Updated: April 02, 2026, 6:05 PM IST
| Seoul
ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز پر دباؤ بڑھنے سے عالمی توانائی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کے اثرات ایشیا اور یورپ تک پہنچ چکے ہیں۔ جنوبی کوریا نے اقتصادی خطرات کا انتباہ دیا جبکہ عالمی مالیاتی ادارے مشترکہ حکمت عملی پر متحرک ہو گئے ہیں۔ یورپ میں گیس قیمتوں میں کمی کے باوجود غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
(۱) جنوبی کوریا: جنگ کے اثرات، معیشت دباؤ میں، نقد سپورٹ پلان
جنوبی کوریا کی حکومت نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے باعث ملکی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور توانائی کی سپلائی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو رہی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق عالمی تیل اور گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے درآمدی اخراجات میں اضافہ کیا ہے جس سے صنعتی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ حکومت نے اعلان کیا کہ مالیاتی منڈی کو مستحکم رکھنے کیلئے اضافی نقد رقم فراہم کی جائے گی اور بینکنگ نظام میں لیکویڈیٹی بڑھائی جائے گی۔ حکام نے کہا کہ ’’توانائی کے تحفظ اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنانے کیلئے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘‘
رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی براہ راست اس کی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔ حکام نے کہا کہ شپنگ لاگت میں اضافہ اور سپلائی چین میں خلل سے برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں جبکہ حکومت نے ہنگامی اقتصادی اقدامات کیلئے تیاری مکمل کر لی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز ہمارے کنٹرول میں، ٹرمپ کے اشاروں پر نہیں کھلے گی: آئی آر جی سی
(۲) عالمی مالیاتی ادارے متحرک، مشترکہ حکمت عملی پر غور
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی ورلڈ، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ، اور عالمی بینک نے ایران جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ’’ہم توانائی کی فراہمی، مالیاتی استحکام اور عالمی مارکیٹ کے تحفظ کیلئے قریبی تعاون کر رہے ہیں۔‘‘ رپورٹس کے مطابق ان اداروں نے توانائی ذخائر کے استعمال، ہنگامی مالی معاونت اور مارکیٹ کی نگرانی بڑھانے پر زور دیا ہے۔ حکام نے کہا کہ جنگ کے باعث توانائی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جس سے ترقی پذیر ممالک زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ عالمی معیشت کو مستحکم رکھنے کیلئے مربوط اقدامات ضروری ہیں اور رکن ممالک کو بحران سے نمٹنے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔
(۳) یورپی گیس قیمتوں میں کمی، جنگ ختم ہونے کے اشاروں کا اثر
یورپ میں گیس کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بڑی وجہ جنگ کے خاتمے سے متعلق سیاسی اشارے ہیں۔ مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق سرمایہ کاروں نے خطرات کم کرنا شروع کیا جس کے نتیجے میں توانائی مارکیٹ میں قیمتیں نیچے آئیں۔توانائی مارکیٹ ذرائع کے مطابق ’’جنگ کے خاتمے کی امید نے قیمتوں کو نیچے لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘‘
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر کشیدگی کم ہوتی ہے تو سپلائی چین میں بہتری آ سکتی ہے اور قیمتیں مزید مستحکم رہ سکتی ہیں۔ یورپی ممالک نے توانائی ذخائر بڑھانے اور متبادل ذرائع تلاش کرنے کیلئے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یورپ میں توانائی کا بحران سنگین: ای یو کی شہریوں سے ’ورک فرام ہوم‘ اور رفتار کی حد کم کرنے کی اپیل
(۴) آبنائے ہرمز بطور ہتھیار، ایران کا عالمی تجارت پر دباؤ
ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول سخت کرتے ہوئے اسے اسٹریٹیجک دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کے اشارے دیے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران جہاز رانی پر پابندیوں اور مخصوص فیس کے نفاذ جیسے اقدامات پر غور کر رہا ہے جس سے عالمی توانائی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ ’’ہم اپنی سمندری حدود میں خودمختار فیصلے کرنے کا حق رکھتے ہیں۔‘‘ یہ راستہ عالمی تیل سپلائی کا بڑا حصہ سنبھالتا ہے اور کسی بھی رکاوٹ سے فوری طور پر عالمی مارکیٹس متاثر ہو سکتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد مخالف ممالک پر معاشی دباؤ بڑھانا اور توانائی کو ایک اسٹریٹیجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ہے۔