Updated: November 05, 2026, 6:02 PM IST
| Navi Mumbai
ملک کے اہم ترین ہوائی اڈوں میں شمار ہونے والے ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بڑھتے ہوئے فضائی ٹریفک اور طیاروں کی آمد و رفت کے دباؤ کے درمیان اڈانی ایئرپورٹس ہولڈنگز کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) ارون بنسل نے ایئرلائنز کو ایک اہم پیغام دیا ہے۔
ارون بنسل۔ تصویر:آئی این این
ملک کے اہم ترین ہوائی اڈوں میں شمار ہونے والے ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بڑھتے ہوئے فضائی ٹریفک اور طیاروں کی آمد و رفت کے دباؤ کے درمیان اڈانی ایئرپورٹس ہولڈنگز کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) ارون بنسل نے ایئرلائنز کو ایک اہم پیغام دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ایئرلائنز کو ممبئی ایئرپورٹ پر پروازوں کے لیے درکار سہولت اور گنجائش نہیں مل رہی ہے تو انہیں نوی ممبئی منتقل ہونے یا ممبئی کے لیے پروازیں بند کرنے کے متبادل پر غور کرنا چاہیے۔
ارون بنسل کے اس بیان نے ممبئی اور نوی ممبئی کے درمیان ہوائی سفر کے مستقبل، ایئرپورٹ کی گنجائش اور فضائی ٹریفک کی تقسیم سے متعلق بحث کو ایک مرتبہ پھر تیز کردیا ہے۔ ان کے بیان کا بنیادی مقصد ممبئی ایئرپورٹ پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنا اور نوی ممبئی کے نئے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو فضائی ٹریفک کے ایک بڑے مرکز کے طور پر فروغ دینا سمجھا جا رہا ہے۔
ارون بنسل نے یہ بیان ۳؍ نومبر کو نئی دہلی میں انڈیا ایوی ایشن سمٹ ۲۰۲۶ءکے موقع پر دیا۔ ان کے مطابق ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل ون کی تعمیرِ نو کے پیش نظر اپریل ۲۰۲۷ء سے بعض ایئرلائنز کو اپنی پروازوں کے آپریشن میں تبدیلی کرنا ہوگی۔ ایسی بین الاقوامی ایئرلائنز جو نوی ممبئی ایئرپورٹ منتقل ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں، انہیں ممبئی خطے میں اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کرنے کا متبادل بھی دیا گیا ہے۔بنسل نے ایئرلائنز کی صورتِ حال بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایئرپورٹ انتظامیہ نے انہیں اپریل سے موجودہ سہولتیں خالی کرنے کے لیے کہہ دیا ہے۔ اس کے بعد وہ کہاں سے اپنا آپریشن جاری رکھنا چاہتی ہیں، یہ ان کا اپنا فیصلہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایئرلائنز کو نوی ممبئی منتقل ہونے یا کچھ عرصے کے لیے ممبئی کے لیے پروازیں روکنے میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ٹرمینل ون تقریباً ۶۰؍ سال پرانا ہے۔ اس کی عمارت اور بنیادی ڈھانچے کی خستہ حالی اور حفاظتی خدشات کے پیش نظر اس کی تعمیرِ نو کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ٹرمینل ون کے بعض حصوں کو مرحلہ وار بند کرکے دوبارہ تعمیر کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:الیانا ڈی کروز کیمرے کے سامنے آنے سے بھی ڈرتی تھیں، پہلی ہی فلم پر’فلم فیئر‘ مل گیا
اس تعمیرِ نو کے نتیجے میں ممبئی ایئرپورٹ پر پروازوں کی گنجائش عارضی طور پر متاثر ہوگی۔ ٹرمینل ون سے آپریٹ ہونے والی گھریلو پروازوں کو ٹرمینل ٹو منتقل کرنا ہوگا، جس سے ٹرمینل ٹو پر بھی اضافی دباؤ پڑے گا۔ اسی وجہ سے بعض بین الاقوامی پروازوں کو نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ منتقل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ایئر پورٹ انتظامیہ کے مطابق ٹرمینل ون کی تعمیرِ نو جنوری ۲۰۲۷ء سے شروع کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ اس کے ایک حصے کی تعمیرِ نو کے لیے پروازوں کے آپریشن میں مرحلہ وار تبدیلیاں کی جائیں گی۔ تعمیرِ نو مکمل ہونے کے بعد ٹرمینل ون کی سالانہ مسافر گنجائش ۱۵؍ ملین سے بڑھ کر ۲۰؍ ملین ہوجائے گی۔
ممبئی ایئرپورٹ سے کئی دہائیوں سے پروازیں چلانے والی غیر ملکی ایئرلائنز کے لیے اپنے آپریشن کو دوسرے ہوائی اڈے پر منتقل کرنا آسان نہیں ہے۔ ان ایئرلائنز نے نوی ممبئی منتقل ہونے کے سلسلے میں مسافروں کی سہولت، دونوں ہوائی اڈوں کے درمیان فاصلے، کارگو کی سہولتوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے سے متعلق خدشات ظاہر کیے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق لفتھانزا گروپ اور سنگاپور ایئرلائنز نے ابھی تک اپنے آپریشن نوی ممبئی منتقل کرنے کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے، جبکہ امارات ایئرلائنز نے بھی نئے ہوائی اڈے پر ضروری سہولتوں کی مکمل دستیابی سے متعلق تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ خاص طور پر بین الاقوامی پروازوں کے لیے کیٹرنگ، کارگو گودام اور دیگر معاون سہولتوں کی دستیابی اہم ہے۔ ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ دو الگ الگ ہوائی اڈوں سے ایک ہی شہر کے لیے پروازیں چلانے سے انتظامی اور آپریشنل مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:۸۰؍ فیصد نوجوان ہفتہ وار چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتے ہیں: اوپن اے ائی عہدیدار
دوسری جانب ہندوستانی ایئرلائنز نے نوی ممبئی ایئرپورٹ منتقل ہونے کے منصوبے پر پیش رفت شروع کردی ہے۔ انڈیگو، ایئر انڈیا گروپ اور آکاسا ایئر نے اپنی بعض پروازوں کو مرحلہ وار نوی ممبئی منتقل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ایئر انڈیا گروپ کے منصوبے کے مطابق ایئر انڈیا ایکسپریس دسمبر ۲۰۲۶ء سے نوی ممبئی ایئرپورٹ سے روزانہ چار گھریلو پروازیں شروع کرے گی۔ اس کے بعد جنوری ۲۰۲۷ء سے عمان اور کویت کے لیے بین الاقوامی پروازیں شروع کرنے کا منصوبہ ہے، جس میں کویت کی پروازیں متعلقہ منظوری سے مشروط ہیں۔
اسی طرح انڈیگو فروری سے جولائی ۲۰۲۷ء کے درمیان ممبئی سے اپنی ۱۲؍ روزانہ بین الاقوامی روانگیوں کو مرحلہ وار نوی ممبئی منتقل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ آکاسا ایئر بھی اپنی بعض بین الاقوامی پروازیں نئے ہوائی اڈے سے چلانے کی تیاری کررہی ہے۔ نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ممبئی اور اطراف کے علاقوں میں بڑھتی ہوئی فضائی سفری ضروریات پوری کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے پہلے مرحلے میں سالانہ ۲؍ کروڑ مسافروں کو سنبھالنے کی گنجائش رکھی گئی ہے، جس میں ڈیڑھ کروڑ گھریلو اور ۵۰؍ لاکھ بین الاقوامی مسافر شامل ہیں۔