اقوام متحدہ میں چینی سفیر نے کہا’’ایران کوچاہئے کہ وہ آبنائے ہرمز پر عائد کردہ پابندیاں ختم کرے اور امریکہ کو اپنا بحری محاصرہ ختم کرنا چاہئے۔‘‘
EPAPER
Updated: May 03, 2026, 1:21 PM IST | Geneva
اقوام متحدہ میں چینی سفیر نے کہا’’ایران کوچاہئے کہ وہ آبنائے ہرمز پر عائد کردہ پابندیاں ختم کرے اور امریکہ کو اپنا بحری محاصرہ ختم کرنا چاہئے۔‘‘
اقوام متحدہ میں چین کے سفیر فو کونگ نےصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جنگ میں سیز فائر برقرار رکھنا ایک فوری ضرورت ہے، انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اگر سمندری گزرگاہ کی بندش جاری رہی تو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے رواں ماہ دورہ چین کے دوران آبنائے ہرمز کا معاملہ دو طرفہ مذاکرات کے ایجنڈے میں سرِ فہرست ہوگا۔
فو کونگ نے اس ضرورت پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو جلد از جلد دوبارہ کھولا جانا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین ان حالیہ بیانات پر سخت تشویش محسوس کر رہا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ سیز فائر عارضی ہے اور حملوں کے ایک نئے دور کی ضرورت ہے۔انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا’’ایران کوچاہئے کہ وہ آبنائے ہرمز پر عائد کردہ پابندیاں ختم کرے اور امریکہ کو اپنا بحری محاصرہ ختم کرنا چاہئے۔‘‘سے اہم معاملہ سیز فائر کو برقرار رکھنا ہے۔ جنگ بندی جاری رہنی چاہیے اور دونوں فریقین کے درمیان نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہئیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا: ”میرا خیال ہے کہ یہ عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ متحرک ہو اور دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے خلاف آواز بلند کرے۔‘‘رواں ماہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے طے شدہ دورہ چین کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر فو کونگ نے جواب دیا ”مجھے یقین ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین تک آبنائے ہرمز بند رہا تو یہ معاملہ دو طرفہ بات چیت کے ایجنڈے میں سرفہرست ہوگا۔‘‘فو کونگ نے بعض امریکی حکام کی جانب سے چین اور ایران کے درمیان فوجی تعاون کے الزامات کو ’جھوٹ‘ قرار دیا۔
فو کونگ نے یہ بریفنگ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک ماہ کی مدت کیلئے چین کی صدارت شروع ہونے پر دی اور بتایا کہ چینی وزیر خارجہ وانگ ای ۲۶؍ مئی ۲۰۲۶ءکو کونسل کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔