Inquilab Logo Happiest Places to Work

اتراکھنڈ: نوجوان نے بنائی اڑنے والی گاڑی، کامیاب ٹیسٹ فلائٹ

Updated: August 08, 2026, 5:02 PM IST | Almora

اتراکھنڈ کے الموڑا ضلع سے تعلق رکھنے والے نوجوان روی تامتہ نے اپنی کمپنی Hapida Sky Private Limited کے تحت ایک سیٹ والی اڑنے والی گاڑی تیار کرکے اس کی پہلی کامیاب ٹیسٹ فلائٹ مکمل کرلی۔ HAPIDA SKYNeX پروٹو ٹائپ نامی اس گاڑی کو موجودہ ڈرون ٹیکنالوجی میں تبدیلی اور بہتری کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

حاصل کرلی ہے۔ HAPIDA SKYNeX پروٹو ٹائپ نامی Single-Seater گاڑی کو الموڑا میں ایک کھلے میدان میں اڑایا گیا، جہاں اس کے تجرباتی پرواز کے کامیاب ہونے کے بعد اس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کرنے لگی ہیں۔ تامتہ نے یہ پروٹوٹائپ اپنی کمپنی Hapida Sky Private Limited کے تحت کئی برس کی تحقیق کے بعد تیار کیا ہے۔ روی تامتہ کا تعلق الموڑا کے قریب واقع کافلی خان گاؤں سے ہے۔ ان کی تیار کردہ گاڑی مکمل طور پر بجلی سے اڑتی ہے۔ اس کا بنیادی تصور موجودہ ڈرون ٹیکنالوجی میں تبدیلی اور بہتری لاکر اسے انسان کو لے جانے کے قابل بنانا ہے۔ تامتہ کے مطابق ان کی ٹیم نے اسی ٹیکنالوجی کو آگے بڑھاتے ہوئے ایسا پروٹو ٹائپ تیار کیا جس میں ایک شخص پرواز کرسکتا ہے۔

الموڑا میں ہونے والی کامیاب ٹیسٹ فلائٹ اس منصوبے کے لیے اب تک کا سب سے اہم مرحلہ ہے۔ تامتہ نے اس کامیابی کے بعد کہا کہ ’’آج میری زندگی کا بہت بڑا دن ہے۔ مجھے بے حد خوشی اور فخر ہے کہ HAPIDA SKYNEX کی پہلی کامیاب پرواز برسوں کی تحقیق، جدوجہد، تجربات اور مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔‘‘ تامتہ نے اپنی اس کوشش کو محض ایک Experimental Machine قرار دینے کے بجائے ہندوستان میں Personal Sky Mobility کے ایک نئے تصور کی جانب ابتدائی قدم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ذاتی سفر صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی آسمان کو سفر کے ایک نئے راستے کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔

۴۰؍ کلومیٹر کا سفر ۱۰؍ سے ۱۵؍ منٹ میں؟ 

روی تامتہ کے لیے Flying Vehicle کا تصور محض تکنیکی تجربہ نہیں بلکہ ان کے ذاتی سفر کے مسئلے سے بھی جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے گاؤں اور گھر کے درمیان تقریباً ۴۰؍  کلومیٹر کا فاصلہ ہے، لیکن پہاڑی سڑکوں کی وجہ سے اس سفر میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ تامتہ کا کہنا ہے کہ اگر Personal Flying Vehicle مستقبل میں مطلوبہ سطح پر تیار اور منظور ہوجاتا ہے تو اسی فاصلے کو تقریباً ۱۰؍ سے ۱۵؍ منٹ میں فضائی راستے سے طے کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق یہی تصور پہاڑی علاقوں کے لیے خاص طور پر اہم ہوسکتا ہے، جہاں جغرافیائی حالات کی وجہ سے مختصر فاصلہ بھی سڑک کے ذریعے طویل سفر میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ 

تاہم کامیاب ٹیسٹ فلائٹ کا مطلب یہ نہیں کہ گاڑی فوری طور پر Commercial Flights کے لیے تیار ہوگئی ہے۔ تامتہ نے خود واضح کیا ہے کہ پروٹو ٹائپ کو مزید ٹیسٹنگ سے گزرنا ہوگا اور اسے Commercial Deployment سے قبل ضروری Regulatory Approvals حاصل کرنا ہوں گے۔ اس لیے موجودہ مرحلے کو ایک اہم Technical Milestone تو قرار دیا جاسکتا ہے، لیکن اسے مکمل تجارتی کامیابی یا Market-ready Flying Car کہنا درست نہیں ہوگا۔ 

یہ بھی پڑھئے: گجرات ہائی کورٹ نے مُندرا میں مسلم عبادت گاہوں کے انہدام پر روک لگادی

وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر کی مبارکباد

پروٹوٹائپ کی کامیاب پرواز کے بعد اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی اور مرکزی وزیر برائے شہری ہوا بازی رام موہن نائیڈو کنجراپو نے بھی روی تامتہ کو مبارکباد دی۔ پشکر سنگھ نے ایکس پر لکھا کہ ’’الموڑا، اتراکھنڈ کے نوجوان Innovator روی تامتہ جی کو Drone Technology میں جدت لاتے ہوئے HAPIDA SKYNeX پروٹو ٹائپ کی کامیاب Flight Test پر دلی مبارکباد۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی صرف اتراکھنڈ کے نوجوانوں ہی نہیں بلکہ ملک بھر کے نوجوانوں کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔ دھامی نے مزید کہا کہ ’’آپ کی یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں Talent، Innovation اور Scientific Thinking کی کوئی کمی نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں بھی آپ Science and Technology کے میدان میں اپنی Innovations کے ذریعے نئی بلندیوں کو چھوئیں گے۔‘‘ 

مرکزی وزیر شہری ہوا بازی رام موہن نائیڈو نے بھی تامتہ کی کامیابی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’روی تامتہ جیسے Innovators کو یہ ثابت کرتے دیکھنا بہت اچھا ہے کہ Talent کی کوئی جغرافیائی حد نہیں ہوتی۔‘‘ انہوں نے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی جانب سے نوجوان Innovators کی حوصلہ افزائی کو بھی سراہا اور کہا کہ ’’وزیر اعظم نریندر مودی جی کی قیادت میں ہندوستان کا Innovation Ecosystem ترقی کر رہا ہے اور ملک کے ہر کونے سے نئی کامیابیاں سامنے آرہی ہیں۔‘‘ نائیڈو نے تامتہ سے جلد ملاقات کی امید بھی ظاہر کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK