Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممتا بنرجی کو کلکتہ ہائی کورٹ سے جھٹکا ،رتبرت بنرجی ہی اسمبلی میں اپو زیشن لیڈر ہوں گے

Updated: June 19, 2026, 10:01 AM IST | Agency | Kolkata

مغربی بنگال اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے کوئی بھی عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

Mamata Banerjee.Photo:INN
ممتا بنرجی ۔ تصویر:آئی این این
مغربی بنگال اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے کوئی بھی عبوری حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق اسپیکر کا فیصلہ برقرار رہے گا۔ ترنمول کانگریس کے لیڈر شوبھن دیب چٹوپادھیائے نے اپوزیشن لیڈر کے طور پر ٹی ایم سی کے باغی رکن اسمبلی رتبرت بنرجی کی تقرری کو چیلنج کیا تھا جس پر عدالت نے کہا کہ ہمیں اسپیکر کے فیصلے میں مداخلت کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی لیکن جسٹس کرشنارائو  نے نوٹس جاری کردیا ہے۔ 
 
 
اس سے قبل ہونے والی سماعت کے دوران جسٹس کرشنا راؤ نے پوچھا تھا کہ اگر ایک ہی سیاسی جماعت کی طرف سے ۲؍ الگ الگ ناموں کی تجویز بھیجی جائے، تو اسپیکر کا فرض کیا ہوگا؟ کیا وہ ازخود نوٹس لیتے ہوئے فیصلہ کر سکتے ہیں یا فریقین کو سماعت کا موقع دینا ضروری ہوگا۔ اس پر اسپیکر کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈوکیٹ بلودل بھٹاچاریہ نے دلیل دی تھی کہ مغربی بنگال اسمبلی مراعات ایکٹ کے مطابق حزب اختلاف کا قائد وہی رکن ہوتا ہے جسے ایوان میں سب سے بڑی تعداد والی اپوزیشن پارٹی کے لیڈر کے طور پر تسلیم کیا گیا ہو۔ایڈوکیٹ بلودل بھٹاچاریہ نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر کسی پارٹی کے پاس اراکین کی تعداد یا اس کے لیڈر سے متعلق کوئی تنازع ہوتا ہے، تو اس معاملے میں اسپیکر کا فیصلہ آخری اور حتمی ہوگا۔ اس کے بعد کورٹ نےجمعرات کو فیصلہ سنادیا کہ وہ اسپیکر کے فیصلے میں مداخلت کا کوئی حکم جاری نہیں کرے گا کیوں کہ اسے کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔
 
 
 راہل گاندھی کی طلبہ  سے دستخطی مہم میں شامل ہونے کی اپیل
کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے ’چھاتروںکی گونج‘ مہم کے تحت ملک بھر کے طلبہ سے دستخطی مہم میں شامل ہونے اور اپنی تجاویز پیش کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگی تعلیم، امتحانی بے ضابطگیاں اور باوقار روزگار کی کمی جیسے مسائل صرف سیاسی نہیں بلکہ قومی نوعیت کےہیں جن کے حل کیلئے نوجوانوں کی آواز کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔راہل گاندھی نے اپنے پیغام میں کہا کہ اگر کسی طالب علم نے پرچہ افشا ہونے، امتحانات میں بے ضابطگیوں یا بڑھتی ہوئی فیس کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کیا ہے، اگر موجودہ نظام نے اس کے خواب توڑے ہیں یا خاندان نے اس کی تعلیم کے  لئےزندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کی ہے تو ’چھاتروں کی گونج‘ اسی کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض ایک مہم نہیں بلکہ نوجوانوں کے مطالبات حکومت تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK