Inquilab Logo Happiest Places to Work

یونان میں سرخ آسمان، صحارا کی گرد نے کریٹ اور سینٹورینی کو ڈھانپ لیا

Updated: April 02, 2026, 6:05 PM IST | Athens

یونان کے جزائر کریٹ اور سینٹورینی میں یکم؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو آسمان اچانک گہرے سرخ رنگ میں تبدیل ہو گیا، جس نے شہریوں کو حیران اور خوفزدہ کر دیا۔ ماہرین کے مطابق یہ غیر معمولی منظر صحارا ریگستان سے اڑنے والی گرد کے باعث پیدا ہوا، جسے تیز ہواؤں نے بحیرہ روم تک پہنچا دیا۔ شدید موسمی نظام ’’ایرمینیو‘‘ کے اثر سے نہ صرف فضائی ٹریفک متاثر ہوئی بلکہ صحت کے ہنگامی انتباہات بھی جاری کئے گئے، جبکہ سوشل میڈیا پر اس منظر کو قیامت خیز قرار دیا گیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

یونان کے معروف سیاحتی جزائر کریٹ اور سینٹورینی میں بدھ، یکم؍ اپریل ۲۰۲۶ء کی صبح ایک غیر معمولی اور خوفناک منظر دیکھنے میں آیا، جب پورا آسمان گہرے سرخ رنگ میں ڈوب گیا۔ یہ منظر نہ صرف مقامی آبادی بلکہ دنیا بھر کے سوشل میڈیا صارفین کیلئے حیرت اور تشویش کا باعث بن گیا، جہاں اسے ’’قیامت جیسا منظر‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یہ غیر معمولی موسمی صورتحال ایک طاقتور طوفانی نظام ’’ایرمینیو‘‘ کے باعث پیدا ہوئی، جس نے ۱۰۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار کی ہواؤں کے ذریعے صحارا ریگستان سے لاکھوں ٹن باریک ریت اور گرد اٹھا کر بحیرہ روم کے خطے تک پہنچا دی۔ اس کے نتیجے میں فضا میں گرد کی ایک موٹی تہہ بن گئی، جس نے سورج کی روشنی کو اس طرح فلٹر کیا کہ پورا آسمان خون جیسے سرخ رنگ میں تبدیل ہو گیا۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Greek City Times (@greekcitytimes)

اس غیر معمولی صورتحال کے باعث روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی۔ متعدد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں، جبکہ ’’برٹش ایئرویز‘‘ کی بعض پروازوں کو راستہ تبدیل کر کے کورفو منتقل کرنا پڑا۔ مقامی حکام نے صحت کے ہنگامی انتباہات جاری کرتے ہوئے شہریوں کو گھروں میں رہنے اور ماسک استعمال کرنے کی ہدایت دی، کیونکہ فضا میں موجود باریک ذرات سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خاص طور پر ایکس، پر اس منظر کی تصاویر اور ویڈیوز تیزی سے وائرل ہو گئیں، جہاں صارفین نے خوف، حیرت اور مزاح کا ملا جلا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’کیا واقعی یہ زمین ہے یا مریخ؟‘‘ جبکہ دوسرے نے کہا، ’’ایسا لگ رہا ہے جیسے دنیا کے خاتمے کا فلٹر لگا دیا گیا ہو۔‘‘ کچھ صارفین نے اسے مصنوعی ذہانت کی تخلیق سمجھا، تاہم ماہرین نے واضح کیا کہ یہ ایک حقیقی موسمیاتی مظہر ہے۔

ماہرین موسمیات کے مطابق اس سرخ آسمان کی سائنسی وجہ روشنی کے بکھراؤ (scattering) سے متعلق ہے۔ صحارا ریگستان کی گرد میں لوہے کے آکسائیڈ (زنگ) کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔ جب یہ باریک ذرات فضا میں بلند ہوتے ہیں تو یہ سورج کی روشنی کی چھوٹی طول موج (نیلا اور سبز رنگ) کو زیادہ بکھیر دیتے ہیں، جبکہ بڑی طول موج (سرخ اور نارنجی رنگ) کو گزرنے دیتے ہیں، جس سے آسمان سرخ دکھائی دیتا ہے۔ اس واقعے کی شدت کی ایک بڑی وجہ گرد کی غیر معمولی مقدار اور اس کی تیز رفتار منتقلی تھی، جو چند گھنٹوں میں ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر گئی۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ صحارا کی گرد کا یورپ تک پہنچنا ایک معروف موسمیاتی عمل ہے، تاہم اس درجے کی شدت کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز ہمارے کنٹرول میں، ٹرمپ کے اشاروں پر نہیں کھلے گی: آئی آر جی سی

ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث ایسے انتہائی موسمی واقعات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے نہ صرف موسم بلکہ انسانی صحت اور فضائی سفر بھی متاثر ہو رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ یہ واقعہ ایک یاد دہانی ہے کہ قدرتی نظام کس قدر طاقتور اور غیر متوقع ہو سکتے ہیں، جہاں ایک صحرا کی گرد ہزاروں کلومیٹر دور جا کر ایک پورے خطے کی فضا اور معمولات کو بدل سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK