Inquilab Logo Happiest Places to Work

اُردو سے تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر پھر ایکسائز افسر اور اب ڈی ایس پی تک کا شاندار سفر

Updated: August 24, 2026, 10:30 AM IST | Sheikh Ikhalque Ahmed | Mumbai

حنا قاسم فوپلنکر کی غیر معمولی کامیابی: کوکن کے چھوٹے سے گاؤں سے نکل کر ترقی کی اونچائیوں کو چھو ا، مسلم طالبات کیلئے عزم و حوصلہ کی علامت بن گئیں۔

Hina Qasim Foplinkar. Picture: INN
حنا قاسم فوپلنکر۔ تصویر: آئی این این

کوکن کے ایک چھوٹے سے گاؤں سائی سے نکل کر ڈاکٹر بننے، سرکاری ملازمت حاصل کرنے ، کم وبیش ۷؍  سال تک ایکسائز محکمہ میں بطور انسپکٹر خدمات انجام دینے اور پھر مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (ایم پی ایس سی)کے امتحان میں کامیابی حاصل کرکے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس/ اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس جیسے باوقار عہدہ  کیلئے منتخب ہونا کسی خواب سے کم نہیں لیکن ایک ۱۰؍ ویں پاس ایس ٹی بس ڈرائیور کی بیٹی  ڈاکٹر حنا قاسم فوپلُنکر  نے اپنے عزم، محنت، مستقل مزاجی اور حوصلہ سے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: لوک سبھا اجلاس ملتوی مگر اب بھی جاری!

مادری زبان  اور اساتذہ کار ول

ان کی کامیابی  اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ مادری زبان سے تعلیم کے بعد ترقی کی جو راہیں  کھلتی ہیں ان کا کوئی مقابلہ نہیں ۔  اردو  سےتعلیم  حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کیلئے ڈاکٹر حنا قاسم کا سفر امید، حوصلے اور خود اعتمادی کاپیغام ہے۔ ڈاکٹر حنا قاسم فوپلُنکر نے اپنی ابتدائی تعلیم آر زیڈ پی اردو اسکول، سائی سے حاصل کی۔ اسی اسکول نے ان کے تعلیمی سفر کی بنیاد کو مضبوط کیا ۔ پھر انہوں   نےایڈووکیٹ ہارون سولکر ہائی اسکول، سائی سے دسویں  اور ایس ایس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج، موربہ سے بارہویں(سائنس)کر کے  ۲۰۱۴ء میں  بی ایچ ایم  ایس مکمل کرکے ڈاکٹر بن گئیں۔   وہ اپنی کامیابی میں اپنے اساتذہ کے کردار کو نہایت اہم قرار دیتی ہیں۔  ان کے مطابق  خاص طور سے سائی اور موربہ کے اساتذہ نے  انہیں تعلیمی رہنمائی فراہم کی  اور  اعلیٰ تعلیم  کے ذریعہ زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔انقلاب سے خصوصی گفتگو میں ڈاکٹر حنا قاسم فوپلُنکر نے بتایا کہ’’کھارگھر میں بی ایچ ایم ایس   کے دوران مجھے سرکاری ملازمتوں اور مسابقتی امتحانات کے بارے میں معلوم ہوا۔‘‘

گریجویشن کے بعد انہوں نے  ایک سال مختلف اسپتالوں میں خدمات انجام دیں۔اسی دوران انہیں ساوتری بائی پھلے یونیورسٹی کا مسابقتی امتحان کی مفت تیاری کے پروگرام کا اشتہار نظر آیا۔ داخلہ امتحان میں کامیابی کے بعد انہیں تقریباً ۲؍برس تک مفت رہائش اور تیاری کی سہولت مل گئی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’اسی دوران میں نے ایکسائز انسپکٹر کے امتحان کے تمام مراحل کامیابی سے عبور کئے۔‘‘

  ایکسائز محکمہ میں تقرری

۲۰۱۸ء  میں ڈاکٹر حنا قاسم  نے حکومت مہاراشٹر کے ایکسائز محکمہ میں بطور انسپکٹر اپنی سرکاری خدمات کا آغاز کیا  اور تقریباً ۷؍برسوں کے دوران  اندھیری، ماٹونگا اور چمبور جیسے علاقوں میں خدمات انجام یں۔  اس کے باوجود مطمئن نہ ہونےوالی حنا نے  انقلاب کو بتایا کہ ’’دل میں کسک تھی کہ مجھے مزید کچھ کرنا ہے۔ میں نے اپنی سرکاری ڈیوٹی  انجام دیتے ہوئے پڑھائی جاری رکھی۔‘‘یہی جذبہ آگے چل کر ان کی سب سے بڑی طاقت ثابت ہوا۔

ایم پی ایس سی اور ۸؍ ماہ کی قانونی لڑائی

۲۰۲۳ءمیں انہوں نے  ایم پی ایس سی کا امتحان دیا اور تینوں مراحل کامیابی سے عبور کرلئے لیکن میڈیکل  کے مرحلہ  میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ فائنل میرٹ لسٹ میں جگہ نہ بنا سکیں۔ ۲۰۲۴ء میں  انہوں نے ایک بار پھر امتحان دیا اور کامیابی حاصل کی مگر پھر فائنل لسٹ سے ان کا نام غائب تھا جس کے بعد انہوں نے اس کو قانونی طور پر چیلنج  کیا اور  بالآخر اپنا حق حاصل کی۔  انہوں نے بتایا کہ ’’آٹھ ماہ تک مجھے اپنے حق کیلئے قانونی جدوجہد کرنا پڑی۔ آپ کو نظام کے اندر رہتے ہوئے، مقررہ دائرۂ کار میں رہ کر اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا ہوتی ہے اور یہ کوئی آسان کام نہیں۔ بالآخر فیصلہ میرے حق میں آیا اور میری جیت ہوئی۔‘‘

اس قانونی کامیابی کے بعد ڈاکٹر حنا قاسم فوپلُنکر کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس /اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس  کے عہدہ کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔ وہ اس وقت مہاراشٹر پولیس اکیڈمی ،ناسک میں تربیت حاصل کر رہی ہیں۔

والد بس ڈرائیور 

ڈاکٹر حنا قاسم  کے والد   ایس ٹی  میں بس ڈرائیور تھے مگر اپنی دونوں بیٹیوں کو بہتر اور معیاری تعلیم دلانے کیلئے  انہوں نے بیرونِ ملک کویت جانے کا فیصلہ کیا، جہاں ایک نجی کمپنی میں ڈرائیور کی حیثیت سے تقریباً ۱۰؍برس تک کام کیا۔ڈاکٹر حنا کہتی ہیں کہ ’’میری کامیابی میں میرے والدین کی  قربانیاں شامل ہیں۔  ن کی دعائیں اور محنت ہی ہیں جن کے نتیجے میں میں آج اس مقام تک پہنچی ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:دنیا کے سب سے کم عمر پروفیسرتھامس پڑھانے کیساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کررہے ہیں

اردو  میڈیم طلبہ کیلئے روشن مثال

ڈاکٹر حنا قاسم کی کامیابی اردو ذریعۂ تعلیم سے وابستہ طلبہ و طالبات کیلئےخصوصی اہمیت  کی حامل ہے۔ سائی جیسے نسبتاً چھوٹے گاؤں کے اردو اسکول سے تعلیم حاصل کرنے والی  اس طالبہ نے نہ صرف ڈاکٹر بننے کا خواب پورا کیا بلکہ سرکاری ملازمت میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور اب پولیس انتظامیہ کے ایک اہم عہدے کی ذمہ داری سنبھالنے جارہی ہیں۔  ان کے مطابق  اردو کسی طالب علم کی صلاحیتوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں، بشرطیکہ طالب علم اپنی زبان کے ساتھ ساتھ علم، مہارت، مسابقتی امتحانات اور جدید مواقع سے خود کو جوڑنے کیلئے تیار ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK