پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے تعلیم نے اپنی رپورٹ میں این ٹی اے کو قانونی درجہ دینے کا مطالبہ کیا ۔
پارلیمنٹ کی تعلیم سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی کے اراکین نے نیٹ یوجی پیپر لیک تنازع سے متعلق موجودہ امتحان کے نظام میں اہم تبدیلیوں کی سفارش کی ہے۔ ساتھ ہی این ٹی اے کو قانونی درجہ دینےکا بھی مطالبہ کیا ہے۔ میٹنگ کے دوران کمیٹی نے نیٹ یوجی امتحان کے دوبارہ انعقاد کی ستائش بھی کی۔ حالانکہ کمیٹی کے اراکین نے اگلے سال سے نیٹ یوجی امتحان کو کمپیوٹر پر مبنی امتحان (سی بی ٹی) کی شکل میں منعقد کرنےپر غور کیا ہے اور کہا ہے کہ سماج کے پسماندہ طبقات کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے۔ پارلیمنٹ کی تعلیم، خواتین، اطفال، نوجوانوں اور کھیل سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں این ٹی اے کے افسران کے ساتھ ان تمام امور پر غور و خوض کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اسٹینڈنگ کمیٹی نے کافی اہم سفارشات کی ہیں۔ کمیٹی کے اراکین نے یہ سفارش کی ہے کہ ایم بی بی ایس، آیوش اور نرسنگ کے الگ الگ امتحانات کرائے جائیں۔ اس کے علاوہ این ٹی اے کو مزید اختیارات د ئیےجائیں۔ ایجنسی کے نظام میں شفافیت لانے کے لئے قانونی درجہ دینے پر بھی توجہ مرکوز کرائی گئی ہے۔ ایک مشورے میں اے آئی اور جدید تکنیک کے استعمال کی بھی بات کی گئی ہے۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مکل واسنک کی صدارت والی کمیٹی نے افسران کو طلب کیا تھا۔ واضح رہے کہ مکل واسنک کی صدارت میں اسٹینڈنگ کمیٹی کی یہ پہلی میٹنگ تھی ۔ ان سے قبل کانگریس لیڈر دگ وجے سنگھ کمیٹی کے صدر تھے، جن کی ۲۱؍ جون کو راجیہ سبھا رکنیت کی مدت مکمل ہو گئی۔ اسٹینڈنگ کمیٹی نےاہم افسران کو طلب کیا تھا ۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی کے اراکین نے افسران سے دریافت کیا ہے کہ اگلے سال این ٹی اے اتنے بڑے پیمانے پر امتحان کیسے منعقد کرائے گا؟
کمیٹی کے اراکین نے یہ بھی کہا کہ ری-نیٹ امتحان کا کامیاب انعقاد تبھی ہو سکا ہے جب سرکاری نظام متحرک تھا۔ وزیر اعظم سے لے کر افسران تک سبھی اس امتحان میں شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق اراکین پارلیمنٹ نے مشورہ دیا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے کا امتحان آزادانہ طریقے سے منعقد کرانے کے لئے این ٹی اے کو زیادہ اختیارات دیے جائیں اور ایجنسی کو قانونی درجہ دیا جائے۔ یاد رہے کہ وزارت تعلیم نے این ٹی اے کا قیام سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ۱۸۶۰ء کے تحت ایک آزاد اور خود مختار اہم امتحانی ادارے کے طور پر کیا تھا۔ کمیٹی کے اراکین نے امتحان مراکز پر امتحان دہندگان کے تاخیر سے پہنچنے اور ان کی عدم شمولیت پر بھی فکر کا اظہار کیا۔اعلیٰ حکام نے کمیٹی کو ۲۱؍ جون کو منعقد ہونے والے ری-نیٹ امتحان کے کامیاب انعقاد اور اہم اقدامات کی بھی اطلاع دی۔ رادھا کرشنن نے کمیٹی کو بتایا ہے کہ ان کی جانب سے دی گئی سفارشات کو مرحلہ وار طریقے سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ ان سفارشات کے نفاذ کی مدت کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کچھ اراکین نے یہ بھی پوچھا ہے کہ کیا یہ امتحان یو پی ایس سی کی طرز پر منعقد کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ ۳؍ مئی کو ہونے والے نیٹ یوجی امتحان پیپر لیک کی خبروں کے بعد حکومت نے امتحان رد کر دیا تھا اور ۲۱؍جون کو ری-نیٹ امتحان منعقد کیا گیا۔