جواد ظریف کو ویزا نہ دینے پرایران اقوام متحدہ سے رجوع

Updated: January 13, 2020, 12:05 PM IST | Agency | Tehran / New York

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو واشنگٹن حکومت کی جانب سے ویزا دینے سےا انکار کرنے معاملے میں اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر ماجد تخت روانچي نے عالمی ادارے مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوغطریس کو خط لکھا ہے۔

جواد ظریف ۔ تصویر : آئی این این
جواد ظریف ۔ تصویر : آئی این این

  تہران ؍ نیویارک : امریکہ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کیلئے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو واشنگٹن حکومت کی جانب سے ویزا دینے سےا انکار کرنے معاملے  میںاقوام متحدہ میں ایران کے سفیر ماجد تخت روانچي نے عالمی ادارے مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ا نتونیو غطریس کو خط لکھا ہے۔ واضح رہے کہ   جواد ظریف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس  کیلئے مدعو تھے لیکن جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد  پیدا ہوئی کشیدگی کے سبب ٹرمپ انتظامیہ نے انہیں امریکہ آنے کیلئے ویزا دینے انکار کیا تھا۔
   ایران کے سفیر نےخط میں لکھا  کہ امریکہ میں ایران کا مستقل مشن اجلاس  کے  میزبان ملک (امریکہ) کی شدید مخالفت کرتا ہے اوراپنے  قانونی  فرائض  ادا کرنے میں  بار بار ناکام رہنے کے ساتھ  سیاسی مفاد  کیلئے کچھ ممالک کے خلاف اقوام متحدہ کی نشست  کا استعمال کرنے کی مسلسل کوشش  کے معاملے میں گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے ۔ ایرانی سفیر کے مطابق موجودہ حالات میں اس بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے خلاف قانونی اقدامات  کئے جانے  کی ضرورت ہے۔ خط میں  یہ باور کرایا گیا کہ میزبان ملک (امریکہ)، اقوام متحدہ اور ایران کے درمیان قانونی تنازع موجود ہے لیکن اپنے فرائض  نبھانے میں امریکہ کے مسلسل ناکام رہنے سے اقوام متحدہ میں ایرانی نمائندوں کا کام کاج  متاثر ہوا ہے  اور واشنگٹن حکومت کے طرز عمل سے امریکہ کی  مسلسل ناکامی کی تصدیق ہوتی ہے ۔
  سفیر نے  مزید لکھا کہ  اقوام متحدہ کے طریقہ کار پر سوال کھڑا کرنے والے اس طرح کے اقدام کو ختم کرنے کیلئے ’هیڈكوارٹر ایگریمنٹ‘ کی دفعہ۲۱؍ کے  تحت ایران اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے مداخلت کی اپیل کرتا ہے۔ معاہدے کے مطابق میزبان ملک ہونے کی وجہ سے امریکہ کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے حکام کو اس کے کسی بھی اجلاس میں شریک ہونے کی راہ میں رکاوٹ پیدا نہیں کرنی  چاہئے ۔ یہ اقدام ناقابل قبول ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK