Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناگپور : ایس آئی آر پر سوالیہ نشان، سوا لاکھ لاپتہ ووٹرس مہم ختم ہونے کے بعد ملے

Updated: August 24, 2026, 10:43 AM IST | Ali Imran | Nagpur

انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ فوت شدہ اور نقل مکانی کرنے والے ووٹرس کو شامل کرنے کی وجہ سے ناقابل شناخت ووٹرس کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

Under the SIR campaign, the BLO was required to visit every voter`s home to fill out registration forms. Picture: INN
ایس آئی آرمہم کے تحت بی ایل او کو ہر ووٹر کے گھر جا کر رجسٹریشن فارم پُر کرنا تھا۔ تصویر: آئی این این

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ایس آئی آر مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کو مرحلہ وار ملک بھر میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن شروع سے ہی اس مہم پر اعتراض کرتی آرہی ہے اور جن ریاستوں میں یہ مہم چلائی گئی وہاں کروڑوں ووٹروں کے نام لسٹ سے خارج ہوگئے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ یہ مہم حکمراں جماعت کے فائدے کیلئے ہے اور اپوزیشن کے ووٹروں کے نام کم کئے جا رہے ہیں۔ تاہم ناگپور میں اس کے برعکس تصویر سامنے آئی ہے۔ ایس آئی آر مہم ختم ہونے کے بعد انتظامیہ کو تقریباً ڈیڑھ لاکھ لاپتہ ووٹرس مل گئے۔ تاہم وہ کہاں اور کیسے پائے گئے، اس سوال کا جواب نہیں مل سکا۔ اس مہم کے تحت بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) کو ہر ووٹر کے گھر جا کر رجسٹریشن فارم پُر کرنا تھا جس کے بعد یہ فارم کمپیوٹرائزڈ کیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے:اُردو سے تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر پھر ایکسائز افسر اور اب ڈی ایس پی تک کا شاندار سفر

ایس آئی آر کی گھر گھر جا کر فارم جمع کرنے کی مہم ۱۷ ؍اگست کو ختم ہوگئی۔ مہم کے اختتام کے آخری دن تک نہ پہنچنے والے ووٹرس کی تعداد ۵؍لاکھ ۴۶ ہزار ۱۴۹ ؍تھی۔ ناگپور میں ۴۶۳۸۵۸۹ ؍ووٹر ہیں۔ ایس آئی آر مہم ۱۷؍ اگست کو ختم ہونے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے ۱۸؍اگست کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق ۳۱۹۴۵۷۳ ؍ووٹرس کی درخواستوں کو ڈیجیٹل کیا گیا تھا جبکہ ۱۴؍لاکھ ۴۴؍ہزار ۴۰۵ ؍ووٹرس کی درخواستیں جمع نہیں ہوئی تھیں۔ اس میں ۵؍لاکھ ۴۶؍ہزار ۱۴۹ ؍غیر رجسٹرڈ ووٹرس شامل تھے۔ ضلعی محکمہ سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق غیر رجسٹرڈ ووٹرس کی حتمی تعداد ۴؍ لاکھ ۲۰؍ ہزار ۳۸ ؍ ہے۔ ان سب کو نوٹس جاری کئے جائیں گے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق ۱۸؍اگست اور ۲۱؍اگست کو لاپتہ ووٹرس کی تعداد میں ایک لاکھ ۲۶؍ہزار ۱۱۱ ؍کی کمی ہوئی۔ انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ فوت شدہ اور نقل مکانی کرنے والے ووٹرس کو شامل کرنے کی وجہ سے ناقابل شناخت ووٹرس کی تعداد میں کمی آئی ہے لیکن مہم ختم ہونے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انتظامیہ کو ۳؍ دن میں اتنے ووٹرس کیسے اور کہاں سے ملے؟ 

یہ بھی پڑھئے:راہل گاندھی پربی جے پی کی تنقید، جواب طالبات نے دیا

اس سوال پر سب ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر ڈاکٹر رچنا اندورکر نے عجیب دلیل دیتے ہوئے کہا کہ نقل مکانی کرنے والے ووٹرس کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں اور فوت شدہ ووٹرس کی درخواستوں کی تعداد میں بھی کمی آئی  جس کے نتیجے میں تقریباً سوا لاکھ ووٹرس  میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم یہ ان ووٹرس کے نام کہاں اور کیسے آئے یہ سوال اب بھی باقی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK