• Thu, 05 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی وسط مدتی انتخابات: ایلون مسک کو ۶۰؍ ارب ڈالر سے زائد کا نقصان

Updated: November 05, 2026, 8:09 PM IST | Washington DC

مسک نے ان انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں کی کامیابی کے لیے تقریباً ۴۴۶؍ ملین ڈالر خرچ کیے تھے، لیکن ان کی مالی حمایت کے باوجود بیشتر امیدوار کامیاب نہیں ہوسکے۔ انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ٹیسلا (Tesla) اور اسپیس ایکس (SpaceX) کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔

Elon Musk.Photo:INN
ایلون مسک۔ تصویر:آئی این این

 دنیا کے امیر ترین شخص اور ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک کو امریکہ کے وسط مدتی انتخابات   میں ریپبلکن امیدواروں کی بڑی شکست کے بعد ۶۰؍ ارب ڈالر سے زائد کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسک نے ان انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں کی کامیابی کے لیے تقریباً ۴۴۶؍ ملین ڈالر خرچ کیے تھے، لیکن ان کی مالی حمایت کے باوجود بیشتر امیدوار کامیاب نہیں ہوسکے۔ انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ٹیسلااور اسپیس ایکس   کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں مسک کی مجموعی دولت میں بھی بڑی کمی واقع ہوئی۔ 
امریکہ میں ۳ ؍نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں کامیابی حاصل کی۔ اس انتخابی نتیجے کو ریپبلکن پارٹی اور اس کے حامیوں کے لیے بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔ ایلون مسک نے انتخابات سے قبل ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں بھاری رقم خرچ کی تھی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) کے ذریعے بھی ان کے حق میں مہم چلائی تھی۔ تاہم ان کی حمایت یافتہ امیدواروں کی بڑی تعداد شکست سے دوچار ہوگئی۔ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایوانِ نمائندگان کے لیے مسک کے حمایت یافتہ ۴۳؍ ریپبلکن امیدواروں میں سے صرف ۳ ؍کامیاب ہوئے، جبکہ ۳۳؍ امیدوار ہار گئے اور دیگر نشستوں کے نتائج اس وقت تک زیرِ التوا تھے۔ سینیٹ کے لیے حمایت یافتہ سات ریپبلکن امیدواروں میں سے چھ کو شکست ہوئی۔ 

یہ بھی پڑھئے:کرسٹیانو رونالڈو کا پرتگال کی قومی فٹ بال ٹیم سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

ایلون مسک کے لیے سب سے بڑا سیاسی دھچکا ٹیکساس میں سامنے آیا، جہاں ان کی کمپنیوں ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے اہم کاروباری مراکز قائم ہیں۔ مسک نے ٹیکساس میں ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کے لیے تقریباً ۲۳۰؍ ملین ڈالر خرچ کیے تھے، لیکن اس کے باوجود ڈیموکریٹک امیدوار جیمز تالاریکو نے ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست حاصل کرلی۔ اسی طرح ڈیموکریٹک امیدوار جینا ہینوجوسا نے ریپبلکن گورنر گریگ ایبٹ کو شکست دے کر ٹیکساس کی گورنر شپ حاصل کی۔ ان نتائج نے مسک کی سیاسی حکمت عملی اور انتخابات میں بھاری مالی سرمایہ کاری کے اثرات پر بھی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ 
انتخابی نتائج کے بعد سرمایہ کاروں نے ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے مستقبل سے متعلق خدشات کا اظہار کیا، جس کا اثر دونوں کمپنیوں کے حصص پر پڑا۔ رپورٹس کے مطابق انتخابی نتائج کے بعد ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے حصص میں مختلف تجارتی اوقات کے دوران تین سے پانچ فیصد سے زیادہ تک کمی دیکھی گئی۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کی مضبوط پوزیشن کے بعد مسک کی کمپنیوں کے سرکاری معاہدوں، اے آئی منصوبوں، ڈیٹا سینٹرز اور اسٹارلنک کے کاروبار کی زیادہ سخت جانچ پڑتال ہوسکتی ہے۔ ان خدشات نے مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ بڑھایا اور مسک کی دولت میں نمایاں کمی کا سبب بنے۔ 

یہ بھی پڑھئے:آج کے دور میں سیکوریٹی کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس ہوتی ہے: سیف علی خان

حصص کی قیمتوں میں گراوٹ کے ابتدائی مرحلے میں ایلون مسک کی دولت کو ۶۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ نقصان پہنچنے کا تخمینہ سامنے آیا تھا۔ تاہم مختلف مالیاتی اداروں اور میڈیا رپورٹس میں نقصان کی رقم مختلف بتائی گئی ہے۔ بلومبرگ کے ارب پتیوں کے اشاریے کے حوالے سے بزنس انسائیڈر نے رپورٹ کیا کہ بدھ کے روز مسک کی دولت میں تقریباً ۳۳؍ ارب ڈالر کی کمی ہوئی اور ان کی مجموعی دولت تقریباً ۸۶۵؍ ارب ڈالر رہ گئی۔ فوربز کی ایک رپورٹ میں بھی بدھ کی دوپہر تک تقریباً ۳۴ء۵؍ ارب ڈالر کی کمی کا تخمینہ دیا گیا تھا۔ اس لیے ۶۰؍ ارب ڈالر سے زائد کا اعداد و شمار ابتدائی یا مختلف مارکیٹ تخمینوں سے متعلق ہے، جبکہ دن کے اختتام کے الگ الگ جائزوں میں نقصان کی رقم مختلف رہی۔ اس کے باوجود مسک دنیا کے امیر ترین شخص برقرار رہے۔ 
 انتخابات میں کامیابی کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ایلون مسک کی کمپنیوں اور ان کے سرکاری معاہدوں کی مزید جانچ پڑتال کریں گے۔ اس میں اسپیس ایکس کے ناسا اور امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ معاہدے، اسٹارلنک کی سرگرمیاں، اے آئی ڈیٹا سینٹرز اور سابقہ سرکاری ذمہ داریوں کے دوران مسک کے کردار جیسے معاملات شامل ہوسکتے ہیں۔ ڈیموکریٹک لیڈروں کی جانب سے انتخابی مہم میں بڑے عطیہ دہندگان کے اثر و رسوخ اور سیاسی مالی معاونت کے قوانین میں اصلاحات پر بھی زور دیا جارہا ہے۔ کانگریس میں پارٹی کی مضبوط پوزیشن مسک کی کمپنیوں کے لیے مستقبل میں قانونی اور ضابطہ جاتی چیلنجز پیدا کرسکتی ہے۔  

یہ بھی پڑھئے:دبئی میں ہندوستان اور پاکستان کے باکسرز کے درمیان کشیدگی

مسک کی کمپنیوں کے لیے ایک اور اہم مسئلہ ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت  کے منصوبے ہیں۔ ٹیکساس کی نومنتخب گورنر جینا ہینوجوسا پہلے ہی نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر عارضی پابندی لگانے کی حمایت کرچکی ہیں، تاکہ بجلی اور پانی کے استعمال کے اثرات کا جائزہ لیا جاسکے اور مقامی آبادی کے مفادات کا تحفظ ہو۔ اسپیس ایکس اور مسک کے دیگر منصوبوں میں ڈیٹا سینٹرز اور جدید کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کی توسیع اہمیت رکھتی ہے۔ اگر نئی انتظامیہ اور کانگریس کی جانب سے سخت ضابطے نافذ کیے جاتے ہیں تو ان منصوبوں کی رفتار اور لاگت دونوں متاثر ہوسکتی ہیں۔ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد ایلون مسک نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ شاید ان کے ’’انتخابات پر اثر انداز ہونے والے خلائی لیزر‘‘ اس مرتبہ کام نہیں آئے۔ انہوں نے خلا میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے منصوبے کو بھی اب زیادہ پرکشش قرار دیا۔ ان کے ان تبصروں کو انتخابی نتائج اور ٹیکساس میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی کامیابی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK