Inquilab Logo Happiest Places to Work

پولینڈ کی امریکہ پر شدید تنقید ، ایران جنگ پر اتحادی تقسیم

Updated: April 02, 2026, 7:06 PM IST | Warsaw

ایران جنگ کے معاملے پر عالمی سفارتکاری میں واضح تقسیم سامنے آئی ہے۔ پولینڈ نے امریکہ پر مشاورت نہ کرنے پر تنقید کی جبکہ یورپی یونین نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کا عہد کیا۔ اسی دوران امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان جنگ بندی پر بات چیت بھی ہوئی ہے۔

US President Donald Trump and Saudi Crown Prince Mohammed bin Salman Photo: INN
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمانتصویر: آئی این این

(۱) یورپی یونین کا عہد، ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کا تحفظ
یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ کیلئے اقدامات کرے گا اور اس اہم تجارتی راستے کو کھلا رکھنے کیلئے سفارتی کوششیں تیز کرے گا۔ یورپی حکام کے بیان میں کہا گیا کہ ’’عالمی تجارت کیلئے اس راستے کا کھلا رہنا ضروری ہے اور کسی بھی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘
رپورٹس کے مطابق یورپی ممالک اس معاملے پر مشترکہ حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے رابطے جاری ہیں۔ حکام نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی رکاوٹ سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یورپی یونین نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں اور کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی راستے اختیار کریں تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے سابق مشیر کا نیتن یاہو کے بیٹے کی ایرانی جنگی محاذ پرجلا وطنی کا مطالبہ

(۲) پولینڈ کی تنقید، امریکہ پر مشاورت نہ کرنے کا الزام
پولینڈ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے قبل امریکہ کی جانب سے اتحادیوں کو اعتماد میں نہ لینے پر تنقید کی ہے۔ پولش حکام نے کہا کہ ’’اہم فیصلوں میں اتحادیوں سے مشاورت ضروری ہوتی ہے اور یکطرفہ اقدامات اتحاد کو کمزور کر سکتے ہیں۔‘‘
رپورٹس کے مطابق پولینڈ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ نیٹو اتحادیوں کے درمیان ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔ حکام نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے سفارتی سطح پر اختلافات بڑھ سکتے ہیں اور مشترکہ حکمت عملی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقبل میں ایسے فیصلوں سے پہلے مکمل مشاورت کی جائے تاکہ اتحاد مضبوط رہے اور مشترکہ ردعمل مؤثر ہو۔

(۳) ٹرمپ اور سعودی ولی عہد میں رابطہ، جنگ بندی پر گفتگو
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے رابطہ کر کے ایران جنگ میں جنگ بندی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا۔ ذرائع کے مطابق ’’گفتگو میں علاقائی استحکام اور توانائی سیکوریٹی کو اہم قرار دیا گیا۔‘‘ حکام نے کہا کہ جنگ کے جاری رہنے سے عالمی معیشت اور توانائی مارکیٹ متاثر ہو رہی ہے اور جلد از جلد سفارتی حل ضروری ہے۔ دونوں ممالک نے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: اسرائیل پر میزائل، کویت، بحرین میں ایرانی حملوں سے نقصان

(۴) برطانیہ کا مؤقف، ایران جنگ ہماری لڑائی نہیں
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ برطانیہ کی براہ راست لڑائی نہیں ہے اور وہ اس میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی راستے کو ترجیح دیتے ہیں اور فوجی مداخلت سے گریز چاہتے ہیں۔‘‘ رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے سفارتی اقدامات پر زور دیا ہے۔ حکام نے کہا کہ جنگ کے پھیلاؤ کو روکنا ضروری ہے تاکہ مزید علاقائی عدم استحکام سے بچا جا سکے اور عالمی سطح پر کشیدگی کم ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK