Updated: July 02, 2026, 6:00 PM IST
| New York
امریکہ، کنیڈا اور میکسیکو میں جاری فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء صرف فٹ بال تک محدود نہیں رہا بلکہ فلسطین کے حق میں عالمی اظہارِ یکجہتی کا بھی ایک بڑا پلیٹ فارم بن گیا۔ اگرچہ فلسطین کی قومی ٹیم ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی نہ کر سکی، تاہم مختلف ممالک کے ہزاروں شائقین نے اسٹیڈیمز، فین زونز اور عوامی مقامات پر فلسطینی پرچم لہرا کر، ’’آزاد فلسطین‘‘ کے نعرے لگا کر اور غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی فلسطین سے متعلق ہیش ٹیگز اور ویڈیوز بڑے پیمانے پر گردش کرتے رہے، جبکہ متعدد ممالک میں ’’اسرائیل کو ریڈ کارڈ دکھاؤ‘‘ مہم بھی نمایاں رہی۔
امریکہ، کنیڈا اور میکسیکو میں جاری فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے دوران اگرچہ فلسطین کی قومی فٹ بال ٹیم ٹورنامنٹ کا حصہ نہیں، تاہم فلسطین کا پرچم، فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی اور ’’آزاد فلسطین‘‘ کے نعرے تقریباً پورے ٹورنامنٹ میں نمایاں رہے۔ مختلف ممالک کے ہزاروں شائقین نے میچوں سے قبل عوامی چوکوں، فین زونز اور اسٹیڈیموں میں فلسطینی پرچم لہرائے جبکہ غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خلاف آواز بھی بلند کی۔ ٹورنامنٹ کے دوران متعدد ممالک کے مداحوں نے نہ صرف فلسطین کے حق میں نعرے لگائے بلکہ اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر جاری ’’ریڈ کارڈ اسرائیل‘‘ مہم کی بھی حمایت کی، جس میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل کو بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں سے معطل کیا جائے۔
جرمنی اور پیراگوئے کے میچ میں فلسطینی امریکی خاندان کی آواز
راؤنڈ آف ۳۲؍ میں جرمنی اور پیراگوئے کے درمیان ہونے والے مقابلے میں ایک فلسطینی نژاد امریکی خاندان نے اپنے بچے کے ہمراہ فلسطینی پرچم بلند کیا۔ اس موقع پر خاندان کے ایک فرد نے انادولو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم فلسطینی امریکی ہیں۔ ہم پورے ورلڈ کپ میں فلسطین کے لیے جشن منا رہے ہیں۔ وہ ہمیں کبھی نہیں روک سکتے۔ آزاد فلسطین!‘‘یہ منظر بھی میچ کے دوران شائقین کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔
مراکش کے شائقین نے ایک بار پھر فلسطین سے اپنی تاریخی وابستگی دہرائی
مراکش کے مداحوں نے ورلڈ کپ کے آغاز ہی سے فلسطین کے حق میں بھرپور اظہارِ یکجہتی کیا۔ برازیل کے خلاف گروپ سی کے میچ سے قبل نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں ہزاروں مراکشی شائقین جمع ہوئے جہاں فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے ’’آزاد فلسطین‘‘ کے نعرے لگائے گئے۔ بعد ازاں نیو یارک نیو جرسی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے مقابلے کے دوران بھی گول پوسٹ کے عقب میں موجود مراکشی شائقین نے فلسطینی پرچم بلند رکھے اور ہر موقع پر فلسطینی عوام سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔ اسی طرح ہالینڈ کے خلاف راؤنڈ آف ۳۲؍ کے میچ میں بھی مراکش کے مداح فلسطینی پرچموں کے ساتھ اسٹیڈیم پہنچے اور اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ ورلڈ کپ سے قبل بھی مراکش کے شائقین مختلف بین الاقوامی مقابلوں، بالخصوص قطر ورلڈ کپ ۲۰۲۲ء میں فلسطینی پرچم لہرانے کے باعث عالمی توجہ حاصل کر چکے تھے۔
بوسنیا کے شائقین نے اپنی تاریخ یاد کرتے ہوئے فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کیا
لاس اینجلس میں بوسنیا و ہرزیگووینا اور سوئزرلینڈ کے درمیان کھیلے گئے مقابلے میں بوسنیائی شائقین نے فلسطینی پرچم لہرا کر فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ اسٹیڈیم میں ایک بڑا بینر بھی آویزاں کیا گیا جس پر درج تھا:’’سرائیوو کی جانب سے فلسطین کے لیے حمایت۔‘‘ بوسنیائی شائقین کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کے ملک نے ۱۹۹۰ء کی دہائی میں نسل کشی اور جنگ کا سامنا کیا، اس لیے وہ فلسطینی عوام کے درد کو بخوبی محسوس کرتے ہیں اور اسی احساس کے تحت ان کی حمایت کر رہے ہیں۔
قطری شائقین فلسطینی کفیہ پہن کر اسٹیڈیم پہنچے
بوسنیا و ہرزیگووینا اور قطر کے درمیان ہونے والے مقابلے میں بھی فلسطین سے اظہارِ یکجہتی نمایاں رہا۔ ایک قطری مداح روایتی فلسطینی کفیہ اوڑھے، چہرے پر فلسطینی رنگوں کی پینٹنگ کیے اور ہاتھ میں فلسطینی پرچم تھامے اسٹیڈیم میں موجود تھا، جس نے شائقین کی توجہ حاصل کی۔ اس کے علاوہ دیگر قطری مداح بھی فلسطینی پرچموں کے ساتھ اپنی حمایت کا اظہار کرتے رہے۔
فرانس کے شائقین نے بھی فلسطینی پرچم لہرا دیا
گروپ آئی میں فرانس اور سینیگال کے درمیان مقابلے سے قبل نیو یارک نیو جرسی اسٹیڈیم میں ایک فرانسیسی مداح کو فلسطینی پرچم تھامے دیکھا گیا۔ کک آف سے پہلے اس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی گردش کرتی رہیں، جہاں متعدد صارفین نے اس اقدام کو انسانی یکجہتی کی علامت قرار دیا۔ فرانس نے یہ مقابلہ ۱۔۳؍ سے اپنے نام کیا، تاہم اسٹیڈیم میں فلسطینی پرچم کی موجودگی بھی نمایاں موضوع بنی۔
برازیل کے مداح بھی فلسطینی پرچم کے ساتھ مارچ کرتے رہے
راؤنڈ آف ۳۲؍ میں جاپان کے خلاف میچ سے قبل برازیل کے ہزاروں شائقین روایتی انداز میں جلوس کی صورت میں اسٹیڈیم کی طرف روانہ ہوئے۔ اس جلوس میں شامل ایک مداح نے فلسطینی پرچم اٹھا رکھا تھا، جس کی تصاویر بعد میں سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر کی گئیں۔ فٹ بال شائقین نے اسے اس بات کی علامت قرار دیا کہ فلسطین کی قومی ٹیم اگرچہ ورلڈ کپ میں موجود نہیں، لیکن فلسطینی عوام کے لیے عالمی ہمدردی اور یکجہتی مختلف قومیتوں کے مداحوں کے ذریعے مسلسل سامنے آ رہی ہے۔
ترکی اور امریکہ کے میچ (لیگ راؤنڈ) میں فلسطینی پرچم مرکزِ نگاہ بن گیا
گروپ ڈی کے آخری مقابلے میں ترکی نے میزبان امریکہ ۲۔۳؍ سے شکست دی، تاہم میدان کے اندر جتنی توجہ اس دلچسپ مقابلے نے حاصل کی، اتنی ہی توجہ ایک ترک شائق نے بھی حاصل کی جو پورے میچ کے دوران گول پوسٹ کے عقب میں فلسطینی پرچم لہراتا رہا۔ ٹی وی نشریات کے دوران یہ مداح کئی مرتبہ اسکرین پر دکھائی دیا اور فلسطینی پرچم مسلسل نمایاں رہا، جس پر سوشل میڈیا پر بھی بڑی تعداد میں صارفین نے تبصرے کیے۔
سوشل میڈیا پر بھی فلسطین نمایاں موضوع بن گیا
فلسطین کے حق میں ہونے والا اظہارِ یکجہتی صرف اسٹیڈیموں تک محدود نہیں رہا بلکہ ایکس ، انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک پر بھی لاکھوں صارفین نے فلسطینی پرچموں، شائقین کی ویڈیوز اور مختلف ممالک کے اسٹیڈیموں میں ہونے والے مناظر شیئر کیے۔ ورلڈ کپ کے دوران #FreePalestine، #StandWithPalestine، #RedCardIsrael، #Palestine اور #WorldCup2026 جیسے ہیش ٹیگز کے تحت بڑی تعداد میں پوسٹس سامنے آئیں۔
صارفین نے خاص طور پر ترکی، مراکش، بوسنیا، قطر، فرانس اور برازیل کے شائقین کے ویڈیوز کو بڑے پیمانے پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اگرچہ فلسطین اس مرتبہ ورلڈ کپ میں جگہ نہیں بنا سکا، لیکن فلسطینی پرچم تقریباً ہر بڑے میچ میں ضرور دکھائی دیا۔
مجسمۂ آزادی کے لباس میں خاتون نے فلسطین اور لبنان کی آزادی کا مطالبہ کر دیا
سیٹل میں مصر اور ایران کے درمیان کھیلے گئے میچ سے قبل اسٹیڈیم کے باہر ایک منفرد منظر دیکھنے میں آیا، جہاں ایک خاتون مجسمۂ آزادی (Statue of Liberty) کے لباس میں ملبوس تھیں۔ ان کے ہاتھوں میں فلسطین اور لبنان کے پرچم تھے اور وہ دونوں ممالک کے لیے آزادی کے نعرے بلند کر رہی تھیں۔ میچ کے دوران بھی اسٹیڈیم کے مختلف حصوں میں فلسطینی پرچم نمایاں رہے، جبکہ متعدد شائقین نے فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
متعدد ممالک کی ٹیموں اور شائقین نے فلسطین کے حق میں آواز بلند کی
ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے دوران صرف انفرادی شائقین ہی نہیں بلکہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مداحوں نے بھی فلسطین کے حق میں اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔ ترکی، مراکش، الجزائر، مصر، ایران، سینیگال اور قطر سمیت کئی مسلم اکثریتی ممالک کے شائقین نے مختلف مواقع پر فلسطینی پرچم لہرا کر فلسطین کے حق میں نعرے لگائے، جبکہ یورپ سے اسپین، اسکاٹ لینڈ اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے مداح بھی فلسطین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے دکھائی دیے۔ ورلڈ کپ کے مختلف وینیوز پر فلسطینی پرچم مسلسل دکھائی دیتے رہے، جس سے یہ تاثر ابھرا کہ اگرچہ فلسطین میدان میں موجود نہیں، لیکن اس کا پرچم دنیا کے سب سے بڑے فٹ بال ایونٹ میں نمایاں رہا۔
فلسطین اور اسرائیل، دونوں ہی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہ کر سکے
فلسطین اور اسرائیل، دونوں ممالک کی قومی ٹیمیں فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے لیے کوالیفائی نہ کر سکیں۔ فلسطین ایشین کوالیفائرز میں آخری مرحلے تک رسائی حاصل نہ کر سکا، جبکہ سیکوریٹی صورتحال کے باعث اسے اپنے بیشتر ہوم میچ غیر جانبدار مقامات پر کھیلنے پڑے۔ دوسری جانب اسرائیل بھی کوالیفائنگ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکا۔ اسرائیل پر غزہ کی جنگ کے باعث عالمی سطح پر کھیلوں سے معطلی کے مطالبات بھی سامنے آئے، تاہم وہ کھیل کے میدان میں ہی ورلڈ کپ تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
’’اسرائیل کو ریڈ کارڈ دکھاؤ‘‘ مہم نے بھی توجہ حاصل کی
ورلڈ کپ کے دوران عالمی فٹ بال برادری میں ’’Red Card Israel‘‘ مہم بھی نمایاں رہی۔ اس مہم کے تحت دنیا بھر کے متعدد فٹ بال کلبوں، شائقین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو بھی دیگر ممالک کی طرح بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں سے معطل کیا جائے۔ مہم کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران کھیلوں کا شعبہ بھی شدید متاثر ہوا۔ ان کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران ایک ہزار سے زائد فلسطینی کھلاڑی، جن میں اکثریت فٹ بالرز کی تھی، جان سے گئے جبکہ کھیلوں کی تقریباً ۳۰۰؍ سہولیات تباہ ہوئیں۔ اسی پس منظر میں مختلف ممالک کے شائقین اسٹیڈیموں میں ’’ریڈ کارڈ اسرائیل‘‘ سے متعلق بینرز، پوسٹرز اور پیغامات بھی اٹھائے ہوئے نظر آئے۔
دنیا کے کئی معروف کھلاڑی بھی آواز بلند کر رہے ہیں
ترکی سمیت متعدد ممالک مسلسل اسرائیل پر عالمی کھیلوں کی پابندیوں کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک کے کئی معروف فٹ بالر اور دیگر کھیلوں سے وابستہ شخصیات بھی غزہ میں انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں اور فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر فلسطین مسلسل ٹرینڈ کرتا رہا
ورلڈ کپ کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس، انسٹاگرام، فیس بک، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر فلسطین سے متعلق ویڈیوز، تصاویر اور مختصر کلپس بڑے پیمانے پر شیئر کیے گئے۔ ترکی، مراکش، بوسنیا، قطر، فرانس، برازیل، مصر اور دیگر ممالک کے شائقین کی جانب سے فلسطینی پرچم لہرانے کی ویڈیوز لاکھوں مرتبہ دیکھی گئیں جبکہ متعدد پوسٹس پر ہزاروں تبصرے سامنے آئے۔ آن لائن صارفین کی بڑی تعداد نے لکھا کہ اگرچہ فلسطین کی قومی ٹیم اس مرتبہ ورلڈ کپ میں شریک نہیں، لیکن فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی دنیا کے سب سے بڑے فٹ بال ایونٹ کا ایک نمایاں منظر بن گئی۔ کئی صارفین نے تبصرہ کیا کہ اسٹیڈیمز میں لہراتے فلسطینی پرچم اس بات کی علامت ہیں کہ کھیل کے میدان میں بھی انسانی ہمدردی اور عالمی ضمیر کی آواز سنائی دے رہی ہے، جبکہ بعض صارفین نے غزہ میں فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کا مطالبہ بھی دہرایا۔
کھیل سے آگے بڑھ کر عالمی یکجہتی کی علامت
فیفا ورلڈ کپ کو دنیا کا سب سے بڑا کھیلوں کا میلہ تصور کیا جاتا ہے، جہاں مختلف زبانوں، ثقافتوں اور قومیتوں کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی اگرچہ توجہ فٹ بال کے مقابلوں پر مرکوز رہی، لیکن متعدد اسٹیڈیموں اور فین زونز میں فلسطین کے حق میں ہونے والے اظہارِ یکجہتی نے اس عالمی ایونٹ کو ایک وسیع انسانی اور سماجی بحث کا حصہ بنا دیا۔ فلسطین کی قومی ٹیم ٹورنامنٹ میں جگہ نہ بنا سکی، تاہم مختلف براعظموں سے تعلق رکھنے والے شائقین نے اپنے اپنے انداز میں فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ کہیں فلسطینی پرچم لہرائے گئے، کہیں ’’آزاد فلسطین‘‘ کے نعرے گونجے اور کہیں غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کے مطالبات کیے گئے۔