امریکہ اور فرانس میں کورونا وائرس کے ریکارڈ معاملات

Updated: December 30, 2021, 11:03 AM IST | Agency | Washington

عالمی وبا کی شروعات سے اب تک پہلی بار امریکہ میں ایک ہی دن میں تقریباً ساڑھے ۴؍ لاکھ مریض پائے گئے جبکہ فرانس میں ایک لاکھ ۸۰؍ ہزار افراد پازیٹیو پائے گئے۔ یورپ کے دیگر ممالک میں بھی بڑے پیمانے پر کورونا کا اثر۔ نئے سال کے موقع پر سخت پابندیاں اور مختلف احتیاطی تدابیر

Sanctions in Europe began to tighten again..Picture:Agency
یورپ میں پابندیاں پھر سخت ہونے لگیں۔ تصویر: ایجنسی

دنیا بھر میں کورونا وائرس کی نئی قسم  اومیکرون  تیزی سے پھیل رہی ہے ۔ اس دوران امریکہ اور فرانس میں کوروناکا اثر اچانک بڑھ گیا ہے۔ گزشتہ روز فرانس اور امریکہ میں وبا کے آغاز کے بعد سے یومیہ سب سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان دونوں ممالک کے علاوہ یورپ کے دیگر ممالک  میں کورونا کے مریضوں کی بڑی تعداد سامنے آ رہی ہے جس کی وجہ سے  بہت سے ممالک نے نئے سال کے آغاز پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام  کیلئے اپنے یہاں نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
 امریکہ میں بیماریوں کی روک تھام کے مرکز (سی ڈی سی) نے بتایا ہے کہ ملک میں پیر کے روز  ۴؍ لاکھ ۴۰؍ ہزار افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔تاہم حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار اس لئے  بھی زیادہ ہو سکتے ہیں کہاُن کی رپورٹنگ میں کرسمس کے باعث تاخیر ہوئی۔دوسری جانب فرانس میں یورپ کے اب تک کے سب سے زیادہ یومیہ کورونا متاثرین رپورٹ ہوئے ہیں۔ منگل کے روز ملک میں لگ بھگ ایک لاکھ ۸۰؍ہزار افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔فرانس کے وزیر  صحت  اولیویئر ویئران نے اس سے قبل متنبہ کیا تھا کہ موجودہ صورتحال اس جانب اشارہ کر رہی ہے کہ فرانس میں جنوری کے آغاز سے یومیہ ڈھائی لاکھ کووڈ کیس سامنے آ سکتے ہیں۔ تاہم امریکہ میں سی ڈی سی کے ترجمان نے نیوز ویب سائٹ پولیٹکو کو بتایا کہ پیر کو ملک میں سامنے آنے والے اعداد و شمار ’اندازوں سے کہیں زیادہ‘ اس لئے ہیںکہ اس سے قبل کرسمس کے باعث ٹیسٹنگ مراکز بند تھےجس کی وجہ سے ٹیسٹنگ کے نتائج میں تاخیر ہو رہی تھی۔ شاید سارے نتائج ایک ساتھ پیش کر دیئے گئے جس کی وجہ یہ سارے ایک ساتھ ریکارڈ ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ  نئے سال کے آغاز  کے بعد یہ اعداد وشمار دوبارہ  معمول پر آ جائیں گے۔
 کئی یورپی ممالک  میں کورونا کا اثر تیز
  ادھر اٹلی، یونان، پرتگال اور انگلینڈ جیسے کئی اہم یورپی ممالک   میں منگل کے روزکورونا کے معاملات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہ پیش رفت ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب عالمی ادارہ صحت کی جانب سے اپنی ہفتہ وار کووڈ اپ ڈیٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ وائرس کی اومیکرون قسم سے متعلق خطرہ اب بھی بہت زیادہ ہے۔منگل کے روز شائع ہونے والی اپ ڈیٹ کے مطابق، یورپ میں ۲۶؍ دسمبر سے ایک ہفتہ قبل کورونا کی تمام اقسام سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ۵۷؍ فیصد سے بڑھی ہے جبکہ امریکہ میں یہ تعداد ۳۰؍ فیصد بڑھی ہے۔اس حوالے سے کی گئی تحقیق میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرس کی اومیکرون قسم ڈیلٹا سے کم خطرناک ہے اور اس سے متاثر ہونے والے افراد کااسپتال میں داخل ہونے کا امکان ۳۰؍ سے ۷۰؍ فیصد کم ہے۔ تاہم اس حوالے سے خدشات اب بھی موجود ہیں کہ اس وائرس کے انتہائی متعدی ہونے کے باعث اسپتالوں میں مریضوں کی بھرتی کے سبب دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
 فرانسیسی وزیر اعظم جین کیسٹیکس نے رواں ہفتے کے آغاز میں اپن یہاں نئی پابندیاں عائد کر دی تھیں جن میں جنوری کے آغاز سے ہفتے میں تین روز گھر سے کام کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ملک میں بوسٹر شاٹس بھی لگائے جا رہے ہیں اور اب تک دو کروڑ ۳۰؍ لاکھ افراد کو ویکسین کی بوسٹر خوراک دی جا چکی ہے۔ دیگر یورپی ممالک میں بھی منگل کے روز ریکارڈ یومیہ کیس رپورٹ ہوئے۔ اٹلی میں ۷۸؍ ہزار ہزار افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی جو عالمی وبا کے آغاز کے بعد سے یومیہ مریضوں کی تعداد کا ریکارڈ ہے۔ اٹلی میں گزشتہ روز ۲۰۲؍ ہلاکتیں ہوئیں جس سے ملک میں کل اموات کی تعداد ایک لاکھ ۳۷؍ ہزار کے قریب پہنچ گئی۔ پرتگال میں ۱۷؍ ہزار سے زیادہ جبکہ یونان میں لگ بھگ ۲۲؍ ہزار کورونا کیس رپورٹ ہوئے ۔ادھر انگلینڈ میں حکام کے مطابق کل ایک لاکھ ۱۷؍ ہزار سے زیادہ افراد میں کورونا  کی تشخیص ہوئی۔ جہاں بڑے یورپی ممالک کے دارالحکومتوں پیرس، لندن اور برلن میں نئے سال کے جشن کے حوالے سے تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں۔ کچھ ممالک اب بھی پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
  فرانس اور انگلینڈ کی جانب سے سے لوگوں سے اپنی عقل کے مطابق فیصلے کرنے کو کہا گیا ہے جبکہ اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں نئے سال کا جشن معمول کے مطابق منانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے تاہم پوئیرٹا ڈیل سول اسکوائر کے مرکزی اجتماع میں شرکت کرنے والے افراد کی تعداد محدود رکھی جائے گی۔اٹلی کی جانب سے نائٹ کلب اور کھلے آسمان تلے ہونے والے اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے لیکن چار دیواری میں ہونے والے اجتماعات پر فی الحال کوئی پابندی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال کورونا کی لہر کے دوران امریکہ کے بعد سب سے زیادہ یورپی ممالک ہی متاثر تھے۔ خاص کر اسپین اور اٹلی۔ ان ممالک میں ایک بار پھر کورونا کے معاملات میں اضافہ ہو رہا ہے چنانچہ حکام کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK