Updated: June 20, 2026, 10:03 PM IST
| New York
اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں، اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے یو این کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بدزبانی کی اور ان پر شدید ذاتی حملے کئے۔ یہ تلخ کلامی اس وقت ہوئی جب یو این نے تنازعات کے شکار علاقوں میں جنسی تشدد کے مرتکب ممالک اور گروپس کی بلیک لسٹ میں پہلی بار اسرائیلی اداروں کو شامل کیا۔
وینیسا فریزیئر اور ڈینی ڈینن۔ تصویر: ایکس
نیویارک میں واقع اقوام متحدہ (یو این) کے صدر دفتر میں جمعہ کو ’تنازعات میں جنسی تشدد کے خاتمے کے عالمی دن‘ کی مناسبت سے منعقدہ ایک اجلاس میں، یو این کیلئے اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے بین الاقوامی ادارے کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بدزبانی کی اور ان پر شدید ذاتی حملے کئے۔ یہ تلخ کلامی اس وقت ہوئی جب یو این نے تنازعات کے شکار علاقوں میں جنسی تشدد کے مرتکب ممالک اور گروپس کی بلیک لسٹ میں پہلی بار اسرائیلی اداروں کو شامل کیا۔
ڈینن نے یو این انڈر سیکریٹری جنرل پرمیلا پیٹن پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے کے استعفے کا مطالبہ کیا، جنہوں نے اسرائیل کو بلیک لسٹ کرنے والی رپورٹ تیار کی تھی۔ یو این سربراہ انتونیو غطریس کا حوالہ دیتے ہوئے ڈینن نے کہا کہ ”آپ اسرائیل کو نشانہ بنانے کے حوالے سے سیکریٹری جنرل کے جنون کے آگے جھک گئیں۔“ انہوں نے پیٹن کو مزید ملامت کرتے ہوئے ”اس رسوائی میں برابر کی شریک“ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی فوجی حکمت عملی علاقے میں نفرت اور تشدد کو مزید ہوا دیتی ہے: میکرون
’اب تم خاموش رہوں گی‘
یہ تصادم اس وقت مزید بڑھ گیا جب بچوں اور مسلح تنازعات کیلئے غطریس کی نمائندہ، وینیسا فریزیئر نے پوائنٹ آف آرڈر کے تحت مداخلت کی اور ڈینن سے مطالبہ کیا کہ وہ ”ذاتی حملوں“ سے گریز کریں۔ فریزیئر نے کہا کہ ان کے پاس اپنی الگ رپورٹ کی تائید کیلئے ”تصدیق شدہ شواہد“ موجود ہیں، جس میں اسرائیل کو بھی بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔ ڈینن نے جواباً انہیں خاموش رہنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم رکن ملک ہیں اور تم یو این کیلئے کام کرتی ہو، اس لئے اب تم خاموش رہوں گی۔ تم خاموش رہوں گی... تم اور تمہاری یہ شرمناک رپورٹ۔“ فریزیئر نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”یہ معاملہ ذاتی نہیں ہونا چاہئے... میں پوائنٹ آف آرڈر چاہتی ہوں۔“
یہ بھی پڑھئے: غزہ: بنیادی خدمات قریب الختم، میونسپل حکام کا انسانی صحت کی تباہی کا انتباہ
رپورٹس میں فلسطینی بچوں کے خلاف اسرائیلی خلاف ورزیوں کی تفصیلات
یو این میں مالٹا کی سابق سفیر رہ چکی فریزیئر نے رواں ہفتے غطریس کی جانب سے رپورٹ پیش کی، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ بچوں کے خلاف خلاف ورزیوں پر غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کے گروپوں کو عالمی بلیک لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ غطریس نے بھی فلسطینی بچوں کے خلاف خلاف ورزیوں میں ”حیران کن“ اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اسرائیل پہلے ہی اس رپورٹ کے ”شرمندگی کی فہرست“ کے ضمیموں میں شامل ہے۔ رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ تین دہائیوں قبل مانیٹرنگ مینڈیٹ کے قیام کے بعد سے اب تک بچوں کو سنگین ترین خلاف ورزیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور مینڈیٹ کی تاریخ میں پہلی بار زیادہ تر زیادتیوں کی ذمہ دار اسرائیلی افواج ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے غزہ میں ہولوکاسٹ کیاہے،لوکا شینکوکی تنقید
گزشتہ ماہ جب پیٹن کی رپورٹ پہلی بار پیش ہوئی تھی، تو ڈینن نے اسے ”پستی کی ایک نئی حد“ قرار دیا تھا اور اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے غطریس کے ساتھ تمام تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا، جو رواں سال کے آخر میں دس سال بعد اپنا عہدہ چھوڑنے والے ہیں۔ ۲۰۲۵ء کی رپورٹ میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ اسرائیل نے صورتحال کی نگرانی کیلئے یو این کے اداروں کو رسائی نہیں دی، جبکہ انسانی امداد کی فراہمی بھی شدید حد تک محدود رہی۔