اس اسپتال میں ۸۰؍ بیڈ کےساتھ بچوں کا خصوصی وارڈ بھی بنایا گیا ہے۔مقامی کارپوریٹر نے کہا: آلات اورمشینوں کی خریداری کا ٹینڈر جاری کیا گیا ہے، ایمبولنس وغیرہ کے نکلنے کےلئے راستہ بھی بنانا ہے ۔رواں سال کے آخر تک اسے عوام کے لئے شروع کردیا جائے گا۔
EPAPER
Updated: July 30, 2026, 12:17 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Maloni
اس اسپتال میں ۸۰؍ بیڈ کےساتھ بچوں کا خصوصی وارڈ بھی بنایا گیا ہے۔مقامی کارپوریٹر نے کہا: آلات اورمشینوں کی خریداری کا ٹینڈر جاری کیا گیا ہے، ایمبولنس وغیرہ کے نکلنے کےلئے راستہ بھی بنانا ہے ۔رواں سال کے آخر تک اسے عوام کے لئے شروع کردیا جائے گا۔
یہاں کے گیٹ نمبر ۷؍ علاقے میں ہاتھی گارڈن کے پاس وسیع وعریض قطعہ اراضی پر تعمیر کردہ مولانا ابوالکلام آزاد میٹرنیٹی ہوم کی شاندار عمارت مہینوں سے دھول چاٹ رہی ہے ، آج تک اس کا افتتاح نہیں ہوسکا ہے۔ اس میں ۸۰؍بیڈ اوربچوں کی خصوصی نگہداشت والا وارڈ ہوگا۔اسپتال شروع نہ ہونے سے خواتین کو مجبوراً ًدوسرے اسپتالوں گیٹ نمبر ایک، ملاڈ یا کاندیولی شتابدی اسپتال جانا پڑتا ہے یا پھرپرائیویٹ اسپتال کا رخ کرنا پڑتا ہے جس سے انہیں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دھاراوی ری ڈیولپمنٹ کیلئے ملنڈ ڈمپنگ گراؤنڈ کی زمین دینے کی منظوری نہیں ملی
اسپتال کی ضرورت مالونی والوں کی زبانی
اس بارے میں محمود احمدخان نے بتایا کہ ’’میںاس اسپتال کے قریب رہتا ہوں، یہ کافی بڑی عمارت ہے۔اگر اس میٹرنیٹی ہوم کو شروع کردیاجائے تو غریبوں کی بڑی ضرورت پوری ہوجائے گی مگرہر مسئلے میں سیاست حاوی رہتی ہے، اس اسپتال کے تعلق سے بھی سیاست کارفرما ہے ۔‘‘
عبداللہ انصاری نےبتایاکہ ’’ یہ اسپتال کئی سال پہلے اسلم شیخ کے والد سابق کارپوریٹر رمضان علی شیخ (مرحوم )نے شروع کروایا تھا، اس کے بعد خطیرلاگت سے یہ عمارت دوبارہ تعمیر کی گئی ہے مگر اب افتتاح کی راہ دیکھ رہی ہے۔مالونی اتنی بڑی آبادی ہے،اگر میٹرنیٹی ہوم اوربچوں کا وارڈ شروع کردیا جائے تو ہزاروں غریبوں کی بڑی مشکل آسان ہوسکتی ہے، دیکھئے کب اس کا فائدہ غریبوں کو ملتا ہے۔‘‘
اسپتال کے کچھ فاصلے پررہنے والی شانتی دیوی نے بتایاکہ ’’اسپتال کی عمارت تواتنے عرصہ پہلے بن چکی ہے کہ اب اس کا رنگ و روغن خراب ہونے لگا ہےمگر جس مقصد سے بنائی گئی ہے، اس سے غریبوں کوسویدھا نہیں مل رہی ہے ، نہ معلوم وہ دن کب آئے گا جب غریبوں کو دوسرے اسپتالوں کے چکر لگانے کے بجائے انہیں اپنے علاقے میںیہ سہولتیں میسر آئیں گی ۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ۲۳؍ دنوں کی مسلسل مشقت کے بعد گھاٹ سیکشن پر ریل سروس بحال
عبدالرحیم انصاری نےبتایا کہ ’’ آپ خود دیکھ لیجئے کہ عمارت میں کوئی کمی ہے کیا۔ اس سے پہلے بھی ایمبولنس کے لئے راستے کا مسئلہ تھا، مقامی لوگوں کے قبضہ کی شکایت تھی اورکچھ شرپسند عمارت پر پتھر وغیرہ پھینک دیتے تھے جس سے ڈاکٹرڈرتے تھے جبکہ بالکل گیٹ پرہی پولیس چوکی ہے۔مطلب صاف ہے کہ جب سیاستداں حقیقی معنوں میں ان مسائل کو حل کرنا چاہیں گے، مسئلہ حل ہوجائے گا ورنہ سیاست ہوتی رہے گی اورعام شخص سہولت سے محروم رہے گا۔‘‘
ایمبولنس کے لئے کلیئرراستہ نہ ہونا بڑی رکاوٹ
دوسرے یہ کروڑوں روپے کی لاگت سے اسپتال کی شاندار عمارت تو کئی ماہ قبل بن چکی ہےمگر اسپتال سے ایمبولنس کا راستہ نہیں ہے۔اسپتال کے قریب تنگ راستہ، ناجائز قبضے اور گنجلک آبادی بڑا مسئلہ بتایا جارہاہے۔حالانکہ یہ اسپتال کافی پرانا ہے ،اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے ،راستہ کا مسئلے پہلے بھی تھا اور اب بھی برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بابری مسجد کو منہدم نہیں کرنا چاہیے تھا کہنا ملک دشمنی نہیں؛ بامبے ہائی کورٹ
مقامی کارپوریٹر نے کیا کہا
وارڈنمبر۳۴؍ کے کارپوریٹر اورپی نارتھ وارڈ کے پربھاگ سمیتی کے صدر حیدر شیخ جو اسلم شیخ کے بیٹے ہیں ، نے بتایا کہ ’’ مولانا آزاد میٹرنیٹی ہوم میں اسٹاف کا تقرر، ضروری آلات اورمشینوں کی فراہمی وغیرہ کے لئے انہوں نے ایوان میںآواز بلند کی اوراسسٹنٹ میونسپل کمشنر (اے ایم سی )سے بات چیت کی ۔ اس کے لئے ٹینڈر جاری کیا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہاکہ’’ یہاں میٹرنیٹی ہوم کے ساتھ بچوں کا خصوصی وارڈ بھی ہوگا مگرسب سے بڑا مسئلہ اسپتال کے باہر ایمبولنس کے نکلنے کا راستہ نہ ہونا ہے۔ اس کے حل کی کوشش کی جارہی ہے۔‘‘ حیدر علی شیخ کے مطابق ’’ ۲۰۲۶ء ختم ہونے سے قبل مولانا آزاد میٹرنیٹی ہوم کو عوام کے لئے شروع کردیا جائے گا ۔‘‘
یاد رہے کہ یہی وہ مولانا آزاد اسپتال ہے جہاں پہلے بھی دوسری منزل پربچوں کا وارڈ قائم کیا گیا تھا ، مشینیں زنگ کھاگئی تھیں مگر وارڈ شروع نہیںکیا جاسکا تھا ۔