Inquilab Logo Happiest Places to Work

طلبہ مظاہرین کوہراسا ں کئے جانے میں کمی

Updated: August 02, 2026, 11:21 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

مہاراشٹر حکومت کی یقین دہانی اور۳۱؍جولائی کو باقاعدہ حکم نامہ جاری کئےجانے سے راحت۔ مظاہرے میں پیش پیش رہنے والوں نے کہا: پولیس اسٹیشن طلب کرنے اور نوٹس جاری کرنے کا سلسلہ رک گیا ہے۔ ہم سب کیس واپس لینے کی کارروائی پرنگاہ رکھے ہوئے ہیں۔

Young students protesting at Shivaji Park. Photo: INN
شیوا جی پارک میں نوجوان طلبہ احتجاج کرتےہوئے۔ تصویر: آئی این این

حکومتِ مہاراشٹر کی یقین دہانی کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کی حمایت میں مظاہرہ کرنے والوں کو پولیس کا فون آنے، لوکیشن معلوم کرنے اور انہیں پولیس اسٹیشن طلب کرنے میں ممبئی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ پولیس کے اس رویے سے مظاہرین کسی قدر راحت محسوس کررہے ہیں مگر ان کا کہنا ہےکہ مکمل راحت اور اطمینان اسی وقت ہوسکتا ہے جب حسبِ  اعلان تمام کیسزواپس لے لئے جائیں۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ احتجاج کرنے کی پاداش میں۱۲۰۰؍ سے زائد مظاہرین کے خلاف مختلف پولیس اسٹیشنوں میں ۲۰؍ سے زائد ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس میں سب سے زیادہ ۱۷؍ ایف آئی آر شیواجی پارک میں درج کی گئی ہے۔ ان ایف آئی آر کے ذریعے ۷۰۰؍سے زیادہ طلبہ اور مظاہرین کو ملزم گردانا گیا ہے۔ 
مظاہرے میں پیش پیش رہنے والوں نے کیاکہا؟
اے آئی ایس ایف یونین لیڈر اور پیپر لیٖک کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کی حمایت میں مظاہرے میں پیش پیش رہنے والے عامر قاضی نے نمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ریاستی حکومت کی جانب سے وعدہ کے مطابق جمعہ کو معاون سیکریٹری راجیندر ہولکر کے دستخط سے ڈی جی پی کو ایک حکم نامہ جاری کیا گیا ہے، اس کا اثر دیکھنے کو ملنے لگا ہے۔ اس حکم نامے کے بعد مظاہرین کوپولیس اسٹیشن بلانے، ان کے فون لوکیشن معلوم کرنے اورنوٹس وغیرہ جاری کرنے کا سلسلہ رک گیا ہے۔ اس سے ساتھی راحت محسوس کر رہے ہیں مگر مکمل راحت اس وقت ملے گی جب کیسز واپس لے لئے جائیںگے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: مولانا آزاد میٹرنیٹی ہوم شروع نہ ہونے سے ناراضگی

انہوں نے یہ بھی کہاکہ ’’کیسز واپس لینے کا کیا طریقہ ہوگا؟ کب اس کی کارروائی شروع ہوگی؟ اس کا انتظار ہے، اسی کے مطابق آئندہ کے لئے ہم سب اپنی حکمت ِعملی طے کریں گے۔ ‘‘
انہوں نے اپنا تجربہ بھی بتایاکہ’’ چند دن قبل ان کو شیواجی پارک پولیس اسٹیشن بلاکر کئی گھنٹے تک بٹھایا گیا، اس کے بعد پولیس اہلکار ان کے گھر اوردفتر پر آئے مگر اب ایسا نہیں ہے۔ ‘‘ 
پروگامی ودیارتھی سنگھٹا کی صدر اورمظاہرے میں پیش پیش رہنے والی ایڈوکیٹ سامیا کورڈے نے کہا کہ’’۲۶؍جولائی کو شیواجی پارک میں ہونے والے مظاہرےاورپولیس کی سختی کےبعد ۲۷؍ جولائی کو ہم لوگوں نےڈی جی پی سےاور۲۸؍جولائی کو ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی سے ملاقات کی تھی اوران سے پولیس کے طریقۂ کار اورایف آئی آر درج کرنے کی مخالفت کے ساتھ وزیراعلیٰ کوبھی مکتوب روانہ کیا تھا۔ تمام ساتھیوں کی مشترکہ کوششوں کا اثر یہ ہوا کہ حکومت کی جانب سےکیسز واپس لینےکے لئے غیرمشروط حکم نامہ جاری کیا گیاہےجبکہ بہار اورآسام وغیرہ میں کیس واپسی مشروط ہے۔ اس کے بعد سےساتھیوں کو پولیس اسٹیشن طلب کرنے میں کمی آئی ہے، اس سے اطمینان ہوا ہے۔ خود مجھے مظاہرے والے دن میرے گھر میں نظر بند کردیا گیا تھا اور میرے والد شیتکری کامگارپکش کےلیڈر ایڈوکیٹ راجو کورڈے کو صبح سے شام تک وڈالا پولیس اسٹیشن میںبٹھاکر رکھا گیا۔ ‘‘ انہوں نے بھی یہی دہرایا کہ ’’مکمل اطمینان کیس واپس لینے کےبعد ہی ہوگا، ہم سب نگاہ رکھے ہوئے ہیں، اسی کےمطابق آگے عمل کیا جائےگا۔ ‘‘ 
ڈی جی پی کے نام جاری حکم نامے میں کیا کہا گیا؟
حکومتِ مہاراشٹر کی جانب سے ڈی جی پی کے نام جاری حکم نامے میں۲۰؍ستمبر ۲۰۲۲ء۲۱؍ اور۲۱؍ جولائی ۲۶؍کاحوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ’’دہلی میں جنترمنترپرنیٹ (یوجی) امتحان پیپر لیک کے تعلق سے مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں اور طلبہ کے خلاف درج کیس واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس لئے اس مظاہرے میں حصہ لینےوالے نوجوانوں، طلبہ یا دیگر جو اس کا حصہ تھے، قاعدے کے مطابق ان کیخلاف کوئی تعزیری کارروائی نہیں کی جائے گی۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK