اُدھو کو سپریم کورٹ سے راحت، اراکین کی نااہلی پر روک

Updated: July 12, 2022, 10:53 AM IST | new Delhi

عدالت نے اپنے سابقہ اعلان کے مطابق شیوسینا اور باغی خیموں کی پٹیشنوں  پر پیر کو سماعت نہیں کی مگر اسپیکر کو اُدھو کے وفادار اراکین کے خلاف فیصلے سے روک دیا

Shiv Sena leader and former chief minister Uddhav Thackeray has been active on the ground to strengthen the party. (PTI)
شیوسینا لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ اُدھو ٹھاکرے پارٹی کو مضبوط کرنے کیلئےزمینی سطح پر سرگرم ہوگئے ہیں۔ ( پی ٹی آئی)

   اُدھو ٹھاکرے کے وفادار اراکین اسمبلی کو بڑی راحت دیتے ہوئے پیر کو سپریم کورٹ نے مہاراشٹر کے نومنتخب اسپیکر راہل نارویکر کوان کے خلاف کسی بھی طرح کی کارروائی سے روک  دیا ہے۔  واضح رہے کہ شیوسینا کے باغی  ایکناتھ شندے کے گروپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد تحریک اعتماد پر ووٹنگ کے دوران اُدھو کے وفادار اراکین اسمبلی کی جانب سے  حکومت کے خلاف ووٹنگ کو وہپ کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسپیکر سے انہیں نااہل قرار دینے کی مانگ کی تھی۔  شندے گروپ کا دعویٰ ہے کہ اصل شیوسینا وہی ہے اور اسپیکر نے ان  ہی کے گروپ کے لیڈر کو شیوسینا کے چیف وہپ کے طور پر بھی قبول کیا ہے۔  پیر کو سپریم کورٹ میں اس سلسلے میں ۷ـ؍ پڑیشنوں پر شنوائی ہونی تھی مگر حیرت انگیز طور پر یہ  معاملہ عدالت میں پیر کو لسٹ ہی نہیں ہوا۔
  اس سلسلے میں جب سینئر وکیل کپل سبل نے چیف جسٹس کی توجہ مبذول کرائی اور فوری شنوائی کا مطالبہ کیاتو چیف جسٹس نے  جواب دیا کہ ابھی وہ فوری طور پر معاملے کی شنوائی کیلئے تاریخ نہیں دے سکتے کیوں کہ اس کیلئے باقاعدہ بنچ تشکیل دینی پڑے گی۔تاہم انہوں نے سبل کی نشاندہی پر اُدھو ٹھاکرے کے حامیوں کو یہ راحت دیدی کہ ان کے خلاف وہب کی خلاف ورزی کی پاداش میں اسپیکر کے پاس جو درخواست زیر التوا ہے اس پر کارروائی نہیں ہوسکتی۔ شیوسینا نے عدالت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
 اس سے قبل کپل سبل نے مہاراشٹر کے مذکورہ معاملات کے زیر سماعت نہ آنے پر چیف جسٹس آف انڈیا این وی رامنا ، جسٹس کشن مراری اور جسٹس ہیما کوہلی کی بنچ  کے سامنے مہاراشٹر کی پٹیشنوں کا معاملہ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ ’’عدالت  نے ہی کہاتھا کہ ان معاملوں پر ۱۱؍ جولائی کو سماعت ہوگی۔ اب میں عدالت سے درخواست کرتا ہوں کہ جب تک معاملے کا فیصلہ نہ آجائے کسی رکن اسمبلی کو نااہل نہ قرار دیا جائے۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہماری  جانب سے باغیوں  کی نااہلی کے تعلق سے جو پٹیشن داخل کی گئی ہے اس پر منگل کو سماعت ہوگی۔  بہرحال اب جب تک سپریم کورٹ میں شنوائی نہیں ہوجاتی، کسی کی نااہلی کا فیصلہ (اسپیکر کےذریعہ) نہیں ہونا چاہئے۔‘‘
 واضح رہے کہ پیر کو سپریم کورٹ میں مہاراشٹر کے تعلق سے ۷؍ پٹیشنوں پر شنوائی ہونی تھی۔ان میں  پہلی پٹیشن ایکناتھ شندے گروپ کی تھی جس میں انہوں نے شیوسینا کے عہدہ سے انہیں ہٹانے اوراجے چودھری کو پارٹی کی قانون ساز پارٹی کا لیڈر نیز سنیل پربھو کو چیف وہپ مقرر کئے جانے کو چیلنج کیاتھا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی نااہلی کے تعلق سے  اس وقت کے اسپیکر کی جانب  سے جاری ہونے والے نوٹس کو بھی چیلنج کیا ہے۔  انہوں  نے اس وقت کے اسپیکر نرہری زروال  پر عدم اعتماد کے تعلق سے بھی ایک پٹیشن داخل کی تھی۔ا ن تینوں  پٹیشنوں پر سپریم کورٹ میں پیر کو شنوائی ہونی تھی۔ ان کے ساتھ ہی ساتھ شیوسینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کی جانب سے داخل کی گئی ۴؍ پٹیشنوں پر بھی پیر کو فیصلہ ہوناتھا۔ان میں مہاراشٹر میں  نئی حکومت کی تشکیل،گورنر کا شندے کو حکومت سازی کو دعوت دینا اور پارٹی  کے اراکین اسمبلی کو نااہلی کے نوٹس شامل تھے۔  اس کے ساتھ ہی اُدھو ٹھاکرے نے گورنر کے اس فیصلے کو بھی سپریم کورٹ  میں چیلنج کیا ہے جس میں انہیں ۴۸؍ گھنٹوں میں اکثریت ثابت کرنے کا حکم دیاگیاتھا ۔  یاد رہے کہ اکثریت ثابت کرنے کے بجائے اُدھو ٹھاکرے نے استعفیٰ دے دیاتھا جس کے بعد شندے نے اقتدار سنبھال لیا ہے۔ سپریم کورٹ نے پیر کو سالیسٹر جنرل تشار مہتا کو حکم دیا کہ ’’آپ برائے مہربانی اسپیکر کو مطلع کر دیں  کہ وہ کسی بھی طرح کا کوئی فیصلہ نہ کریں۔ ہمیں  اس معاملے کو دیکھنے دیں، ہم سماعت کریں گے۔‘‘ سالیسٹر جنرل نے وضاحت کی کہ وہ حالانکہ  گورنر کی پیروی کررہے ہیں مگر عدالتی حکم سے اسپیکر کو آگاہ کردیں گے۔ 
 اس بیچ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے کہا کہ گوکہ سپریم کورٹ نے  شیوسینا کے ایم ایل ایز کی نااہلی کی درخواست پر فیصلہ بنچ کے حوالے کردیا ہے پھربھی قانونی پہلوؤں پر غور وخوض کرنے کے بعد عدالت کا فیصلہ حکومت کے خلاف جا سکتا ہے۔اس لیے ریاست میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت غیر آئینی ہے اور اس حکومت کی تشکیل کے حوالے سے اب تک جو بھی فیصلے لیے گئے ہیں وہ بھی غیر آئینی ہیں۔   لونڈھے نے کہا کہ سپریم کورٹ کا باغی ایم ایل ایز کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ بنچ کے حوالے کرنے سے دو تین باتیں واضح ہوجائیں گی۔پہلی یہ کہ ودھان سبھا کے ڈپٹی اسپیکر نے جو فیصلہ لیا تھا کیا وہ مناسب تھا؟ دوسری یہ کہ عدالت نے راجندر سنگھ رانا کے معاملے میں پہلی فہرست کو مدنظر رکھے جانے کے لیے کہا تھا۔ اس لیے اس کے بعد کی تمام کارروائیاں مثلاً گورنر کے ذریعے ودھان سبھا کے چیئرمین کا انتخاب کیا جانا، گورنر کے ذریعے اعتماد کی ووٹنگ کی منظوری دینی جیسی کارروائیاں قانونی طورپر مناسب تھیں کیا؟  ماہرین کا موقف یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ  باغیوں کے خلاف جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK