• Thu, 05 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برازیل میں فٹبال کا انوکھا واقعہ، ایک میچ میں ۵۱ ؍ریڈ کارڈ دکھا دیے گئے

Updated: November 05, 2026, 8:09 PM IST | Brasillia

برازیل میں فٹبال کے ایک انڈر ۲۰؍ میچ کے دوران ایسا غیر معمولی واقعہ پیش آیا جس نے کھیل کی دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ میچ کے دوران دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں، کوچنگ اسٹاف اور دیگر افراد کے درمیان زبردست جھڑپ کے بعد ریفری نے مجموعی طور پر ۵۱؍ ریڈ کارڈ دکھائے۔

Red Card.Photo:X
ریڈ کارڈ۔ تصویر:ایکس

 برازیل میں فٹبال کے ایک انڈر ۲۰؍ میچ کے دوران ایسا غیر معمولی واقعہ پیش آیا جس نے کھیل کی دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ میچ کے دوران دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں، کوچنگ اسٹاف اور دیگر افراد کے درمیان زبردست جھڑپ کے بعد ریفری نے مجموعی طور پر ۵۱؍ ریڈ کارڈ دکھائے۔ اس واقعے نے ایک ہی فٹبال میچ میں سب سے زیادہ کھلاڑیوں اور عملے کو میدان سے باہر بھیجے جانے کا سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔ یہ مقابلہ برازیل کی ریاست میناس گیریس کے انڈر ۲۰؍ چیمپئن شپ کے سیمی فائنل کے پہلے مرحلے میں اوبرلینڈیا (Uberlandia) اور مامورے (Mamoré) کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:رنبیر کپور اور یش کی’’رامائن‘‘ ایڈوانس بکنگ میں ’’چنئی ایکسپریس‘ سے بھی پیچھے

اطلاعات کے مطابق میچ کے دوسرے ہاف میں اس وقت حالات کشیدہ ہوگئے جب مامورے کے کھلاڑی ڈاوی نے اپنی ٹیم کا تیسرا گول کیا اور اسکور ۱۔۳؍ ہوگیا۔ گول کا جشن مناتے ہوئے ڈاوی نے مبینہ طور پر مخالف ٹیم کے بینچ کی جانب اشتعال انگیز اشارے کیے، جس پر اوبرلینڈیا کے کھلاڑی اور عملہ برہم ہوگیا۔ اس دوران اوبرلینڈیا کے گول کیپر کوچ پاؤلو سرجیو ڈیاس ڈوس سانتوس میدان میں داخل ہوئے اور ڈاوی سے الجھ پڑے۔ دیکھتے ہی دیکھتے دونوں ٹیموں کے کھلاڑی بھی اس جھڑپ میں شامل ہوگئے اور میدان میدانِ جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔
 جھگڑا صرف میدان میں موجود کھلاڑیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ متبادل کھلاڑی، کوچنگ اسٹاف اور ٹیموں سے وابستہ دیگر افراد بھی اس میں شامل ہوگئے۔ بعض اطلاعات کے مطابق جھڑپ کے دوران کرسیاں، اسٹریچرز اور دیگر اشیا بھی استعمال کی گئیں۔ یہاں تک کہ بال بوائز کے بھی تشدد میں شامل ہونے کی خبریں سامنے آئیں۔ حالات کو قابو میں کرنے میں تقریباً ۴۰؍ منٹ لگے اور مقامی ملٹری پولیس کو بھی اسٹیڈیم پہنچنا پڑا۔
ریفری فرنانڈو پیٹرک ڈروسغک موڈیسٹو نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ جھڑپ اتنی شدید تھی کہ میدان میں موجود تمام متعلقہ افراد کو فوری طور پر ریڈ کارڈ دکھانا ممکن نہیں رہا۔ اس لیے میچ ختم کرنے کے بعد ان کے نام اور اخراج کی تفصیلات سرکاری رپورٹ میں درج کی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ۴۳؍ کھلاڑیوں اور دونوں ٹیموں کے کوچنگ اسٹاف کے ۸؍ ارکان سمیت ۵۱؍ افراد کو ریڈ کارڈ دکھائے گئے تھے۔ تاہم بعد میں سامنے آنے والی تفصیلی رپورٹ میں دو کلب عہدیداروں کو بھی شامل کرتے ہوئے مجموعی تعداد ۵۳؍ بتائی گئی۔
 واقعہ کے بعد اسٹیڈیم میں بھی بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی اطلاعات سامنے آئیں۔ برازیلی میڈیا کے مطابق اسٹیڈیم کے کئی دروازے توڑ دیے گئے، کھڑکیوں کو نقصان پہنچایا گیا اور شاور کی سہولتوں سمیت دیگر سامان بھی تباہ ہوا۔ پولیس کو اس معاملے میں مداخلت کرنا پڑی۔ ریفری نے اپنے خلاف دھمکیوں کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ اس سلسلے میں پولیس میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔ مامورے کی ٹیم کے ڈریسنگ روم کو نقصان پہنچانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

یہ بھی پڑھئے:کرسٹیانو رونالڈو کا پرتگال کی قومی فٹ بال ٹیم سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

 اس واقعہ سے پہلے ایک فٹبال میچ میں سب سے زیادہ ریڈ کارڈ دکھائے جانے کا ریکارڈ ارجنٹائنا کے ایک مقابلے کے نام تھا۔ فروری ۲۰۱۱ء میں پانچویں درجے کی لیگ کے دوران کلے پولے اور وکٹوریانو اریناس کی ٹیموں کے درمیان میچ میں ۳۶؍ ریڈ کارڈ دکھائے گئے تھے۔ اس مقابلے میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں اور متبادل کھلاڑیوں کو میدان سے باہر بھیجا گیا تھا۔ برازیل کے میچ میں سامنے آنے والی ۵۱؍ یا بعد کی رپورٹ کے مطابق ۵۳؍ اخراج کی تعداد نے اس سابقہ ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ تاہم اس نئے ریکارڈ کی باضابطہ منظوری کے حوالے سے مختلف رپورٹوں میں فرق پایا جاتا ہے۔واقعہ کے بعد اوبرلینڈیا نے سیمی فائنل کے دوسرے مرحلے میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا۔ کلب کے مطابق بڑے پیمانے پر ریڈ کارڈ دیے جانے کے بعد مامورے کے پاس میچ کھیلنے کے لیے مطلوبہ تعداد میں اہل کھلاڑی دستیاب نہیں تھے۔ اوبرلینڈیا نے اپنے فیصلے کو کھیل کے جذبے اور فیئر پلے سے جوڑتے ہوئے دوسرے مرحلے سے دستبرداری اختیار کرلی، جس کے نتیجے میں مامورے کو فائنل میں جگہ مل گئی۔ اوبرلینڈیا اب تیسری پوزیشن کے مقابلے پر توجہ دے گی۔  برازیل کے اس واقعہ نے فٹبال میں نظم و ضبط، کھیل کے جذبے اور کھلاڑیوں کے رویے پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ ایک ایسے کھیل میں جہاں ریفری کا فیصلہ اور کھلاڑیوں کا احترام بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، وہاں درجنوں افراد کا تشدد میں شامل ہونا نہ صرف کھیل کی ساکھ کے لیے تشویش ناک ہے بلکہ میدان میں حفاظت کے انتظامات پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK