Inquilab Logo Happiest Places to Work

واشم میں حیران کن واقعہ: ۱۲؍سال پہلے کھودے گئے بورویل سے گرم پانی آنے لگا

Updated: August 24, 2026, 10:48 AM IST | Ali Imran | Washim

متعلقہ محکمہ نے فوری طورپر گاؤں کا دورہ کیا۔ نمونے جانچ کیلئے ناگپورکی لیباریٹری بھیجے گئے۔ لوگوں کواس پانی کو پینے یا کھانا پکانے کیلئے استعمال نہ کرنے کی ہدایت۔

People are looking with amazement at the hot water coming from the borewell. Picture: INN
بورویل سے آنے والےگرم پانی کو لوگ تعجب سے دیکھ رہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

ضلع کے راجورا گاؤں میں حال ہی میں ایک حیران کن واقعہ نے شہریوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ گاؤں کے ایک ۱۲؍سال پرانے بورویل سے پچھلے ۲۰ ؍سے ۲۵ ؍دن سے مسلسل گرم پانی آ رہا ہے۔ عام طور پر ٹھنڈا اور سادہ پانی فراہم کرنے والے اس بورویل سے اچانک گرم پانی  آنے سے گاؤں والوں میں کافی تجسس، حیرت اور کسی حد تک خوف پیدا ہوگیا ہے۔ مقامی  افراد کی معلومات کے مطابق یہ بورویل تقریباً ۱۲؍سال پرانا ہے اور اب تک اس کے ذریعے سادہ اور پینے کے قابل پانی لوگ استعمال کرتے رہے۔ تاہم پچھلے تین چار ہفتوں سے اس بورویل میں پانی کا درجہ حرارت اچانک بڑھ گیا اور اس سے گرم پانی نکال رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی پربی جے پی کی تنقید، جواب طالبات نے دیا

یہ واقعہ علاقہ مکینوں کیلئے  حیرت سے کم نہیں۔ اس گرم پانی کو دیکھنے کیلئے ہر روز گردونواح سے لوگ بڑی تعداد میں جمع ہو رہے ہیں۔ اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ نے فوری طور پر گاؤں کا دورہ کیا اور بورویل کے پانی کی ابتدائی جانچ کی جس میں چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی ہے۔ اس گرم پانی میں مختلف کیمیکلز کی مقدار کافی حد تک بڑھ گئی ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ پانی انسانی صحت کیلئے انتہائی مضر اور پینے کے بالکل قابل نہیں ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ اس پانی کو پینے یا کھانا پکانے کیلئے استعمال نہ کریں۔

یہ بھی پڑھئے: ناگپور : ایس آئی آر پر سوالیہ نشان، سوا لاکھ لاپتہ ووٹرس مہم ختم ہونے کے بعد ملے

بورویل سے اچانک گرم پانی کیوں نکل رہا ہے؟ کیا زیر زمین درجہ حرارت بڑھا ہے یا کیمیائی عمل ہو رہا ہے؟ اس پر گہرا اور سائنسی مطالعہ ضروری ہو گیا ہے۔ اس لئے اس بورویل سے پانی کے نمونے اکٹھے کر کے تفصیلی اور اعلیٰ سطحی جانچ کیلئے ناگپور کی لیباریٹری میں بھیجے گئے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK