۔
ہارے ہوئے امیدواروں نے بھی ممتا کا ساتھ چھوڑا
  انتخابات میں ٹی ایم سی کے بیشتر شکست خوردہ امیدواروں نے انتخابی نتائج کو عدالت میں چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ممتا بنرجی کی طرف سے بار بار قانونی چارہ جوئی کی اپیل کے باوجود۲۱۱؍ میں سے ۲۰۳؍ نے امیدواروں نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا ہے

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK